وزراء کی کارکردگی: وزیر اعظم کے لئے بڑا چیلنج

وزراء کی کارکردگی: وزیر اعظم کے لئے بڑا چیلنج
وزراء کی کارکردگی: وزیر اعظم کے لئے بڑا چیلنج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میرا خیال ہے جنہیں وزیر بنایا جاتا ہے، اُن کی پہلے دو ہفتے کی تربیت ہونی چاہئے، یکدم پورے ملک یا پورے صوبے کے وزیر بن کر اور جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھ کر دل و دماغ میں جو ہیجان پیدا ہوتا ہے، اُس سے بچنے کے لئے ایک احتیاطی تربیت ضروری ہے، جووزارت کے آداب او دیگر امور کے بارے میں بتاسکے۔ خاص طور پر وزیر اطلاعات بننے کے لئے بہت زیادہ مہارت، علم اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر اطلاعات درحقیقت حکومت کی زبان ہوتا ہے، اُس کے منہ سے نکلے ہوئے لفظوں پر میڈیا اور عوام یقین رکھتے ہیں، پھر یہ بھی ہے کہ اُس کے اندر مخالفانہ رد عمل برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔

پارٹی کا ترجمان ہونا اور بات ہے اور وزیر اطلاعات ہونا دوسری بات۔ ماضی میں بہت نامور لوگ وزیر اطلاعات رہے ہیں، ماضی قریب میں مشاہد حسین سید، قمرزماں کائرہ اور پرویز رشید حتیٰ کہ مریم اورنگ زیب جیسی نو آموز وزیر اطلاعات نے کڑے وقت میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ تحریک انصاف کی حکومت کو تو ویسے ہی بہت زیادہ چیلنجوں کا سامنا ہے، اُس کی رائی بھی پہاڑ بناکر پیش کی جارہی ہے، عمران خان نے اپنے تیءں دو ایسے نوجوانوں کو اطلاعات کے وفاقی و صوبائی قلمدان سونپے ہیں، جو پارٹی سے وفادار ہیں اور عمران خان کے مشن سے بھی قطعی اتفاق رکھتے ہیں۔ یعنی وفاق میں فواد چودھری اور صوبے میں فیاض الحسن چوہان، فواد چودھری کو تو خیر کافی تجربہ ہوچکا ہے، وہ پارٹی ترجمان اور بعدازاں پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ابھی تک وہ پارٹی ترجمان کے لبادے کو اتار نہیں سکے۔ اُن کا لب و لہجہ بھی وہی ہے اور دلائل بھی اُسی قسم کے ہیں، حالانکہ اب وہ ملک کے وزیر اطلاعات ہیں، اُن کی ایک ایک بات میڈیا پر براہ راست نشر ہوتی ہے اور اخبارات میں شہ سرخوں کے ساتھ چھپتی ہے، وہ اگر غیر سنجیدہ اور مزاح کے انداز میں کسی سنجیدہ بات کا جواب دیں گے تو پھر لطیفے تو بنیں گے، مضحکہ تو اڑایا جائے گا، آج کل حالات کچھ ایسے ہیں کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایم پی اے بھی حرکت کرتا ہے، تو اُسے بھول کر سیدھا پارٹی کے چیئرمین اور ملک کے وزیر اعظم عمران خان پر چڑھائی کر دی جاتی ہے اور جملہ یہی ہوتا ہے ’’کیا یہی ہے وہ نیا پاکستان جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا‘‘۔

مثلاً فواد چودھری کا سب سے بڑا بلنڈر جواب تک سامنے آیا ہے، وہ ہیلی کاپٹر سے متعلق اُن کا بیان ہے۔ کم سے کم لفظوں میں بھی اسے ایک مضحکہ خیز بیان قرار دیا جاسکتا ہے، آخر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ہیلی کاپٹر پر فی کلو میٹر 55روپے خرچ آتا ہے، پھر جب تنقید ہوئی تو کہا گیا کہ یہ معلومات گوگل سے لی گئی تھیں، آخر اس قدر معذرت خواہانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی، سیدھی طرح یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر کا استعمال وزیر اعظم کا استحقاق ہے، اس لئے وہ کریں گے، اسے سستے یا مہنگے کے ترازو میں ڈالنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔ جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے تو اس کو واپس لانے کے جتنے بھی جتن کئے جاتے ہیں، وہ مزید تضحیک کا باعث بنتے ہیں، وہی معاملہ یہاں بھی ہوا، عجیب و غریب تاویلیں گھڑ کر اس مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جو چیزیں وزیر اعظم کے منصب کی ضرورت ہیں، ان پر معذرت کیوں کی جا رہی ہے، ہیلی کاپٹر کے بغیر وزیر اعظم ملک بھر میں کیسے جا سکتا ہے۔ اس کے لئے انہیں جہاز بھی دیا گیا ہے۔ بات اگر کرنی بھی تھی تو صرف اس قدر کی جاتی کہ ہیلی کاپٹر صرف وزیر اعظم استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہیں نہ جائیں کوئی دوسرا اُسے استعمال نہیں کر سکتا۔ وزیر اعظم اس میں ایک بار جائیں یا سو بار کوئی قانون قاعدہ ان پر قدغن نہیں لگاتا۔ لگتا ہے فواد چودھری اپوزیشن کے ہاتھوں ٹریپ ہو گئے۔ خورشید شاہ نے تو صرف ازراہِ تفنن ہی کہا تھا کہ عمران خان روزانہ پرائم منسٹر ہاؤس سے بنی گالا ہیلی کاپٹر پر آتے جاتے ہیں، جس پر تین لاکھ روپے خرچ آتا ہے، اول تو اس کی وضاحت دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی، دینی بھی تھی تو کسی دلیل اور ضابطے کے حوالے سے دی جاتی، یہاں اس کا 55 روپے فی کلومیٹر خرچ بتا دیا گیا، اس پر پنڈورا بکس تو کھلنا ہی تھا۔ اب عبدالغفور حیدری جیسے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سروس اتنی سستی ہے تو انہیں بھی دی جائے، حالانکہ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر کا حصول ہی سب سے مہنگا ہوتا ہے۔پھر اس کے پائلٹ کی تنخواہ اور دیگر اخراجات ، فیول تو بہت بعد میں آتا ہے وزیر اعظم عمران خان کو چونکہ ہیلی کاپٹر بھی میسر ہے اور پائلٹ بھی اس لئے وہ استعمال کریں یا نہ کریں، ان کا خرچ تو قومی خزانے پر پڑتا رہے گا۔ ان کا اضافی خرچ صرف فیول جیٹ کا استعمال ہے۔ اب اس بات پر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر سروس اتنی سستی ہے تو ہمیں بھی استعمال کرنے دی جائے۔ جو استحقاق وزیر اعظم کا ہے، وہ کسی دوسرے کو کیسے مل سکتا ہے۔

اب آتے ہیں پنجاب کی طرف، جہاں عمران خان نے پارٹی کے ایک کارکن کو صوبے کا وزیر اطلاعات بنایا ہے۔ فیاض الحسن چوہان ٹی وی ٹاک شوز میں اونچا بولنے اور بازاری طرز کے جملے مارنے میں خاصا نام کما چکے ہیں، شاید یہ اس وقت کی ضرورت ہوگی۔ لیکن صوبے کا وزیر اطلاعات بن کر وہ ایسی کوئی بات نہیں کرسکتے، انہوں نے پہلی غلطی تو یہ کی کہ حلف اٹھانے کے بعد اگلے دن ہی صحافیوں سے ملاقات کا پروگرام بنالیا۔ شاید یہ بھی ان کے اندر کی جذباتی سرشاری تھی کہ وہ میڈیا کے سامنے آنے سے خود کو باز نہ رکھ سکے، اگر شعیب بن عزیز ان کے اِردگرد ہوتے تو انہیں روکتے اور دو چار دن صبر کا کہتے۔ لیکن وہاں چونکہ سیکرٹری اطلاعات بلال بٹ ہیں، جو شریف اور بھلے مانس آدمی ہیں، ملتان میں بطور کمشنر ان کا بہت اچھا وقت گزرا، انہوں نے فیاض الحسن چوہان کی خواہش پر اخبار نویسوں کو بلا لیا۔ اس پریس کانفرنس میں صاف لگ رہا تھا کہ وزیرموصوف بغیر تیاری کے آئے ہیں،حتیٰ کہ اس ایشو پر بھی ان کی تیاری نہیں جو اس وقت برننگ ایشو تھا، یعنی ڈی پی او پاک پتن کا تبادلہ،جب اس پر ان سے سوالات ہوئے تو اس بات سے بھی لاعلم تھے کہ ڈی پی او کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بلا کر معافی کا کہا تھا یا نہیں۔ پھر وہ اس معاملے کو پولیس کا اندرونی معاملہ قرار دیتے رہے، حالانکہ سب کو معلوم تھا کہ اس کا پس منظر کیا ہے۔

اب ایک وڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جو ان کے پلاک لاہور میں ایک تقریب کے دوران خطاب پر مبنی ہے، جس میں موصوف خواتین کی موجودگی میں ایسی بہکی باتیں کر جاتے ہیں جو اخلاقی گرفت کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسی شام وہ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پروگرام میں گئے اور میزبان کے سوالات پر اس قدر سیخ پا ہوئے کہ مائیک اتار کر پھینک دیا اور ان کی زبان سے نکلی گالی بھی آن ائر چلی گئی۔ کم از کم میرے لئے تو یہ سب کچھ بہت مایوس کن ہے۔ اتنے بڑے صوبے کا وزیراطلاعات اتنا غصے والا نہیں ہونا چاہیے، اس کے لئے تو کسی بردبار، متحمل اور نقطہ ء نظرکے اختلاف کو برداشت کرنے والا شخص چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان شاید وضع داری یا پارٹی کے لئے خدمات کو پیش نظر رکھ کر کچھ لوگوں کے حوالے سے کمزور فیصلے کر گئے ہیں۔ گھوڑے کی چال کا پتہ تبھی چلتا ہے جب وہ میدان میں اترتا ہے۔ مجھے یقین ہے وہ مرکز اور صوبوں میں اپنی ٹیم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انہیں اندازہ ہے کہ کون کس پوزیشن پر درست کھیل رہا ہے اور کون کیچ ڈراپ کر رہا ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک کالم میں کہا تھا کہ عمران خان نے جن لوگوں کو وزیر بنایا ہے، وہ وزارت کے خمار میں کبھی مبتلا نہ ہوں، بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسی ایجنڈے کو پورا کرنے پر توجہ دیں جو ان کے کپتان نے بائیس سالہ جدوجہد کے بعد سیٹ کیا ہے۔ غور کیا جائے تو وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے بارہ دنوں میں بہت کام کیا ہے۔ بڑے فیصلے کئے ہیں اور پیسہ بچانے کے لئے تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں، مگر یہ سب باتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں اور ہر طرف ہیلی کاپٹر نیز پاکپتن کے ڈی پی او کی کہانی کا ذکر ہو رہا ہے۔یہ کوئی اچھی شروعات نہیں، پارٹی کی سینیئر قیادت کو ان معاملات پر نظر رکھنی ہوگی،وگرنہ ہر روز اسی قسم کا تماشا لگا رہے گا، جس میں اچھے فیصلے دب کر رہ جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم