نواز ، مریم ، صفدر کی سزاؤں کیخلاف درخواستوں پر سماعت آج پھر ہوگی

نواز ، مریم ، صفدر کی سزاؤں کیخلاف درخواستوں پر سماعت آج پھر ہوگی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید ، جسٹس محمد عاطر محمود اورجسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل فل بنچ کے روبرو سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمدصفدر کی سزاؤں کے خلاف دائردرخواستوں پر نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب آرڈیننس مردہ قانون نہیں ہے ،اسے آئین کے آرٹیکل 264(6)کے تحت تحفظ حاصل ہے ،اس آرٹیکل کے تحت نیب آرڈیننس کو دائمی قانون کا درجہ حاصل ہے ۔نیب کے وکیل کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی مزید سماعت آج 31اگست پر ملتوی کردی گئی ۔نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب خان بھروانہ نے عدالت میں مزیدموقف اختیار کیا کہ18ویں آئینی ترمیم کے تحت 1999ء کے عبوری آئینی فرمان (پی سی او)کو پارلیمنٹ نے کالعدم قراردیا تاہم اس پی سی او کے نفاذ کے دوران جاری کئے گئے آرڈیننسوں کو آرٹیکل264(6)کے تحت تحفظ دیا گیااور یہ قوانین نافذ العمل ہیں اور ان کے تحت کئے جانے والے اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔جب تک کوئی مجاز اتھارٹی اس قانون میں ترمیم یا اسے کالعدم کرنے کی منظوری نہیں دیتی یہ قانون موجود رہے گا ۔انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ 17ویں اور 18ویں ترمیم میں بھی اس قانون کو مردہ قانون قرار نہیں دیا گیا ،سابق صدر پرویز مشرف کی ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا گیا تاہم اس دور کے انتظامی احکامات ،نوٹیفیکیشنز، آرڈیننس اور قوانین کو برقرار رکھا گیا اور ان پر من و عن عمل ہوتارہا، نیب وکیل نے استدعا کی کہ درخواست گزار کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جائے،درخواست گزار لائیرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ نیب آرڈیننس بننے کے 120 دن بعد غیر موثر ہو گیا تھا اور نیب کا قانون 18ویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ ملک کے 3بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو اس قانون کے تحت سزا دی گئی جو کہ ختم ہو چکا ہے، میاں محمدنواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر)محمدصفدر کو مردہ قانون کے تحت دی گئی ہے،یہ سزا ئیں غیر قانونی ہیں،عدالت نواز شریف اور دیگر کو نیب کے مردہ قانون کے تحت دی گئی سزا ؤں کو کالعدم قرار دے۔

سماعت آج پھر

مزید :

صفحہ آخر -