کرتار پور کوریڈور اور بھارتی فوج

کرتار پور کوریڈور اور بھارتی فوج
کرتار پور کوریڈور اور بھارتی فوج

  

گزشتہ دنوں بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے آئے۔ جنرل قمرجاوید باجوہ ان سے چند لمحوں کے لئے ملے اور جب انہوں نے سدھو سے کہا کہ وہ باباگورونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور کوریڈور کھول دیں گے۔ تو بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جذبات سے بے قابو ہو گئے۔ انہوں نے گرم جوشی کے ساتھ جنرل قمرجاوید باجوہ کو اس طرح زور سے جپھی ڈالی جیسی مشرقی پنجاب میں باجوہ اور سدھو جاٹ ڈالتے ہیں۔ جہاں سدھو ان چند لمحوں کو حاصل زندگی قرار دیتے ہیں کہ ان سے پاکستانی آرمی چیف نے غیر معمولی محبت اور تپاک کا اظہار کیا۔وہاں اس سے بھارت میں ایک طوفان بپا ہو گیا۔ بھارتی میڈیا نے زوروشور سے سدھو کو غدار وطن قرار دینا شروع کر دیا۔ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی درج ہو گیا۔ خود ان کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ان کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر بھارت میں ان کے حق میں بھی آوازیں بلند ہوئیں۔ کانگریس کی راہنما سونیا گاندھی نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔

سدھو بھارت پہنچے تو میڈیا چینل ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے بڑے تحمل اور بردباری سے ہر سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انہیں نہ صرف حکومت، بلکہ عوام نے بھی غیر معمولی محبت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان انہیں محبت سے بلائیں گے تو پھر وہ ضرور جائیں گے۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو دلائل سے لاجواب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب انہیں پہلی صف میں بیٹھنے کے لئے کہا گیا تو وہ مہمان کی صورت میں انکار نہیں کر سکتے تھے اور جب جنرل باجوہ نے انہیں بتایا کہ وہ باباگورونانک کی 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور کوریڈور کھول دیں گے تو وہ خوشی سے نہال ہو گئے۔انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اتنا کچھ مل گیا ہے، جس کا وہ تصور نہیں کر سکتے تھے۔

سدھو سکھ ہیں۔ بابا گرونانک کے پیروکار ہیں۔ ہر سکھ کی طرح کرتار پور کی یاترا ان کے لئے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ننگے پاؤں کانٹوں پر چل کر بھی کرتارپور کی دھرتی پر جانے کے لئے بے قرار ہیں۔ کرتار پور وہ سرزمین ہے جہاں بابا گورونانک نے اپنی زندگی کے آخری سال گزارے تھے۔ وہ ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے۔ محبت اور اپنے فلسفے کی تبلیغ کے لئے انہوں نے پوری دنیا کا سفر کیا۔ انہوں نے سکھ دھرم کی بنیاد رکھی جو بنیادی طور پر تین ستونوں پر استوار ہے۔ خدا کی بندگی کرو، خدا کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ دوسرا اپنے ہاتھ سے محنت کر کے روزی کماؤ اور تیسرا اس روزی میں دوسروں کو بھی شریک کرو۔سکھوں کے گوردوارے میں مسلمان، ہندو، عیسائی غرض ہر شخص داخل ہو سکتا ہے۔ ان سب کو لنگرخانے سے لنگر ملتا ہے۔ بعض گورودواروں میں رہائش کا انتظام بھی ہے۔ نارووال سے شکرگڑھ جاتے ہوئے جسڑ ریلوے سٹیشن پر نظر پڑتی ہے تو ایک اداسی چھا جاتی ہے۔

اب یہ ریلوے ٹریک بند ہو چکا ہے اور اس ریلوے سٹیشن پر مقامی باشندوں نے بھینسیں باندھ رکھی ہیں۔ چند سال پہلے یہاں مسافروں کی آمدورفت ہوتی تھی مگر اب ریلوے ٹریک پر جھاڑیاں اگ آئی ہیں اور آہستہ آہستہ یہاں جنگل پھیلتا ہوا نظر آتا ہے۔ برادر محترم راشد عثمانی اور عزیزم شہزاد احمد کے ساتھ ہم بابا گورونانک کی آخری آرام گاہ کرتار پور جا رہے تھے۔گھنے درختوں کے درمیان خوبصورت سڑک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی شکرگڑھ کی طرف جا رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد سڑک کی دائیں طرف پیلے رنگ کا ایک بورڈ نظر آیا جو بتا رہا تھا کہ گورودوارہ دربار صاحب کرتار پور صاحب یہاں سے ڈھائی کلومیٹر دور ہے۔ جیسے ہی ہم ذیلی سڑک پر اترے ہمیں دور گورودوارہ صاحب کی خوبصورت عمارت نظر آنے لگی۔ گورودوارہ کے منتظم اندرجیت سنگھ، شہزاد احمد کے دوست ہیں۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی کا خوب انتظام کر رکھا تھا۔ گورودوارہ صاحب کے دروازے پر ہارن دیا تو گارڈ آ گیا۔ جیسے ہی ہم نے انہیں اپنا تعارف کرایا گیٹ کھل گیا اور گاڑی اندر داخل ہو گئی۔

گورودوارہ کرتار پور صاحب سکھوں کا انتہائی مقدس مقام ہے۔ بابا گورونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال یہاں گزارے۔ 1521ء میں وہ اس دوردراز علاقے میں آئے اور انہوں نے کھیتی باڑی کی تبلیغ کی۔ سکھ دھرم کے بنیادی اصول واضح کئے۔ سکھوں کی مقدس گرنتھ صاحب میں بابافرید کا کلام بھی شامل ہے اور سکھوں کے مقدس ترین مقام اکال تخت کا سنگ بنیاد مسلمان بزرگ میاں میرؒ سے رکھوایا گیا تھا۔ بابا گورونانک مسلمانوں سے بڑی محبت کرتے تھے۔ وہ سر زمین حجاز بھی گئے۔ گورودوارہ کے صحن میں ایک قبر ہے ،جبکہ عمارت کے اندر ایک سمادھی ہے۔ ان دونوں کا تعلق باباگورونانک سے ہے۔ ان کے متعلق سکھوں میں ایک روایت ہے جو گورودوارہ میں ایک بورڈ پر درج ہے۔ اس بورڈ پر لکھا ہے:’’بابا جی کو سکھ مذہب کے لوگ اپنا گورو اور مسلمان اپنا بزرگ(پیر) مانتے تھے۔ 22 ستمبر 1539ء کو جب بابا جی پردہ پوش ہوئے تو گورو سکھ سنگتیں اور مسلمان بھائی آپس میں جھگڑنے لگے کہ ہم بابا جی کے جسم پاک کی آخری رسومات اپنے اپنے مذہب کے مطابق ادا کریں گے، اس جھگڑے کے فیصلے کے لئے کسی درویش کے کہنے پر بابا جی کے جسم پاک سے چادر اٹھائی گئی تو ان کے جسم کی بجائے پھول موجود تھے۔ فیصلے کے مطابق چادر اور پھولوں کو برابر دو حصوں میں بانٹ لیا گیا اور اپنی اپنی مذہبی رسومات کے مطابق مسلمان بھائیوں نے چادر اور پھولوں کو دفن کر کے مزار صاحب بنا دیا اور سکھوں نے چادر پھولوں کو سکار کر کے سمادھ استھان بنا دی۔ آج بھی یہ دونوں نشانیاں قائم ہیں اور یہاں دونوں مذاہب کے لوگ عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔‘‘

گورودوارہ کرتار پور سے بھارتی سرحد محض چار کلومیٹر دور ہے، مگر درمیان میں دریائے راوی بہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں سرکنڈا بڑی تیزی سے اگتا ہے۔ رینجرز کے جوان اس کو کاٹتے رہتے ہیں، تاکہ بھارتی سرحد سے درشن کرنے والوں کو سہولت ہو۔ اس علاقے میں ایک روایت مشہور ہے کہ 20 سال بعد دریائے راوی عقیدت کے طور پر سلام کرنے کے لئے گورودوارہ صاحب تک آتا ہے۔ اس علاقے میں بہت زیادہ سانپ ہیں اور یہ سانپ بھی اکثر سلامی کے لئے آتے ہیں۔ چند سال پہلے اس علاقے میں ایک بہت بڑا اژدھا بھی دیکھا گیا۔ گورودوارہ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات وہ خود سانپوں کو اٹھا کر دربار صاحب کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور وہ درشن کرنے کے بعد چلے جاتے ہیں۔ سکھوں کے علاوہ مسلمان بھی اس گورودوارے میں عقیدت کا اظہار کرنے آتے ہیں۔ گورودوارے کے گراؤنڈ فلور پر سمادھی اور قبر ہے، جبکہ سیڑھیاں آپ کو پہلی منزل پر لے جاتی ہیں۔ یہاں گرنتھ صاحب پڑھا جاتا ہے۔ سکھ گرنتھ صاحب کو زندہ قرار دیتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر سکھ گھرانے میں گرنتھ صاحب نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے احترام کا ایک پروٹوکول ہے۔ ہر گورودوارے میں صبح اور شام اسے پڑھا جاتا ہے اور اس کو ایک چار پائی پر انتہائی احترام سے ایسے رکھا جاتا ہے کہ جیسے وہ مقدس زندہ ہستی ہے۔ سکھ خدا کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے، مگر جہاں گرنتھ صاحب ہوتا ہے وہاں وہ ماتھا ٹیکتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ گرنتھ صاحب کی سچائی کے ذریعے سچے خدا کی پوجا کر رہے ہیں۔گورودوارے کی چھت سے بھارت نظر آتا ہے۔ ہر روز ہزاروں سکھ سرحد کے دوسری طرف اس گورودوارے کا درشن کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔

برسوں سے سکھ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی سرحد سے گورودوارہ کرتار پور صاحب تک ایک کوریڈور بنایا جائے، جہاں سکھ یاتری ویزے کے بغیر آ سکیں۔ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے دنیا بھر سے سکھ اس کے لئے باقاعدہ دعائیں کررہے ہیں۔ سکھ سیاسی قیادت بھی اس کے لئے جدوجہد کرتی رہی ہے، مگر اس معاملے میں بھارتی فوج رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بھارتی فوجی افسران دلیل دیتے ہیں کہ گوروداسپور میں چھاؤنی ہے، جبکہ اس کے قریبی ضلع پٹھانکوٹ میں اسلحہ کا سب سے بڑا ڈپو ہے۔ اس کے علاوہ پٹھانکوٹ میں ایئرفورس کی متعدد بڑی تنصیبات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر سکھوں کو بھارتی سرحد سے کوریڈور کے ذریعے گوردوارہ کرتار پور تک رسائی دے دی گئی تو اس سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت اس سلسلے میں متعدد کوششیں کر چکی ہے مگر بھارتی فوج اس سلسلے میں کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ 2004 ء میں ونود کھنہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنے تو انہوں نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو کوریڈور کے منصوبے کی تجویز پیش کی، مگر فوج نے اس کی مخالفت کی۔ سکھ اس سلسلے میں آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ 2 مئی 2017ء کو پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور خارجہ نے اس علاقے کا دورہ کیا اور انہوں نے کوریڈور کے منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس وفد کی قیادت سابق وزیرمملکت ششی تھرور کر رہے تھے۔ تجویز پیش کی گئی کہ درشن کے لئے چار اعلیٰ درجے کی دوربینیں نصب کر دی جائیں اور ان کے ذریعے گورودوارہ صاحب کا درشن کیا جائے۔

اٹل بہاری واجپائی دوستی بس پر لاہور آئے اور انہوں نے مینارپاکستان کے سائے تلے پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا۔ نریندر مودی سابق وزیراعظم سے ملنے خصوصی طور پر لاہور آئے۔

انہوں نے میاں نوازشریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھی بلایا۔ مگر سدھو کی آمد پر واویلا کیا جا رہا ہے۔ بھارتی قیادت کی یہی دوغلی پالیسی برصغیر کے امن کے لئے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان آرمی چیف نے کرتار پور کوریڈور کھولنے کا جو عندیہ دیا ہے، اس پر پوری دنیا کے سکھ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج سے اس معاملے میں مثبت پیش رفت کے لئے کہا ہے، لیکن اس سلسلے میں فیصلہ کرنے کا اختیار شاید بھارتی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ چند سال پہلے الجزیرہ ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں پاکستان کی سابق وزیربرائے امور خارجہ حنا ربانی نے انکشاف کیا تھا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے سیاچن کو امن پارک بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی، مگر بھارتی حکومت نے جوابی طور پر آگاہ کیا تھا کہ ان کی فوج اس پر رضامند نہیں ہے۔ بھارتی فوج کا بجٹ تقریباً 60بلین ڈالر ہو چکا ہے اور متعدد امور میں وہ بھارتی حکومت سے اختلاف ہی نہیں کرتی، بلکہ اپنی من مانی بھی کرتی ہے۔ کلدیپ نیر مرحوم نے اندراگاندھی کے ساتھ بھارتی جرنیلوں کی سرکشی، بلکہ بدتمیزی کی داستانیں بھی بیان کی ہیں۔ کرتارپور کوریڈور کے سلسلے میں ہونے والا فیصلہ واضح کر دے گا کہ بھارت کی جمہوری حکومت اپنے معاملات میں کتنی خودمختار ہے۔

مزید :

رائے -کالم -