نشتر: آڈٹ افسر‘ اکاؤنٹنٹ کی ملی بھگت‘ دواساز کمپنی کو زائد رقم ادا کرنیکا انکشاف

نشتر: آڈٹ افسر‘ اکاؤنٹنٹ کی ملی بھگت‘ دواساز کمپنی کو زائد رقم ادا کرنیکا ...

  

ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال کی انٹرنلآڈٹ آفیسر اور اکاؤنٹینٹ کی ملی بھگت سے نجی فارماسوٹیکل کمپنی کو ادویات کی خریداری کی مد میں چار لاکھ روپے سے زائد رقم کی ادائیگی کرنے کا(بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

انکشاف ہوا ہے جبکہ انکوائری میں چہیتوں کو بچانے کیلئے ملبہ جان بوجھ کر نچلے عملے پر ڈال دیا ہے۔اس بارے میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال کی انٹرنل اڈٹ افیسر رضوان نے اپنی دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سرین میڈیسن کمپنی کو چار لاکھ سے تیراسی ہزار روپے سے زائد رقم کی ادائیگی کی۔واضح رہے اس رقم کی ادائیگی نشتر ہسپتال انتظامیہ نے اس وقت بذریعہ چیک کی تھی جس پر انٹرنل آڈٹ آ فیسر رضوان کی جانب سے دستخط کیا اور اوور رائیٹنگ بھی کی گئی ہے۔اس بارے میں معلوم ہونے پر سابق وائس چانسلر پروفیسر احمد اعجاز مسعود نے ایک انکوائری کمیٹی بنائی۔جس کے چیرمین پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد جبکہ ممبران میں دیگر کو شامل کیا گیا۔یہاں ذرائع سے مزید معلوم۔ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال کا ایک عہدے کا آفیسر جو رضوان انٹرنل آڈٹ آفیسر سے ملا ہوا ہے۔رضوان نے اس افسر کے گھر جا کر منت سماجت کرکے انکوائری کا رخ اپنے اوپر سے تبدیل کرکے دیگر نچلے بندوں پر ملبہ جان بوجھ کر ڈلوا دیا ہے حالانکہ نجی فارماسوٹیکل کمپنی کو ایکسٹرا پیمنٹ کرنے میں رضوان اور ظفراسلام اکاٹنٹ برابر کے ذمے دار ہیں۔نشتر ملازمین نے اس صورت حال کے پیش نظر انکوائری دوبارہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ دوسری جانب نشتر ہسپتال انتظامیہ نے اس بارے میں اپنا موقف دنیے کی بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -