ایک ہفتہ، اربوں کی بچت، کیا یہ تبدیلی نہیں ، حوصلہ کریں

ایک ہفتہ، اربوں کی بچت، کیا یہ تبدیلی نہیں ، حوصلہ کریں
ایک ہفتہ، اربوں کی بچت، کیا یہ تبدیلی نہیں ، حوصلہ کریں

  

کپتان عمران خان کی22سالہ طویل جدوجہد رنگ لائی اور وہ وزیراعظم کی صورت میں اپنے خواب کی تعبیر پانے میں کامیاب رہے۔ 2002ء کے الیکشن2013ء کے الیکشن اور 2018ء کے الیکشن کے تجربات سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے سمندر سے ان کی کشتی نکل کر اب ایسے میدان میں آ چکی ہے، جس میں انہیں نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، یقیناًعمران خان کی طویل اننگز میں کئے گئے وعدے، نعرے میڈیا اب انہیں یاد دِلا دِلا کر اُنہیں منزل سے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔وزیراعظم عمران خان پہلے امتحان میں کامیاب ہو چکے ہیں، یقیناًان کی کامیابی میں نئی نوجوان نسل کا بڑا کردار ہے، نئی نسل کو ہی پاکستان کا مستقبل اور امیدوں کا محور ہونا چاہئے،وزیراعظم کے پہلے سو دن سے توقعات کا ڈھنڈورا پیٹنے والا میڈیا شاید گزشتہ 70برسوں میں کبھی اتنا سرگرم نہیں ہوا جتنا اب ہو رہا ہے۔کپتان کی وزیراعظم کی حیثیت سے پہلی تقریر اور سینیٹ میں کپتان کی دوسری تقریر نے قوم کو نیا ولولہ دیا ہے۔وہ قابلِ ستائش ہی نہیں قابلِ قدر بھی ہے۔ وزیراعظم کی پہلی تقریر سے ہی آنے والے دِنوں کی منصوبہ بندی کا اندازہ ہونا تھا اِس لئے محاذ آرائی بھی پہلے خطاب کے حوالے سے ہی شروع کی گئی،حالانکہ تاریخ گواہ ہے قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی وزیراعظم نے ایسا نہ کہا نہ کر کے دکھایا جیسا عمران خان نے دکھایا ہے، پہلے اور دوسرے سینیٹ سے خطاب کے موقع پر پاکستان میں نہیں تھا، لیکن وزیراعظم کے خطاب کی گونج، مقبولیت اور پسندیدگی پوری دُنیا میں یکساں دیکھنے کو ملی ہے، مخالفت برائے مخالفت کرنے والے بھی پریشان ہیں،انہیں بظاہر تو کوئی ایسا منفی پہلو نظر نہیں آتا، جس کو بنیاد بنا کر وہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں۔

وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانا، سادگی سے دو کمروں کے فلیٹ میں رہائش رکھنا،اپنے اور ارکانِ اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنا،اپنا اور ارکان پارلیمینٹ کا علاج اپنے مُلک میں کرانے کا اعلان کرنا، اقوام متحدہ سمیت باہر جانے والے وفود کے ارکان کی تعداد کو درجنوں سے کم کر کے پانچ سے دس کرنا، بیرون مُلک جانے والے وفود کی رہائش فائیو سٹار کی بجائے سفارت خانوں کی عمارتوں میں رکھنا، گورنر ہاؤس سمیت تمام حکومتی اداروں کے اخراجات کو80فیصد کم کرنا معمولی بات نہیں ہے۔ تاریخ بتاتی ہے روایت بھی یہی رہی ہے، نعرے، وعدے اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں، کپتان نے اس کے برعکس ثابت کر کے دکھایا ہے،اس نے سادگی اور تبدیلی کا جو نعرہ لگایا اس پر عمل کر کے دکھا دیا ہے۔ وزیراعظم کے دوسرے خطاب میں، جو سینیٹ میں کیا گیا اس کا بھی جواب نہیں۔ایک ایک لفظ قوم کی آواز تھا، اُمت کی ترجمانی تھا، بہت سے وزیراعظم گزرے ہیں، نعوذ باللہ خاکوں کا مسئلہ پہلی دفعہ سامنے نہیں آیا، پہلے بھی بہت سے ملعون ایسی حرکات کرتے رہے ہیں، جب پوری قوم سڑکوں پر ہوتی تھی اُس وقت بھی حکومت اور وزیراعظم مصلحت کا شکار نظر آتے تھے، عمران نے قوم کی نہ صرف ترجمانی کی، بلکہ اِس مسئلے کے مستقل حل کے لئے او آئی سی اور اقوام متحدہ میں جانے کا اعلان کیا،اپنی موجودگی میں سینیٹ سے متفقہ قرارداد منظور کروائی، وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لانے کے لئے پُرعزم ہیں،اس میں بھی انہوں نے کوئی مصلحت نہیں دکھائی، دو ٹوک انداز میں اپنا موقف دہرایا ہے۔ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کرنے والوں کو جب کوئی راہ دکھائی نہ دے، جب کوئی خبر نہ ملے تو وہ خاور مانیکا کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے پاکستان میں سب سے آسان کام دوسرے کو امریکی ایجنٹ قرار دینا یا ملکی غدار قرار دینا ہے،جب ثبوت کی باری آتی ہے تو سب بغلیں بجانا شروع ہو جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں رہتے ہوئے ٹی وی پر ہونے والے ایک ہفتے کے پروگراموں کا ذکر سُن رہا تھا اور سوشل میڈیا پر جو بیہودہ انداز میں خاور مانیکا کو وزیراعظم سے جوڑنے کی مہم چلائی گئی اس کو روکنے کی ضرورت ہے، بات جب گھروں تک جائے گی، چادر چار دیواری سے باہر نکلے گی، ہر فرد شیشے کے گھر میں رہتا ہے، یعنی فیملی والا ہے، بچے بچیوں والاہے، ایسی صحافت اور ایسی سیاست سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔اگر 22سال بعد نوجوانوں کی امنگوں کا ترجمان وزیراعظم مل گیا ہے تو اُسے پہلے دن سے ہی متنازعہ بنانے اور ہر کام میں کیڑے نکالنے کی بجائے اُسے موقع دینا چاہئے کہ وہ کام کر کے دکھائے۔اگر کام نہیں کرے گا تو پھر ضرور اس کے خلاف نکلنا ہو گا، سو دن کی بات کرنے والے ایک ہفتہ دینے کے لئے تیار نہیں، اربوں روپے بچانے کو مخالف تبدیلی نہیں سمجھ رہے۔آج رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی یقیناًتبدیلی نظر آئے گی۔ ایک سوٹ میں آٹھ دن نکالنے والا وزیراعظم ہم نے تو زندگی میں نہیں دیکھا،80بلٹ پروف گاڑیوں کی بجائے اب اُنہیں سیکیورٹی کے لئے دو چار گاڑیوں کو تو مسئلہ نہ بنائیں، ہمارے مُلک کا وزیراعظم ہے۔ بات دوسری طرف نکل گئی، وزیراعظم عمران خان کی پہلے امتحان میں کامیابی کے بعد وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء کی تشکیل کے بعد بڑا امتحان شروع ہونے جا رہا ہے،وہ ہے وزراء کی کارکردگی اور ان کی مانیٹرنگ۔عمران خان یقیناًتبدیلی کے خوگر ہیں، مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وفاقی وزراء ، صوبائی وزراء پرانی جمہوری اقدار، شان و شوکت، ٹھاٹھ بھاٹھ کے دلدادہ ہیں۔ جنابِ عمران خان کو اپنے مقاصد اور اپنی منزل کے حصول کے لئے اپنے سے زیادہ ان پر نظر رکھنا ہو گی۔2018ء ہے، جہاں چار دیواری کے اندر بھی کیمرے آپ کو فوکس کر رہے ہیں، ہر لمحہ ہر منظر پر نظر رکھنے والے ٹو میں ہیں کب جوتا اُلٹا پہنیں اور ہم اسے اُچھالیں۔ وزراء ارکان اسمبلی کو تو روزانہ کی بنیاد پر برین واشنگ اور بریفنگ کی اور محتاط چلنے کی ہدایت دینے کی ضرورت ہے۔گورنر بھی آپ کے بنیں گے، صدر بھی آپ کا بنے گا۔ پاکستانی بھی آپ کے ساتھ ہیں، بیرون مُلک رہنے والے تو دن رات آپ کی کامیابی کے لئے دُعا گو ہیں۔ آپ کو کچھ نیا کہنے کی ضرورت نہیں ہے، تبدیلی ایسی کریں جو نظر آئے۔ بچت کریں جو نظر آئے، عوام کو ریلیف ایسا دیں جو نظر آئے ،روزگار ایسا دیں جو نظر آئے، بس تم آگے بڑھتے ہی جاؤ خدا تمہارے ساتھ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -