ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ‘ ریجنل دفاتر میں ویڈیولنک کانفرنس

ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ‘ ریجنل دفاتر میں ویڈیولنک کانفرنس

  

کرا چی (کامرس ڈیسک) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈا نڈسٹر کے ریسر چ اینڈ پا لیسی ڈویلپمنٹ ڈویژن نے پاکستان میں پا نی کی قلت کے مو ضو ع پر اپنے ہیڈ آفس کراچی ، کپیٹل آفس اسلا م آباد اور ریجنل آفس لا ہو ر میں ویڈ یو لنک کے ذریعے ایک گو ل میز کا نفر نس کا انعقاد کیا ۔ اس کا نفر نس کے انعقاد کا بنیا دی مقصد پاکستان میں پا نی کی قلت کے مو ضو ع پر تبا دلہ خیال میں خطرات کو کم کر نا اور پا نی کیلئے زیا دہ سے زیا دہ فا ئد ہ اُٹھانا پر بحث ہو ئی ۔ اس تبا دلہ خیال کے اجلاس کو چیئر مین واپڈا لیفٹیننٹ جنر ل ریٹا ئر ڈ مز مل حسین بز نس کمیو نٹی کے افراد ، ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران واٹر ریسر چ کو نسل کے اسٹک ہو لڈرز ، مختلف جا معا ت کے نما ئند گا ن کے علا وہ ٹر یڈ با ڈیز سے تعلق لا تعداد افراد نے شر کت کی ۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلو ر نے کہاکہ پا نی کی قلت ایک بین الا قوا می اور دوملکو ں کی سر حدکا مسئلہ ہے جو ہما ری پاکستان کی زراعت اور انڈ سٹر ی کی پیداوار میں زیا دہ اثر ڈال رہی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ پاکستان میں پا نی کا ذخیرہ کی بہت کم گنجا ئش ہے بھر خلا ف بھا رت چین اور امریکہ کے مقا بلے میں ۔ واٹر سیکٹر میں مسلسل محنت کی ضرورت ہے تا کہ زرعی پیداواری تکنیک میں بہتر ی سے پو دوں کے ری سا ئیکلنگ اور چھو ٹے اور بڑ ے ڈیمز بنا نے سے بہتر ی کی گنجا ئش ہو سکتی ہے ۔

ایف پی سی سی آئی کے نا ئب صدور طارق حلیم، زاہد سعید ، وحید احمد، کر یم عزیز ملک ، عرفان یو سف ، سعید با نو ، شبنم ظفر ، شفیق انجم نے بھی پا نی کی قلت کے موضوع پر اپنے خیا لا ت کا اظہار کیا اور اس مئسلہ کے حل کے لیے متوازن تجا ویز پیش کی۔سابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر نے کہاکہ پا نی کی قلت پاکستان کیلئے سنگین مسئلہ ہے جو پا کستان کو 2025کے سال کے آخر تک پاکستان کو خشک کر دے گا کیو نکہ انتہا ئی کمی مسئلہ کو overexploitation کر نا اور پا نی کے نا صفا ئی ہو نا جیسے مسائل کی وجہ سے ہو گا ۔ پاکستان کو قدرت نے دنیا کے بہتر ین اور بڑ ے زرعی سسٹم سے نوازہ ہے مگر ہم اس کے مکمل فا ئد ہ اُٹھا نے اور اس کی غیر معمولی طر یقو ں سے فا ئد ہ اُٹھانے میں نا کام رہے ہیں اس وقت پا نی کی مو جو دگی کا تنا سب 1000کیوبک میٹر ہے ۔ انہوں نے سمند ری سطح پر دنیا میں پا نی کی سطح کا بلند ہو نا ، درجہ حرارت کا زیا دہ ہو نا، سیلا ب کی کثر ت ، خشک سالی کا متواتر ہو نا اور گلیشیئرزکا گر نا جیسے مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے اور پاکستان ان چیز وں سے نمٹنے کیلئے تیا ر نہیں ہے۔ سنیئر نائب صدر سارک چیمبر آف کامرس افتخار علی ملک نے کہاکہ پا نی کی قلت پرانا مسئلہ ہے جس سے فی hectare پیداوار ، لا ئیو اسٹاک ، انرجی اور معد نیا ت پر بھی پڑتا ہے ، انہوں نے کہاکہ تمام صو بو ں اور تمام سیا سی پا رٹیو ں کو پا نی کے اس اہم مسئلہ کو حل کر نے کیلئے متفق ہو نا پڑیگا ۔ انہو ں نے کہاکہصنعتی اور گھر یلوکچرا بھی اہم مسئلہ ہے جو پا نی کی کو الٹی پر اثر انداز ہو رہا ہے اور آخر کا ر پا نی کی بیما ریوں کے سبب مو ت کے تنا سب میں اضا فہ کر رہا ہے ۔ اس موقع پر چیئر مین واپڈا مزمل حسین نے کہاکہ واپڈاپا نی کے اہم مسئلہ میں معاشی گروتھ ، غذاکی قلت جو پاکستان کی ڈویلپمنٹ اور سیکورٹی جس پر انحصار کر تی ہے اس میں واپڈا سب سے بڑا اسٹک ہو لڈرز ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان قدرت کیطر ف سے 145ملین ایکڑ پا نی حاصل کر تا ہے ۔ مگر صرف 14ایکڑ فٹ ذخیر ہ کر پا تا ہے ۔ زمین کی تہہ میں Soiling ہو جا نے سے تر بیلا اور منگلاڈیم میں پا نی کا ذخیر ہ کر نے کی مقدرا کم ہو کہ 35تا40فیصد رہ گئی ہے ۔ اس وقت واٹر اسٹو ریج کی شر ح 30دن تک اور 94فیصد گراؤنڈ واٹر پاکستان میں زراعت کیلئے استعمال ہو تا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گڈگورنس کی کمی بھی اس سلسلے میں اہم ہے اور یہاں اس ملک می ڈیمو ں کے خلاف بیان با زی کی لا بیا ں مو جو د ہیں جو ڈونرزکو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہیں ۔ پاکستان کو پا نی کے اہم مسئلے کے حل کے لیے متواز قد م اُٹھا نے کی ضرورت ہے جو پا نی کیلئے مختلف ٹیکنا لو جیاں استعمال کرنا، واٹر سیفٹی اور زرعی سسٹم کی خفا ظت کر نا بھی ہے ۔ پاکستان دنیا میں48ممالک میں سے 46مما لک جو پا نی کے استعمال سے فوائڈ اُٹھا نے والوں میں شامل ہے ۔ پانی کی قلت راؤنڈ ٹیبل کا نفر نس کے ٹیکنیکل اجلا س سے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ اگر پاکستان نے پا نی ذخا ئر کی تعمیر کیلئے فوری طور پر کچھ نہ کیا تو اس کو پا نی کا سنگین بحران کا سامنا کر نا پڑیگا جو دہشت گردی سے زیا دہ تبا ہ کن ہو گا ۔ انہوں نے بھا رت کیطر ف سے انڈ س واٹر treatyمعاہدہ کی خلا ف ورزی پر جو وہ سر حد کے اُس پار ان دریا وں میں جو پاکستان کیطر ف آرہے ڈیم بنا نے پر سخت تشو یش کا اظہار کیا۔ وسیم وہرا نے کہاکہ بارش کے پا نی کے ضائع ہو نے اور پا نی کو دوبارہ قابل استعمال کر نے پر زور دیا ۔ مظہر تا لپور نے کہاکہ پا نی کو بہتر بنانے کیلئے ٹیکنا لو جی کا استعمال کر نا چا یئے ،سمند ر کے آلودہ پا نی جو دریا ئے سند ھ کیطر ف سے آرہا ہے کو کر اچی میں گھریلو استعمال کیلئے بہتر بنا کر استعمال ہو سکتا ہے ۔ طا ہر عمران قریشی نے کہاکہ پا کستانی عوام کیلئے صا ف ستھرا پا نی پینے کے لیے ہو نا چا ہیے جو گند�آلو دگی سے پا ک ہوتا کہ ہڈ یو ں اور گر دے کے مرض کی بیما ریو ں سے بچا جا ئے ۔ کا نفر نس کے اختتام پر فیصلہ ہو ا کہ ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر کی سر براہی میں کمیٹی برا ئے پا نی کی قلت قائم کر ے گی جو اپنی سفارشات پا نی کے مو ضو ع پر وزیر اعظم کو پیش کر گی کمیٹی اس سلسلے میں آب سے متعلق ما ہر ین کی سفا رشو ں کو بھی مد نظر رکھے گی۔

مزید :

کامرس -