ہیلی کاپٹر کے مصرع طرح پر طبع آزمائی کے دوارن غزلوں میں آوارہ مصرعے بھی آگئے

ہیلی کاپٹر کے مصرع طرح پر طبع آزمائی کے دوارن غزلوں میں آوارہ مصرعے بھی آگئے
ہیلی کاپٹر کے مصرع طرح پر طبع آزمائی کے دوارن غزلوں میں آوارہ مصرعے بھی آگئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

 ہیلی کاپٹر ایک سنجیدہ معاملہ ہے لیکن سیاست کے میدان میں یہ بازیچہ اطفال بن کے رہ گیا ہے، سیدھے سبھاؤ اگر اس کا استعمال جاری رہتا اور اسے خواہ مخواہ کھینچ تان کر کسی حقیقی یا فرضی سادگی سے نہ جوڑا جاتا اور سادگی کی اداکاری نہ کی جاتی تو شاید لوگ بھی اس کھکھیڑ میں نہ پڑتے لیکن اب اس مصرع طرح پر وہ وہ طبع آزمائی ہورہی ہے کہ اس طبع آزمائی کے دوران غزلوں کے اکثر مصرعے شاعری کی اصطلاح میں آوارہ ہوجاتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس سے اپنے بنی گالہ والے گھر میں بذریعہ ہیلی کاپٹر جایا کریں گے، یہ فیصلہ کرنا ان کا حق تھا، ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی ان کا استحقاق ہے، لیکن جب اس کا تعلق ایسی سادگی سے جوڑ دیا گیا، جس سے تعلق بنتا نہیں ہے تو پھر اعتراضات بھی ہونے لگے اور ان میں لا یعنی اعتراضات بھی شامل ہیں، اس کا ایک جواب تو یہ تھا کہ سنجیدگی سے ایک موقف اختیار کرلیا جاتا اور اس پر ڈٹ جایا جاتا لیکن جواب یہ دیا گیا کہ ہیلی کاپٹر کا تو خرچہ ہی 55 روپے گھنٹہ ہے، اب اس پر تبصرے بھی تو پھر اسی طرح ہونے تھے جس طرح ہورہے ہیں، اختر ریاض الدین نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ اپنے جاپان کے سفر کے دوران انہوں نے ایک جاپانی سے کہا کہ آپ کے ہاں سنجیدگی بہت ہے، دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں آپ کی زندگی پر اس کا غلبہ رہتا ہے، آپ تھوڑا بہت وقت ہنسی مذاق کے لئے بھی نکالا کریں، سننے والے نے یہ مشورہ اتنی سنجیدگی سے لیا کہ جیب سے ڈائری نکالی اور اس پر لکھا کہ روزانہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک نصف گھنٹے کے لئے قہقہہ بار ہوا جایا کرے گا۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ 55 روپے فی گھنٹے والی بات مذاق میں کی گئی تھی یا سنجیدگی سے، لیکن اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ جنہوں نے یہ حساب لگایا ان کی اپنی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ جب سلیم صافی نے پروگرام میں انکشاف کیا کہ سابق (مقہور) وزیراعظم جتنی بار بھی وزیراعظم رہے وہ وزیراعظم ہاؤس کے کچن کا خرچہ ذاتی طور پر برداشت کرتے تھے، تو انہوں نے اس پر تبصرہ کیا کہ ہاں کسی وقت سینڈوچ کا بل 700 روپے دے دیا ہوگا، حالانکہ اطلاعات یہ ہیں کہ کئی گھنٹے کی تلاش و جستجو میں بھی کچن کے شاہانہ سرکاری اخراجات کی کوئی مثال تلاش نہ کی جاسکی، اب جب ہیلی کاپٹر کے پھیروں پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو ایک بار پھر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سابق وزیراعظم تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نہاری منگوایا کرتے تھے، ایسے غیر سنجیدہ ماحول میں ہیلی کاپٹر پر اسی طرح کی باتیں ہوسکتی ہیں جیسے ہورہی ہیں، بعض حضرات واقعی سنجیدگی سے یہ فرماتے سنے جارہے ہیں کہ وزیراعظم ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں، کس کافر نے کہا ہے کہ نہیں رکھتے، لیکن انہیں وزیراعظم ہاؤس کے اندر رہنے کا استحقاق بھی تو ہے وہ اپنے اس حق کو چونکہ استعمال نہیں کررہے اس لئے سادہ لوح لوگوں نے سمجھ لیا کہ جس طرح وہ وزیراعظم ہاؤس میں رہنا پسند نہیں کررہے اسی طرح وہ اپنے بعض دوسرے استحقاقات سے بھی دستبردار ہوجائیں گے، ہمارے خیال میں ہیلی کاپٹر کی یہ لایعنی بحث شروع ہی اس کنفیوژن کی وجہ سے ہوئی، اگر آج وزیراعظم اپنا ہر استحقاق حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا شروع کردیں اور دودھ میں مینگنیاں ڈالنے جیسے مظاہرے سے گریز کریں تو یہ اعتراضات بھی ختم ہوجائیں گے۔ سیاست میں بعض اقدامات عوام کو دکھانے کے لئے ہوتے ہیں، ان سے مطلوبہ تاثر پیدا ہوتا ہے یا نہیں لیکن کوشش یہی کی جاتی ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ ہمارا رہنما بڑا عوامی ہے اور عوام کے درمیان رہنا پسند کرتا ہے لیکن ایسا تاثر اگر نیچرل انداز میں پیدا ہو تو مثبت ہوتا ہے لیکن اگر سارا ماحول مصنوعی نظر آرہا ہو تو پھر وہ تاثر نہیں بنتا جو بنانا مطلوب و مقصود ہوتا ہے۔ سادہ زندگی گذارنا قابلِ تعریف عمل ہے، لیڈر اگر سادگی اختیار کرے تو اور بھی لائق ستائش ہے، لیکن اگر سادگی کی بجائے سادگی کی اداکاری کی جارہی ہو تو پھر ہیلی کاپٹر جیسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے ایسے میں سنجیدہ اور لائقِ توجہ اقدامات پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور بظاہر نظر آنے والی چیزیں بحث مباحثے کا موضوع بن جاتی ہیں، ہماری ایک خاتون وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر گئیں تو پورے میڈیا نے ایکا کرکے ان کے دورے کے مقاصد کو پسِ پشت ڈال کر ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر تبصرے شروع کردیئے، کوئی ان کے کپڑوں کے ساتھ میچنگ پرس کی تعریفیں کررہا ہے تو کوئی لباس کے رنگ اور تراش خراش کے ذکر سے خوش ہورہا ہے، کسی کو جوتوں کا ڈیزائن پسند ہے تو کوئی ان کی عینک کی تعریف کررہا ہے، اور اپنے سامعین کو دعوت دے رہا ہے کہ ذرا حساب لگا کر اس کی قیمت تو بتائیں، وغیرہ وغیرہ، یوں دورہ تو گیا بھاڑ میں، اس کا مقصد کیا تھا اور اس سے حاصل کیا کرنا مقصود تھا تمام میڈیا ایسی بحث میں الجھا رہا جس کا کچھ حاصل حصول نہ تھا، ایسا بہت سے مواقع پر کیا جاتا ہے، صدر اوباما بھارت کے دورے پر گئے تو وزیراعظم مودی نے انہیں اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلائی، مہمانِ عزیز کو اپنے ہاتھ سے چائے پیش کرنا اچھی مہمان داری کا ثبوت ہے، اگر مودی نے ایسا کردیا تو اس میں حیرت و استعجاب کی کیا بات ہے، لیکن یار لوگوں نے اسے مودی کے بچپن سے ملا دیا جب وہ چائے کے ایک سٹال پر چائے بنانے پر ملازم تھے، ابھی زیادہ دن نہیں گذرے ہمارے قومی اسمبلی کے ایک رکن کا ذکر بھی چائے کے حوالے سے آیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی کروڑ پتی ہیں، اور انہوں نے اپنے اثاثے کروڑوں میں ڈیکلئر کئے ہیں، زندگی کے ہلکے پھلکے پہلوؤں کا تذکرہ اگر اسی انداز میں ہو تو اچھا ہے، تحریک انصاف کی حکومت میں اگر پروٹوکول کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن اس ماحول میں بھی اگر بعض وزیروں کا دل پروٹوکول کے لئے مچلتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں پروٹوکول ملتا رہے یا وہ وزیروں کے لئے مخصوص لگژری گاڑی میں سفر کرتے رہیں تو انہیں ایسا کرنے دینا چاہئے، انسان کو مشینی سانچے میں نہیں ڈھالا جاسکتا، اس حکومت کے بھی بعض گورنر اور وزیر اگر پروٹوکول کی خواہش رکھتے ہیں تو ان پر نکتہ چینی کرتے وقت ہاتھ ہولا رکھنا چاہئے، اور فوکس ایشوز اور ان کے حل پر رہنا چاہئے، فروعات سے صرفِ نظر ہی بہتر ہے۔

مزید : تجزیہ