اسلامیہ یونیورسٹی میں40کروڑ کی مبینہ خورد برد

اسلامیہ یونیورسٹی میں40کروڑ کی مبینہ خورد برد

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹرقیصرمشتاق نے اسلامیہ یونیورسٹی میں مالی بے ضابطگیوں کے ذریعے40 کروڑ روپے کی مبینہ خوردبرد کی۔ سابق پرنسپل سکیورٹی آفیسر وڈائریکٹر سپورٹس امجد فاروق وڑائچ نے وائس چانسلر کی مالی بے ضابطگیوں بارے وائٹ پیپر شائع کردیا جس میں وائس چانسلر کی بے ضابطگیوں‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اوراقرباپروری کے ثبوت شامل کیے گئے ہیں ۔ وائٹ پیپر میں کہاگیاہے کہ سانحہاے(بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

پی ایس کے بعدحکومتی ہدایات پریونیورسٹی کے خواجہ فریدکیمپس اوربغدادکیمپس کی چاردیواری کی تعمیرمیں وائس چانسلر نے جان بوجھ کرتاخیرکی خواجہ فریدکیمپس کی چاردیواری کی تعمیر کاٹھیکہ سابق وائس چانسلر نے1960 روپےRFT میں براق نامی کمپنی کامنظورکیاجس پر7 ماہ کی جان بوجھ کرتاخیرکی گئی اور اس تاخیر کے باعث تعمیرکے اخراجات کی لاگت بڑھاکر رقم خردبرد کرلی گئی بغدادالجدیدکیمپس کی12 کلومیٹرطویل باؤنڈری وال کاٹھیکہ ڈاکٹرقیصرمشتاق نے4000 روپےRFT میں فیصل آباد کی ایک من پسندفرم کامنظورکیااور14 کروڑ66 لاکھ40 ہزار کے اس کام میں بھاری کمیشن لیاگیا بغدادالجدیدکیمپس کی چاردیواری کیساتھ460 سولرلائٹس لگوائی گئیں ہرلائٹ کی قیمت ایک لاکھ95 ہزار وصول کی گئی اور8 کروڑ97 لاکھ کے اس کام میں بھاری بھرکم کمیشن وصول کیاگیاوائس چانسلر نے اوررٹائم کی مدمیں بھی سرکاری خزانہ کوکروڑوں کاٹیکہ لگایا اورشام کی کلاسز کواس کاجواز بنایاجبکہ شام کی کلاسز وائس چانسلر قیصرمشتاق نے ختم کردیں اس سلسلہ میں سنڈیکٹ سے بھی منظوری نہیں لی گئی وائس چانسلر نے سابق وائس چانسلر کے22 ہزار ماہوار اوررٹائم کے محاذ خود3 لاکھ 60 ہزاراوررٹائم ماہوار وصول کرناشروع کیااوراپنے لئے جواز بنانے کی خاطر رجسٹرار، کنٹرولر، خزانہ دار، آڈٹ آفیسر، ڈپٹی رجسٹرار ، اسسٹنٹ رجسٹرار، ڈپٹی کنٹرولر، اسسٹنٹ کنٹرولر، اسسٹنٹ ٹریژار اوردفتری سٹاف کے اوررٹائم میں تھی کئی سوگنااضافہ کردیا اس طرح انہوں نے سرکاری خزانہ کو7 کروڑ روپے سے زیادہ کانقصان پہنچایا ڈاکٹرقیصرمشتاق نے گریڈ17 اورگریڈ18 میں یونیورسٹی قواعدکے برعکس11 افسروں کواقرباپروری کرتے ہوئے نوکریاں دیں‘ میجرثاقب کی بھرتی میں11 لاکھ25 ہزار ڈائریکٹر آئی ٹی کی آسامی33 لاکھ60 ہزار اورگریڈ18 کی آسامیوں18 لاکھ90 ہزار، گریڈ17 کی آسامیوں میں26 لاکھ روپے کی ناجائز ادائیگیاں کی گئیں وائس چانسلر نے غیرقانونی طورپرلیگل کونسل کاتقررکیااورسنڈیکٹ کی لیگل کونسل کیلئے منظور شدہ فیسوں کے برعکس نیالیگل کونسل مقررکرکے اسے فی کیس زیادہ مشاہرہ دیااورتین سال کے دوران یونیورسٹی کوایک کروڑ روپے کاٹیکہ لگادیا۔ وائس چانسلر نے20 سے زائد چیئرمینوں، انچارج گیسٹ ہاؤس، ڈائریکٹر بہاولنگر کیمپس، چیف سکیورٹی آفیسر، پرنسپل زرعی کالج، پرنسپل انجینئرنگ کالج، پرنسپل وٹرنری کالج، پرنسپل فائن آرٹس کالج کوغیرقانونی طورپرایڈیشنل چارج دے کرانہیں ایک کروڑ روپے کی غیرقانونی ادائیگیاں کیں وائس چانسلر نے انکم ٹیکس کی مدمیں 11 لاکھ روپے خردبرد کئے جبکہ یونیورسٹی کے انکم ٹیکس کی مدمیں14 لاکھ کی ادائیگی نہیں کی وائس چانسلرنے واپڈاکے چوری شدہ بجلی کے میٹروں کی خریداری کی اورایک لاکھ80 ہزار کی ناجائز ادائیگی کی یہ میٹر واپڈااورایف آئی اے کی ٹیموں نے پکڑلئے اوراتار کرلے گئے حکومت کی طرف سے طالب علموں کیلئے دیئے گئے لیپ ٹاپس ادھرادھرکیے گئے اور اس چوری کوچھپانے کیلئے یونیورسٹی آڈٹیوریم میں آگ لگوادی گئی اور273 لیپ ٹاپس کاجلناظاہرکرکے ایک کروڑ10 لاکھ روپے کانقصان کیاگیا۔ وائٹ پیپر کے مطابق وائس چانسلر گاڑیاں کابے دریغ استعمال کرتے ہیں قواعد کے مطابق وہ1300 سی سی کی ایک گاڑی رکھ سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے پاس سات گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں جن میں ایک2700 سی سی فارچون ڈالابھی ہے اوراس طرح وائس چانسلر نے اپنے پول کی گاڑیوں کیلئےPOL کی مدمیں35 لاکھ روپے کی ناجائز ادائیگیاں کیں وائس چانسلر قیصرمشتاق نے حکومتی سادگی اپناؤکے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے نئی لگژری گاڑیاں خریدکی ہیں جن میں فارچونر2700 سی سی،52 لاکھ میں خریدی،11 عددXLI اوردوHILX ڈالوں کی خریداری کاحال ہی میں بھی آرڈر دیااور2 کروڑ50 لاکھ کی ادائیگیاں کیں جویونیورسٹی پرمالی بوجھ ہے اورحکومتی احکامات کی نفی ہے وائٹ پیپر میں مزیدالزامات بھی عائدکیے گئے ہیں وائٹ پیپر کی کاپیاں وزیراعظم، چیف جسٹس، وزیراعلی پنجاب، گورنرپنجاب،چیف سیکرٹری، چیئرمین نیب ،ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اوردیگراعلی حکام کے علاوہ میڈیاکوبھی بھجوائی گئی ہیں جب ان الزامات کے سلسلہ میں ترجمان اسلامیہ یونیورسٹی سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ یہ الزامات نئے نہیں ہیں ہم اپناموقف بعدمیں دیں گے۔

مالی بے ضابطگیاں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -