پولیس اہلکاروں کی غنڈہ گردی ، وزیراعلیٰ کے علاقے سے لڑکیاں اغواکرنیکی کوشش

پولیس اہلکاروں کی غنڈہ گردی ، وزیراعلیٰ کے علاقے سے لڑکیاں اغواکرنیکی کوشش

  

تونسہ (تحصیل رپورٹر ) حدود تھانہ ریتڑہ کی حدود میں پولیس اہلکاروں نے باراتیوں کی تصویریں بنائیں ‘منع کرنے پر اسلحہ تان لیا‘ عورتوں کواٹھانیکی کوشش کی‘ شورشرابے پر مزید اوباش بلا لئے ۔سوٹوں ‘مکوں‘ تھپڑوں کا آزادانہ استعمال ‘بارات ماتم میں تبدیل ہو گئی۔ خواتین کے بال اور دوپٹے نوچ ڈالے گئے۔

تفصیل کے مطابق تونسہ شریف کا نواحی علاقہ ریتڑہ کے نزدیک جت والا کے مقام پر بارات کو پنجاب پولیس کے تین اہلکار اظہر،منور،اور اصغر نے اس وقت روک لیا جب محمد یوسف کی بارات واپس آ رہی تھی پوری بارات کو روک کر پنجاب پولیس کے شیر جوانوں نے ویڈیو اور تصاویر بنائیں جبکہ اس عمل سے مزکورین کو باراتیوں نے منع کیا تو اہلکاروں نے باراتیوں پر اسلحہ تان لیا اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرنیکی کوشش کی باراتیوں کے شور اورواویلا پر اہلکاروں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا‘ مزید اوباش بلا لئے‘ پوری بارات پر سوٹوں اور مکوں کا استعمال کیا اور بارات ماتم میں بدل گئی ۔کئی خواتین کو بالوں سے گھسیٹتے رہے اور دوپٹے بھی نوچ ڈالے۔ عورتوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے‘ مار پیٹ کرنے کے بعد عورتوں کے زیور بھی چھین لیئے جب تھانہ ریتڑا پولیس کو اطلاع دی گئی۔

پولیس نے روایتی طریقے سے حسب معمول دیر لگائی اور کئی گھنٹے بعد موقع پر پہنچی اور معمولی دفعات لگا کر اپنے پیٹی بھائیوں اور دیگر افراد پر ایف آئی آر درج کی گزشتہ روز دولہا محمد یوسف کے چچا محمد تنویر نے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں درخواست رٹ پٹیشن دائر کی تو عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی متعلقہ تھانہ میں کھلبلی مچ گئی تاہم ڈی ایس پی تونسہ نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہر صورت مظلوم کے ساتھ انصاف فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی تونسہ نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو حکم دیا کہ وقوعہ کے مطابق دفعات لگا کر رپورٹ کریں ‘اہلیان علاقہ نے ڈی ایس پی تونسہ ڈی پی او ڈیرہ اور اعلیٰ حکام سے اہلکاروں کے اس ستم پر فوری ایکشن لے کر گرفتار کرکے انہیں معطل کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔

اہلکاروں کی غنڈہ گردی

مزید :

صفحہ آخر -