وزیر ا عظ، اور امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے تنازع کا خاتمہ چاہتے ہیں، پاکستان

وزیر ا عظ، اور امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے تنازع کا خاتمہ چاہتے ہیں، ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے تنازع پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس تنازع کا خاتمہ کرکے سیاسی طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے لہٰذا اس معاملے پر اب مزید بات نہیں کی جائے گی۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہم وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کے تنازع کا خاتمہ چاہتے ہیں، پاکستان سیاسی طور پر آگے بڑھنا چاہتا ہے، وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرچکے ہیں لہٰذا وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ میں گفتگو کے معاملے پر مزید بات نہیں کریں گے۔ترجمان دفتر خارجہ سے جب سوال کیا گیا کہ امریکا نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیرخارجہ کی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ پاکستان کو دیاہے؟اس پر ڈاکٹر فیصل نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار کہہ دیا ہے کہ معاملہ ختم، آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت سے آگاہ کیا۔ترجمان نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ہفتے میں بھارتی افواج نے 10 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا، بھارتی افواج کی جانب سے پیلٹ گنز کیاستعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے حریت رہنماؤں کی غیر قانونی نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنماؤں کی بگڑتی صحت کی صورتحال پر بھی تشویش ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔ترجمان دفتر خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایل او سی اشتعال انگیزی پر شہری کی شہادت پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا۔ڈاکٹر فیصل نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں سے متعلق بتایا کہ پاکستان نے توہین آمیز خاکوں کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے، توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کوخط لکھا ہے اور پاکستان میں ہالینڈ کے ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے جبکہ ڈچ سفیر کو ملک بدر کرنے یا کوئی اور ایکشن لینے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزیدبتایا کہ او آئی سی اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے، وہ اجلاس میں توہین آمیز خاکوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ چاہ بہار اور گوادر اعزازی بندرگاہیں ہیں، ہمیں چاہ بہار میں بھارت کی موجودگی سے فرق نہیں پڑتا، ہمیں اکٹھے آگے بڑھنا ہے، وہاں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا آہنی بھائی ہے، سی پیک چین کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جبکہ پاک بھارت تجارت بڑا مسئلہ ہے، تجارتی راہداری یا پوائنٹ اس معاملے کا چھوٹا حصہ ہیں، پاک بھارت تعلقات میں وسیع خلیج پاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، کرتار پورہ اسی سلسلے کی کڑی ثابت ہو سکتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیرخارجہ کا پاکستان آنا بہت مثبت ہے، وہ وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔ترجمان نے غزنی حملے سے متعلق افغانستان کے بیانات کو محض الزامات قرار دیا۔

پاکستان

مزید :

علاقائی -