گھروں پر پتھر پھینکنے کا واقعہ ،پولیس نے لائحہ عمل تیار کرلی

گھروں پر پتھر پھینکنے کا واقعہ ،پولیس نے لائحہ عمل تیار کرلی

  

مٹہ (رحیم خان ) مٹہ میں رات کو گھروں کو پتھر پھینکنے اور دروازوں کو زور زور سے کھٹکھٹانے والے افراد کے طرف سے پیدا کردہ خوب وہراس کو ختم کرنے کیلئے مٹہ پولیس نے مضبوط لائحہ عمل کو اخری شکل دے دی بھاری تعداد میں پولیس نفری مٹہ طلب مٹہ میں 25اہم اور حساس مقامات پر پولیس نفری رات بھر تعینات کرنے کا فیصلہ چھ پولیس موبائل گاڑیاں اور پولیس بکتر بند گاڑی رات بھر گشت کرینگے ایک ایس پی اور دو ڈی ایس پیز سمیت دیگر افسران رات بھر نگرانی کرینگے مٹہ میں جاری خوف وہراس کو ختم کرنے اور اس خوف وہراس میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے پولیس کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اعلیٰ پولیس احکام کے بات چیت ڈی ایس پی مٹہ نے پولیس لائحہ عمل اور بھاری تعداد میں پولیس نفری مٹہ کو طلب کرنے اور تعینات کرنے کی تصدیق کردی تفصیلات کے مطابق حالیہ کچھ ہفتوں سے مٹہ تحصیل کی مختلف علاقوں میں لوگوں کی گھروں کو نامعلوم افراد کے طرف سے پتھر پھیکنے اور علاقے میں خوف وہراس پیدا کرنے والے افراد کے خلاف مٹہ پولیس نے اعلیٰ احکام کے ھدایات اور نگرانی میں مضبوط لائحہ عمل کو اخری شکل دی ہے موصول اطلاعات کی مطابق مٹہ تحصیل میں موجود پولیس نفری کی علاوہ بھاری تعداد میں پولیس نفری پولیس لائن سے بھی مٹہ طلب کی گئی ہے اور مٹہ تحصیل کی25مختلف اہم اور حساس مقامات پر ان پولیس نفری کو تعینات کی گئی ہے جبکہ مٹہ تحصیل کے مختلف علاقوں میں رات بھر چھ پولیس موبائل گاڑیاں پولیس بکتر بند گاڑی بمعہ پولیس نفری ایس پی لوئر سوات اور برسوات خان خیل کے نگرانی اور دو ڈی ایس پیز اکبر خان شنواری اور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اکبر حیات سمیت دیگر پولیس فسران کے قیادت میں رات بھر گشت کرینگے موصول اطلاعات کی مطابق اس وقت اس لائحہ عمل کی تحت بڑی تعداد میں سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار مختلف علاقوں میں بھی تعینات کی گئی ہے موصول اطلاعات کی مطابق پولیس نفری میں پولیس کمانڈوز کی بھی نفری شامل کی گئی ہے اور موصول اطلاعات کی مطابق پولیس کے موجودہ مضبوط لائحہ عمل ذمہ دار افراد کی گرفتاری اور علاقے میں خوف وہراس ختم کرنے تک جاری رہیگی ادھر جب اس بارے میں ڈی ایس پی مٹہ سرکل اکبر خان شنواری سے رابط کیا گیا تو انہوں نے پولیس کے طرف سے اس نئے مضبوط منصوبہ بندی کی بارے میں تصدیق کردی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس خوف وہراس کی کیفیت کو ختم کرنے اور ذمہ داروں کو قانون کی حوالے کرنے میں پولیس کیساتھ بھرپور تعاون کریں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -