پیپلز پارٹی کی پپُوزیشن

پیپلز پارٹی کی پپُوزیشن
پیپلز پارٹی کی پپُوزیشن

  

پیپلز پارٹی اپوزیشن نہیں پپُوزیشن کررہی ہے ، آصف زرداری جب بھی شہباز شریف سے ملیں گے وہ ان سے اس کے سوا کیا کہیں گے کہ ’’پپُو یار تنگ نہ کر!‘‘....پیپلز پارٹی اپوزیشن کی اپوزیشن کر رہی ہے اور حزب اختلاف کی مضبوط دیوار سے اینٹیں نکالنے میں مصروف ہے۔پیپلز پارٹی کے پینترے قابل دید ہیں۔

کیا مرکزکیا پنجاب، اگر پیپلز پارٹی نے ٹف ٹائم دیا ہے تو نون لیگ کو دیا ہے۔ ایسے میں اگر میڈیا بھی چپ سادھ لے تونون لیگ کی آہ وبکانقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو۔ ان دنوں عمران خان کی بدحواسی ہی نہیں آصف زرداری کی بدنیتی بھی عوام کا محبوب موضوع بنا ہوا ہے۔

اسی لئے پاکستان کی ساری سیاست عمران خان اور آصف زرداری کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ نواز شریف اڈیالہ جیل اور نیب عدالت کے درمیان گھوم رہے ہیں۔

آصف زرداری سیاست نہیں بلکہ شرارت کے موڈ میں ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کو ابھی نون لیگ سے خطرہ ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ جس طرح پیپلز پارٹی اپنی عوامی ساکھ کھو چکی ہے پی ٹی آئی بھی اسی طرح کھو دے ۔

اس سے قبل مال روڈ پر طاہرالقادری کے جلسے میں بھی آصف زرداری عمران خان کے انتظار میں تھوڑی دیر بیٹھے رہے تھے تاکہ نون لیگ کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا جا سکے لیکن پھر کارفرما قوتوں نے اپنا پلان تبدیل کرلیا اور فارم 45فارمولہ سلیکٹ کرکے عمران خان کو وزیرا عظم الیکٹ کروالیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک بھر کی سیاست مرکز اور پنجاب میں سمٹ گئی ہے جیسے کہ سیاست کا میدان جنگ پنجاب ہی ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ پنجاب کے علاوہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے ۔

کیا وہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے جسے میڈیا پر دکھایا جاسکے یا تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔ لگتا ہے کہ میڈیا سب کچھ گھیر گھار کر پنجاب اور مرکز میں کھینچ لایا ہے اور اب بھی نون لیگ سے زیادہ شور خود میڈیا مچا رہا ہے بلکہ حقیقت میں اس وقت سارا شور ہی میڈیا اور پی ٹی آئی کا ہے۔

سچ پوچھئے تو میڈیا کا تو بس نام استعمال ہو رہا ہے اصل کارروائی تو سوشل میڈیا پر ڈالی جا رہی ہے ۔ لوگ موبائل فونوں کے کیمروں سے اس قدر گھبرائے ہوئے ہیں کہ اب سرکاری اجلاسوں میں چائے کے سوا کچھ پیش نہیں کیا جاتا کہ کہیں کوئی چوری چھپے فلم بنا کر سوشل میڈیا پر نہ ڈال دے اور انہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ سوشل میڈیا سے ہے لیکن ذرا عمیق نظری سے دیکھئے تو یہ نورا کشتی لگتی ہے اور لوگ یہ نورا کشتی دیکھنے میں اس قدر مگن ہیں کہ کسی کو یاد ہی نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی معاشی ایجنڈا بھی تھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اگر کوئی وزیر سب سے زیادہ گم شدہ ہیں تو وزیر فنانس اسد عمر ہیں ۔

وہ سب سے کم سنائی اور دکھائی دے رہے ہیں جبکہ انڈسٹری کے حلقے کہتے ہیں کہ انڈسٹری کو مسئلہ پنجاب میں ہے اور اسد عمر کی ساری توجہ کراچی پر ہے اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی ہو یا اکنامک ایڈوائزری کمیٹی ، ہر جگہ کراچی کی اجارہ داری نظر آرہی ہے۔

ہیلی کاپٹر کا چیپٹر بند ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے تاہم جس طرح ڈاکٹر عامر لیاقت نے کراچی سے سکائی لیپ چھوڑ ا ہے اس سے لگتا ہے کہ پی ٹی آئی نے وہی حکمت عملی اپنائی ہے جو ریحام خان کی کتاب کے منظر عام پر آنے سے پہلے اپنائی گئی تھی کہ خود سے جھوٹی کہانیاں گھڑ کر میڈیا پر ایک بحث شروع کروائی اور جب اصل کتاب آئی تو میڈیا ریحام خان کو ڈسکس کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھی ۔

اگر اس مفروضے کو موجود صورت حال پر منطبق کیا جائے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ جب 100دن مکمل ہوں تو کوئی بھی کسی بھی جگہ اس پر بحث نہ کر رہا ہو کہ آخر پی ٹی آئی نے پہلے سو دنوں میں کیا کیا ہے ۔ شائد اسی لئے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے حلقے کہتے ہیں کہ وہ 100دن مکمل ہونے سے پہلے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے ۔یار لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عامر لیاقت ریحام خان سے بڑی گیم ہے ۔

سوشل میڈیا اہتمام سے عمران خان کے دعووں کو داغوں سے سجا رہا ہے ، ان کے ہر دعوے کو داغدار کیا جا رہا ہے ۔ میڈیا نے اس سے کہیں زیادہ ہیلی کاپٹر اڑایا ہے جتنا اب تک عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالا کے درمیان اڑایا ہوگا۔میڈیا خود سے خبریں بناتا ہے ، تجزیے کرتا ہے اور خود ہی جواب مانگتا نظر آتا ہے ۔ اسے اس شور شرابے کے لئے نون لیگ کی ضرورت ہے نہ پیپلز پارٹی کی ہے۔

یہ میڈیا اور پی ٹی آئی کی ملی بھگت لگتی ہے۔ ہیلی کاپٹر کا معاملہ صدارتی انتخاب سے بڑھ کر اہمیت اختیا ر کر چکا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں صدر کے عہدے کی کیا اہمیت ہے ۔

مزید : رائے /کالم