A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

تفہیمِ اقبال:جوابِ شکوہ(7)

تفہیمِ اقبال:جوابِ شکوہ(7)

Aug 31, 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

(بند نمبر 22)

خودکشی شیوہ تمہارا، وہ غیور و خوددار

تم اخوت سے سے گریزاں، وہ اخوت پہ نثار

تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار

تم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستاں بہ کنار

اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی

نقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

شیوہ(طریقہ)۔۔۔ غیور(غیرت مند) ۔۔۔ اخوت (بھائی چارا)۔۔۔ گریزاں(بھاگنے والے) ۔۔۔ گلستاں بہ کنار(آغوش میں گلستاں لئے)

اب اس بند کی تشریح:

خدا شکوے کا جواب دے رہا ہے اور فرما رہا ہے:’’تمہارا طریقہ خودکشی کرنا ہے جبکہ تمہارے آباواجداد کا طریقہ خودداری تھا۔ (مطلب یہ ہے کہ خودداری اور خودکشی آپس میں دو باہم متضاد خصوصیات ہیں۔ خودکشی وہ لوگ کرتے ہیں جو غیرت مند اور خوددار نہیں ہوتے ۔دوسرے لفظوں میں خدا کہہ رہا ہے کہ خودکشی کرنے والا، بے غیرت بھی ہوتا ہے) تم آپس میں مل جل کر نہیں رہتے لیکن تمہارے اسلاف ایک دوسرے پر جانیں چھڑکتے تھے۔۔۔ تم صرف باتیں ہی کرتے ہو، وہ عمل کرتے تھے۔ اس لئے تم کلی کلی کو ترس رہے ہو اور ان کی گودوں میں پورا پورا باغ سمایا ہوا تھا۔۔۔ یہی وجوہات تھیں جن کی بنا پر دنیا کو اب تک ان کی داستانیں یاد ہیں اور ان کی سچائی کا نقش سارے جہان پر بیٹھا ہوا ہے‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر23)

مثلِ انجم افقِ قوم پہ روشن بھی ہوئے

بتِ ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے

شوقِ پرواز میں مہجورِ نشیمن بھی ہوئے

بے عمل تھے ہی جواں، دین سے غافل بھی ہوئے

ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا

لاکے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا

اس بند کے مشکل الفاظ اور ان کے معانی:

مثلِ انجم (ستاروں کی طرح)۔۔۔بتِ ہندی (ہندوستان کے بت، ہندوستانی حسین و جمیل محبوبائیں)۔۔۔ برہمن ( کافر )۔۔۔ نشیمن (گھونسلا) ۔۔۔ مہجور (مجبور)۔۔۔ بند (قید)۔۔۔ صنم خانہ (جہاں بت رکھے جاتے ہیں اور ان کی پوجا کی جاتی ہے)

اب اس بند کی تشریح:

خدا کی طرف سے شکوے کا جواب جاری ہے:۔۔۔’’تم میں سے بعض مسلمان ایسے بھی ہیں جو قومی سطح پر آسمانِ شہرت پر ستاروں کی طرح چمکے بھی۔۔۔۔ ہندوستانی محبوباؤں کے عشق میں گرفتار ہو کر دینِ اسلام کو چھوڑ کر ہندووں کا دین بھی اختیار کیا اور برہمن بھی ہوئے۔۔۔ اڑنے کے شوق میں گھونسلوں کے اندر بیٹھے رہنے پہ مجبور بھی ہوئے۔۔۔ یعنی نکمے تو تھے ہی، دینِ اسلام سے بدگمان بھی ہوئے۔۔۔ ان کو تہذیبِ جدید نے مادر پدر آزادی دی اور ہر قسم کی قید سے آزاد کردیا۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں کعبے سے اٹھا کر بت خانے میں لاکر آباد کردیا‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر24)

قیس، زحمت کشِ تنہائی صحرا نہ رہے

شہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے

وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہے

یہ ضروری ہے، حجابِ رخِ لیلیٰ نہ رہے

گلۂ جور نہ ہو، شکوۂ بیداد نہ ہو

عشق آزاد ہے، کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو؟

اس بند کے مشکل الفاظ اور ان کے معانی:زحمت کش (تکلیف اٹھانے والے)۔۔۔ بادیہ پیما(صحراؤں میں سفر کرنے والے) حجابِ رخِ لیلیٰ (لیلیٰ کے چہرے کانقاب)۔۔۔گلۂ جور( ظلم کا گلہ)۔۔۔ بیداد(ظلم و ستم)

اب اس بند کی تشریح:

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کچھ باک نہیں کہ میں اس بندکی پوری طرح تفہیم نہیں کرسکا اور اگر خود نہیں کرسکا تو قارئین کو کیا سمجھاؤں؟۔۔۔

بس اسی شش و پنج میں تادیر اس بندکی تشریح کے تانے بانے بنتا رہا ہوں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ خود کو یہ یقین نہیں دلاسکا کہ میں واقعی ان تین شعروں میں کوئی منطقی ربط تلاش کرسکا ہوں۔اس معاملے میں اگر کوئی قاری میری رہنمائی فرما سکیں تو ان کا ممنون ہوں گا۔۔۔۔ تاہم اس بند کے جو معانی میں سمجھ سکا ہوں وہ پیشِ خدمت ہیں:

’’یہ قیس کی اپنی مرضی ہے کہ وہ صحرا کی تنہائی کی زحمت اٹھائے یا نہ اٹھائے، شہر کی ہوا کھائے یا دشت کی وسعتیں ناپتا پھرے۔وہ تو پاگل جو ٹھہرا، اس لئے چاہے شہر میں رہے، چاہے نہ رہے۔ لیکن لیلیٰ تو دیوانی نہیں۔ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ چہرے کو زیر نقاب نہ رکھے اور حجاب اتار دے۔ اس جورو ستم کا شکوہ شکائت نہ کرے کہ عشق کیوں آزاد ہوگیا ہے۔ اگر عشق یعنی قیس کو آزادی ہے کہ وہ شہر میں رہے یا صحرا میں تو حسن یعنی لیلیٰ کو بھی کھلی چھٹی ہونی چاہئے کہ وہ بھی اپنے عاشق(قیس) کی طرح آزاد ہو جائے‘‘۔

یہ ڈائیلاگ چونکہ خدا کی طرف سے آرہا ہے اس لئے خدا فرماتا ہے کہ اگر قیس اپنی روایات ترک کرکے صحرا کو چھوڑ کر آبادیوں میں جابسا ہے تو لیلیٰ کو بھی چہرے سے پردہ اٹھا دینا چاہئے۔ میرے مطابق اس بند میں قیس سے مراد آج کا مسلمان اور لیلیٰ سے مراد خود خداوند تعالیٰ ہے جو استدلال فرما رہا ہے کہ اگر عصرِ حاضر کے مسلمان اپنے وہ فرائض فراموش کرچکے ہیں جو ان کے اسلاف ادا کرنے میں پیش پیش تھے تو پھر لیلیٰ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ بھی حجاب میں نہ رہے اور کھل کر شکوہ کرنے والے قیس کو بتائے کہ اب اس پر لیلیٰ کی نوازشات اور مہربانیاں کیوں نہیں رہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ خدا لیلیٰ بن کر مجنوں کو جواب دے رہا ہے کہ اگر تم نے صحرا نوردی کی روایات ترک کردی ہیں تو میں نے بھی حجاب کی پابندی چھوڑ دی ہے۔ یعنی لیلیٰ کا زیرِ حجاب ہونا گویا قیس پر عنایات کرنے کے مترادف تھا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر 25)

عہدِ نو برق ہے، آتش زنِ ہر خرمن ہے

ایمن اس سے کوئی صحرا، نہ کوئی گلشن ہے

اس نئی آگ کا اقوامِ کہن ایندھن ہے

ملتِ ختم رسلؐ شعلہ بہ پیراہن ہے

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستان پیدا

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

عِہدِ نو( آج کا نیا زمانہ)۔۔۔ برق(آسمانی بجلی)۔۔۔ خرمن(ڈھیر، انبار، لکڑیوں کا گٹھا وغیرہ)۔۔۔آتش زن (آگ لگانے والا) ایمن (محفوظ)۔۔۔ صحرا (ریگستان)۔۔۔ گلشن (باغ)۔۔۔ اقوامِ کہن (پرانی قومیں) ایندھن(آگ میں جلانے اور جلنے والا مرکب یاتیل، پٹرول، ڈیزل، چوبِ سوختنی وغیرہ) ۔۔۔ملت(قوم)۔۔۔ ختمِ رسل(آخری نبی یعنی رسولِ مقبول حضرت محمدﷺ)۔۔۔ شعلہ بہ پیراہن( جس کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی ہو، آگ میں جلتا ہوا لباس)۔۔۔ اندازِ گلستان(سرسبز و شاداب اور لہلاتا ہوا باغ)

اب اس بند کی تشریح:

آج کا نیا زمانہ ایک ایسی آسمانی بجلی ہے جو ہر طرح کے انبار کو جلا کر خاک کر ڈالتی ہے خواہ وہ سر سبز درختوں کا ذخیرہ اور جنگل ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایسی بجلی ہے جس سے روئے زمین کا کوئی ٹکڑا خواہ صحرا ہو یا گلشن، محفوظ نہیں۔۔۔ یہ ایک ایسی نئی آگ ہے جس کا ایندھن پرانی قومیں ہیں۔ یعنی جو قوم بھی پرانی تعلیمات و روایات کی پیروی کرتی ہے یہ بجلی اس کو جلاکر خاکستر کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی پاکؐ جو خاتم المرسلین ہیں یہ آگ انؐ کی امت کے لباسوں کوجلا رہی ہے۔۔۔۔ لیکن اس نئی بجلی کی خوفناک آگ سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ یہ ’’امتِ ختم رسل‘‘ اپنے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ساایمان پیدا کرلے۔۔۔۔ اشارہ ہے حضرت ابراہیم کے اس قصے کی طرف جس میں ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اب بلاؤ اپنے خدا کہ وہ آکر تمہیں اس آگ سے بچائے۔ لیکن چونکہ حضرتِ ابراہیمؑ کا ایمان مضبوط تھا اس لئے وہ اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر اس جلتی آگ میں کود گئے لیکن جب ابراہیم اس میںآکر گرے تو وہی آگ باغ و بہار بن گئی۔

اقبال کا یہ شعر بھی اسی مضمون کو ادا کرتا ہے:

آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ کر سکتی ہے، اندازِ گلستاں پیدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر26)

دیکھ کررنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالی

کوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی

خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی

گل برانداز ہے، خونِ شہدا کی لالی

رنگ گردوں کا، ذرا دیکھ تو، عنّابی ہے

یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

رنگِ چمن(باغ کا حالِ)۔۔۔ کوکب (ستارہ)۔۔۔ خس و خاشاک (گھاس پھونس)۔۔۔ گل برانداز( اپنے بدن پر پھول سمیٹے اور لپیٹے ہوئے)۔۔۔ خونِ شہدأ( شہیدوں کا خون)

اب اس بند کی تشریح:

اللہ کریم جب اقبال کے شکوے میں اٹھائے گئے ایک ایک نکتے اور پہلو کا مسکت جواب دے کر شکوہ گزار کو خاموش کروا دیتا ہے تو پھر رحیم و شفیق پروردگارِ عالم کو اپنے بندوں پر رحم آجاتا ہے۔یہ اللہ کی وہ دائمی جمالیاتی صفت ہے جو اس کے جلال پر بھاری ہے، جو اس کی برہمی کو پیار میں تبدیل کردیتی ہے اور جو اس کی سختی کو نرمی میں بدل دیتی ہے۔ اس بند میں خدا جب دیکھتا ہے کہ اس کا بندہ اپنے شکوے پر نادم ہو چکا ہے اور اس کو اپنی گستاخی کا احساس ہوگیا ہے تو اس کا رویہ درشتی سے رحم دلی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ فرماتا ہے:

’’اپنے خزاں رسیدہ باغ کو ویران دیکھ کر مالی کو پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بہت جلد ایسا ہونے والا ہے کہ ’خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے‘۔۔۔ والا منظر اس کے سامنے ہوگا‘‘۔

غنچے کا ڈوڈا تو آپ نے دیکھاہوگا۔ اس کے اندر پورے پھول کی پنکھڑیاں اور خوشبوئیں بند ہوتی ہیں۔ اقبال نے اسی غنچے کو ایک ستارے (کوکب) سے تشبیہ دی ہے اور اللہ کریم کی زبان سے یہ کہلوایا ہے کہ یہ بند کلی اب کھلنے ہی والی ہے اور اس سے نئی اور چمکتی ہوئی شاخیں پھوٹنے ہی والی ہیں۔۔۔

’’اس خزاں رسیدہ باغ میں جو جھاڑ جھنکار اور گھانس پھونس موسمِ خزاں نے لاکر جمع کردیا تھا، وہ سب اٹھایا جانے والا ہے اور شہیدوں کے خون کی لالی اب گلاب کا سرخ پھول بن کر ایک نرالا اور خوشنما روپ دھارنے کو ہے۔۔۔ ذرا اپنے سامنے پھیلے ہوئے افق کی طرف نگاہ اٹھاؤ۔ اس کا رنگ، سرخ عناب کی طرح ہورہا ہے۔ یہ رنگِ افق اس بات کی خوش خبری ہے کہ سورج نکلنے کو ہے‘‘۔

جب سورج نکلنے والا ہوتا ہے تو پہلے رات کی تاریکی رفتہ رفتہ کافور ہوتی ہے، پھر صبح کاذب کے آثار نظر آتے ہیں اور بعدازاں صبحِ صادق کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ پھر جہاں سے آفتاب ابھرنے والا ہوتاہے وہاں عنابی رنگ کی سرخی پھیل جاتی ہے جس کے اندر سے آفتابِ عالمتاب ابھرکر ساری دنیا کو جگمگا دیتا ہے۔۔۔

اس مضمون کو اقبال نے اپنی شاعری میں کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ چند مثالیں دیکھئے:

دلیلِ صبحِ روشن ہے، ستاروں کی تنک تابی

افق سے آفتاب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی

***

آفتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی ہے ہوا

آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک؟

***

ہو دُرِ گوشِ عروسِ صبح وہ گوہرہے تو

جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو

***

اجالا جب ہوا رخصت جبینِ شب کی افشاں کا

نسیمِ زندگی پیغام لائی صبحِ خنداں کا

مزیدخبریں