ٹیکس ناد ہند گان کو گھیرنے کی پالیسی فلاپ لاکھوں نوٹسز واپس

ٹیکس ناد ہند گان کو گھیرنے کی پالیسی فلاپ لاکھوں نوٹسز واپس

  

ملتان (نیوز رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کوریئر سروس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو نوٹس بھجوانے کی پالیسی بری طرح فلاپ ہوگئی ہے۔ نامکمل(بقیہ نمبر47صفحہ7پر )

ایڈریس اور کوریئر سروس کی عدم دلچسپی کے باعث ملتان سمیت ملک بھر کے آر ٹی اوز کی جانب سے بھجوائے جانیوالے نوٹسز لاکھوں کی تعداد میں واپس پہنچنے لگے ہیں جس کے باعث ایف بی آر حکام کی ٹیکس دہندگان تک رسائی منقطع ہونے سمیت کوریئر سروس کمپنی کو نوٹسز کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کے ڈوبنے کے خدشات بھی واضح ہوگئے ہیں جبکہ ملک بھر کے آر ٹی اوز میں نوٹس سرورز کی موجودگی کے باوجود پرائیویٹ کوریئر سروس کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو نوٹس بھجوانے کے عمل نے ایف بی آر حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیئے ہیں۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق تمام آر ٹی اوز کے دفاتر میں نائب قاصد سے لیکر نوٹس سرور موجود ہے اور ماضی میں انہی کے ذریعے نوٹس کی تعمیل کروائی جاتی رہی ہے تب ٹیکس دہندگان کی تعداد بھی 15سے 16 لاکھ کے قریب تھی جو افسران کی جدید پالیسیوں سے سکڑ کر 6لاکھ ٹیکس دہندگان تک آ پہنچی ہے۔ علاوہ ازیں ایف بی آر حکام ٹیکس ہندگان کو نوٹس بھجوانے کیلئے سرکاری محکمہ پوسٹل سروس سے خدمات حاصل کرسکتے ہیں لیکن ان کی موجودگی میں نجی کوریئر سروس کا انتخاب بہت سے شکوک و شبہات کا باعث ہے۔ ذرائع کے مطابق آر ٹی او ملتان سمیت ملک بھر کے آر ٹی اوز سے کوریئر سروس کے ذریعے بھجوائے جانیوالے نوٹسز کی متعلقہ ایڈریس پر پہنچنے کی شرح دس فیصد ہے جبکہ 90 فیصد نوٹسز کوریئر سرورس کمپنی مختلف اعتراض لگا کر واپس بھجوا دیتی ہے لیکن اپنے چارجز وصول کرلیتی ہیں پوسٹل سروس کی موجودگی میں ان اندھیرنگر کا جواگز کیا ہے جس کے باعث کروڑوں کا نقصا ہوا ہے۔

کوریئر سروس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -