موجودہ اسمبلیاں دھاندلی کی پیداوار ، انہیں تسلیم نہیں کرتے ، فضل الرحمن

موجودہ اسمبلیاں دھاندلی کی پیداوار ، انہیں تسلیم نہیں کرتے ، فضل الرحمن

  

 کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر اور صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ موجودہ اسمبلیاں دھاندلی کی پیداوار ہے ہم نے ان کو پہلے بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور اب بھی تسلیم نہیں کرتے، ہم اسمبلیوں کے اندر جانے اور نہ ہی حلف اٹھانے کے حق میں تھے، سپیکراور ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کے الیکشن کے بعد ہمیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی والے ہمارا ساتھ دیتے تو ہم یقیناًکامیاب ہوجاتے اس لئے ہم نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میاں شہباز شریف اورعمران خان کے ووٹوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری سے اور دیگر مرکزی قیادت سے میرا رابطہ ہے اور ان کے پیغام دیا گیا ہے کہ اگرہم ابھی اکٹھے نہ ہوئے تو یقیناًدوسری پارٹی کامیاب ہوجائے گی، میں متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں کا مشترکہ امیدوار ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کی انتخاب پر پیپلزپارٹی نے میاں شہباز شریف کو ووٹ نہیں دیا اگر وہ ووٹ دیتے تو یقیناًمسلم لیگ(ن) کے صدر کامیاب ہوجاتے کیونکہ وزیراعظم کے الیکشن سے پہلے سپیکر وڈپٹی سپیکرکے انتخاب میں ہم نے دیکھا کہ اپوزیشن اور تحریک انصاف کے درمیان ووٹوں کا زیادہ فرق نہیں ہے۔ اگر پیپلزپارٹی اس وقت اپوزیشن کا ساتھ دیتی تو یقیناًہماری کامیابی تھی اب بھی ہم پیپلز پارٹی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ مجھے ووٹ دے کیونکہ میں متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں کا صدارتی امیدوار ہوں اور مجھے دوگرپوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، میری بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے بھی بات ہوئی اور ملاقات بھی ہوگی اس کے علاوہ بلوچستان سے مجھے مسلم لیگ (ن) اے این پی، نیشنل پارٹی کے میر حاصل خان بزنجو اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے سے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائینگے بلکہ اپنے ملک کی بہتری کیلئے خود ایسے اقدامات کرینگے کہ ہمیں قرضے نہ لینے پڑیں مگر اب وزیر خزانہ کہ رہاہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جائینگے اور قرضہ لیں ۔انہوں نے کہا ابھی تک موجودہ حکومت کو چلانے کے بارے میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی کیونکہ صرف ہیلی کاپٹر سے بنی گالہ اور وزیراعظم ہاؤس آنے جانے سے معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف نے 22سال کی محنت کو 10دس میں ضائع کردیا ہے کیونکہ وہ حکومت کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا امید ہے کہ آصف علی زرداری ہماری گزارش پر اپنا امیدوار میرے حق میں دستبرار کرادے تو اس سے دنیا کو ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ انہوں نے کہا اس الیکشن میں ہمیں بہت زخم لگے ہیں مگر ہم انہیں بھول کرآگے کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ ملکی مستقبل کیلئے جو بہتر ہوسکتا وہ ہم کرسکیں۔ مولانا فضل الرحمن سے جب پوچھا گیا کہ آصف علی زرداری اس لئے آپ کے حق میں اپنے امیدوار کو دستبرارنہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسوں کی زیر سماعت جاری ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگ مشکل وقت میں مشکل سوالات نہ کریں کیونکہ اس وقت میرے لئے جواب دینا مشکل ہے۔

مولانا فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -