وزیر ریلوے شیخ رشید کی خدمت میں

وزیر ریلوے شیخ رشید کی خدمت میں
وزیر ریلوے شیخ رشید کی خدمت میں

  

شیخ رشید احمد دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ایک سے زائد بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں، ایک سے زائد بار ہی وہ فوجی آمر سمیت کئی کابیناؤں میں وزیر رہ چکے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل کہا کرتے تھے کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہے۔ وہ بہرحال قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے ایک بار پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے، جس کے بعد عمران خان نے انہیں فرد واحد ہونے کے باوجود اپنی کابینہ میں وزیر ریلوے مقرر کر دیا۔ ریلوے کئی لحاظ سے وفاق کی بڑی وزارت ہے۔ پاکستان کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک ملاتی ہے۔ ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

لیکن جتنی بڑی وزارت شیخ رشید کو دوسری بار ملی ہے وہ اتنے بڑے دل کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ویسے بھی یہ وزارت انہیں ان کی خواہش کے برعکس ملی ہے۔ وہ پہلے بھی ریلوے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ اس دفعہ وہ وزات داخلہ کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن وزیر اعظم نے یہ وزارت اپنے پاس رکھی ہے۔ ویسے تو شیخ رشید لال حویلی کے اندر اور باہر بڑکیں مارنے والے سلطان راہی مشہور ہیں۔ لوگوں کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جلسہ عام میں بھی بڑک مارتے ہوئے انہوں نے گزشتہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا، لیکن انہوں نے اسمبلی کی مدت کے آخری دن تک استعفی نہیں دیا تھا۔ اسے منہ کی پکائی بھی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی وزیر یا منتخب رکن اسمبلی کو اپنی گفتار اور کردار کا پاس ہونا چاہئے، جس کا شیخ رشید مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہ ابھی تک گورڈن کالج والی سیاست کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں حال ہی میں اپنے پہلے اجلاس میں انہوں نے جس طرح کے رویہ کا مظاہرہ کیا، وہ کسی وزیر کی حیثیت کے مطابق نہیں تھا، اجلاس کی کہانی سوشل میڈیا پر دھوم مچائے ہوئے ہے کہ اس میں تو وہ گالیاں بھی لکھ دی گئی ہیں، جنہیں دہرایا نہیں جاسکتا۔

کہانی کچھ اس طرح ہے۔ ’’اے سی کی ٹھنڈک سے ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور کے میٹنگ روم کا درجہ حرارت کافی ٹھنڈا، لیکن میٹنگ روم میں موجود افراد کا موڈ اور ماحول کافی گرم تھا۔ ریلوے کے نئے وزیر (شیخ رشید احمد) کے ساتھ میٹنگ کا لگاتار دوسرا دن تھا۔ ڈی جی آپریشنز کے بعد جی ایم کمرشل آپریشن حنیف گل کھڑے ہوئے تو شیخ صاحب کا موڈ مزید خراب ہوگیا۔ ’’او گل صاحب تسی فیر شروع ہوگئے اور شیخ رشید نے حنیف گل کے پریزنٹیشن کی شروعات سے پہلے ہی اپنی ناپسند اور بیزاری کا اظہار کر دیا۔ سیکرٹری ریلوے نے شیخ رشید کے کان میں کچھ سرگوشی کی تو شیخ صاحب اپنی سگار میں مشغول ہوگئے۔ حنیف گل پچھلے پانچ سال کی بیلنس شیٹ کی تفصیل میٹنگ کے شرکا کے گوش گزار کر رہے تھے۔ سر مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پچھلے پانچ سال میں ہم نے اپنا ریونیو 18 ارب سے بڑھا کر 55 ارب کر لیا ہے، کارگو ٹرین جو مکمل بند ہوچکی تھی، ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

25 بند روٹ دوبارہ آپریشنل کئے جاچکے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق صاحب کی کوششوں سے آن لائن ٹکٹ، ریلوے کی زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے تحت کراچی تا پشاور ڈبل لائن کی تعمیر پر کام کا آغاز ہوچکا ہے، ٹرین کی رفتار 80 سے بڑھ کر 120 پر جاچکی ہے، اگلے مرحلے میں اسے 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک لے جانے کے لئے خواجہ سعد رفیق صاحب کے حکم پر پاکستان ریلوے اب چین کے تعاون سے’’او گل صاحب! یہ رضیہ بٹ کا ناول بند کرو‘‘۔شیخ رشید نے غصے میں حنیف گل کی بات کاٹ دی اور اپنا سگار غصے میں پریزنٹیشن بورڈ کے سامنے کھڑے حنیف گل کی طرف پھینکا۔ ’’تواڈے کول، اوس خواجہ (گالی) دے علاوہ کوئی دوجی گل ہے کہ نہی۔ مڑ مڑ تسی اسی (گالی) دی گل شروع کر دیندے ہو۔"شیخ رشید شدید غصے میں بول رہے تھے۔ میٹنگ کے شرکا ششدر شیخ رشید کو دیکھ رہے تھے۔ ’’سر ہم معذرت کرتے ہیں‘‘ چیئرمین ریلوے کھڑے ہوکر صفائیاں دینے لگے۔ ’’میرے سامنے کوئی کسی وزیر یا مشیر کی تعریف نا کرے‘‘۔ شیخ رشید نے سب کی طرف نظر ڈالی۔

میں نے کیا کہا، تو لوگ سمجھ گئے نا۔ شیخ رشید نے سب کی طرف دوبارہ ایک نظر ڈالی۔ ’’اور گل صاحب، مجھے آپ جیسے لوگوں کو اپنی ٹیم میں رکھنے کا شوق نہیں ہے‘‘۔ 20 گریڈ کا افسر اپنی اس تذلیل پر شرم سے پانی پانی ہوتے ہوئے میٹنگ روم سے باہر نکل گیا۔ اگلی صبح حنیف گل نے اپنی طویل چھٹی (دو سال) چیئرمین ریلوے کو ارسال کر دی‘‘۔ شائد حنیف گل کو الہام ہوا کہ شیخ رشید کی وزارت دو سال ہی رہے گی۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کابینہ کے وزیر ریلوے کو یہ بات ناگوار گزری کہ ان کے پیش رو کی کارکردگی کا ذکر کیا گیا۔ کیوں نہ کیا جاتا۔ اگر سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دور میں ریلوے میں بہتر کارکردگی ہوئی تو وہ ریلوے کی تاریخ اور کتابوں کا حصہ ہے۔ اس قابل ذکر تبدیلی کے تذکرے پر کسی کو غصہ میں آنے یا ملال کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو جب غلام احمد بلور کے بعد شیخ رشید وزیر ریلوے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنی محنت اور بہتر کارکردگی سے ریلوے کے نظام کو بہتر کیا تھا۔ جس کی لوگ تعریف کیا کرتے تھے۔ جو کام کرے گا، وہ بہتر نتائج دے گا، اس کی تو تعریف ہونا لازمی ہے۔ وہ کسی گالی کا حقدار کیوں ٹہرے گا۔

شیخ رشید سے اس بچکانہ احمقانہ رویہ کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ اگر افسران کے اجلاس میں وزیر ہی غیر اخلاقی اور باعث ہتک گفتگو کریں گے تو افسران کیوں کر ان کی عزت کریں گے۔ اگر کسی افسر کی کارکردگی سے آپ مطمئن نہیں ہیں تو انہیں قانونی طریقہ سے رخصت کردیں تاکہ محکمہ میں کھینچاؤ پیدا نہ ہو ۔ لیکن شائد وزیر موصوف کے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اسی وجہ سے تو انہوں نے لال حویلی کے باہر ایک عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا۔ ایک اور واقعہ میں انہوں نے ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر وہ چاہیں تو تمام موٹر سائیکلوں کو اٹھوا سکتے ہیں۔ ارے شیخ رشید خدا کی پناہ مانگو۔ جس نے تمہاری لاج رکھی ہوئی ہے۔ وگر نہ تمہارے جیسے ہزاروں افراد خوار پھرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تمہارا کردار ہی کیا رہا ہے۔ بڑکیں مارنے اور لمبی فضول اور بے مقصد تقاریر کے سوا تمہارے کھاتے میں ہے ہی کیا۔ وزارت اطلاعات کے دور کی کہانیاں لوگ جس انداز میں مزے لے لے کر سناتے ہیں ، اسے سن کر شرم آتی ہے کہ کیا اس ملک میں وزیر اپنے دفتر میں اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتوں کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔تاریخ سے سبق لینے کی شدید ضرورت ہے۔ اس تماش گاہ میں کئی ایسے سیاسی رہنماء بھی تو گزرے ہیں جو سرکاری افسران کی بے انتہاء عزت کیا کرتے تھے ۔ فیروز خان نون سے متعلق واقعات کا ذکر مرحوم الطاف گوہر اپنے کئی مضامین میں کر چکے ہیں۔ انہوں نے شیر بنگال مولوی فضل الحق کے بارے میں بھی لکھا ہے اور بھی کئی کتابیں موجود ہیں جس میں ان لوگوں کا وہ سب کچھ قابل تعریف ہے۔

مزید : رائے /کالم