تعلیم ، صفائی اور پانی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے : وزیر اعلی سندھ

تعلیم ، صفائی اور پانی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے : وزیر اعلی سندھ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کہ تعلیم ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اس کے بعد پانی ، صفائی ، اربن ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہے لہذا اس حوالے سے ان کی حکومت کے ساتھ معاونت کی جائے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایک وفد جس کی سربراہی اس کے ڈائریکٹر جنرل سینٹرل ویسٹ ایشین ڈیپارٹمنٹ(سی ڈبلیو آر ڈی) ورنر لائپیچ کررہے تھے کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر کہی۔ وفد کے دیگر اراکین میں مس رائی ہیراؤ کا ، ڈائریکٹر سوشل سیکٹر(سی ڈبلیو آر ڈی) زیانگ یانگ کنٹری ڈائریکٹر پاکستان،میاں شوکت شفیع سینئر پروجیکٹ آفیسر، نصراللہ میاں پی آر ایم سینئر پروگرام آفیسر،مس ثنا مسعود پروجیکٹ ڈائریکٹر اور چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیحات میں تعلیم ، صحت ،پانی اور صفائی ، اربن ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانا شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سیکٹر ز کی مجموعی بہتری وقت کی ضرورت ہے لہذا ہم نے اس پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے کراچی کی گنجان آبادی کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پانی کی فراہمی اور ڈرینیج کی اسکیموں کی صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیراعلی سندھ کو فنی اور مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس بات پر اتفاق کیاگیا کہ صوبائی حکومت محکمہ پی اینڈ ڈی کے ذریعے مجوزہ ڈی سیلینیشن پلانٹس پانی اور نکاسی آب کی اسکیموں کی تفصیلات اے ڈی بی کو فراہم کی جائیں۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے بتایا کہ اے ڈی بی کے تعاون سے سندھ پراونشل امپرومنٹ پروگرام (ایس پی آر آئی پی) کے تحت 227.5 ملین ڈالرز سے 328 کلومیٹر کی سڑکوں کی 6 اسکیمیں تعمیر ہوچکی ہیں اور ان کا کام تقریبا مکمل ہوچکاہے۔ ان میں بدین ، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، میر پور خاص ، سانگھڑ ، جیکب آباد ، کندھ کوٹ ۔ کشمور اور لاڑکانہ شامل ہیں ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان 6سڑکوں کی تعمیر سیسندھ حکومت کو 38.92ملین روپے کی بچت ہوئی ہے،صوبائی حکومت سڑکوں کی 3 دیگر اہم اسکیموں پر بھی کام کررہی ہے جس کی لمبائی82 کلومیٹر ہے۔ ان میں سہون ریلوے کراسنگ N-55 سے دادو براہ ٹلٹی دادو مورو روڈ تک ۔یہ تقریبا 32 کلومیٹر ہوگا۔چمبڑ تاٹنڈو الہ یار 22 کلومیٹر سڑک اور جہان خان(N-65) تا فیضو لاڑو(N-55)براہ چکٹاؤن سکھر۔شکارپور ایریا28 کلومیٹر طویل سڑک شامل ہیں۔اے ڈی بی کے اراکین نے ان 3 سڑکوں کیلیے پیکیج دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ اے ڈی بی کی ٹیم کو بتایا گیا کہ 847 کلومیٹر کی 20 سڑکوں کی وزیر اعلی سندھ نے منظوری دی ہے۔ اس پر مجموعی طورپر 41,200ملین روپے لاگت آئے گی۔ پی ڈی ڈبلیو پی اور وفاقی حکومت کی سی ڈی ڈبلیو پی اس کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے اور انہیں فنانس کی ضرورت ہے تاکہ کام شروع کیاجاسکے۔ ان سڑکوں میں مہران ہائی وے،سوئی گیس چوک تا ہنگورجا(N-5) اسٹاپ براہ سیٹھارجا ،مہران ہائی وے۔ پکہ چانگ اسٹاپ تا (N-5) بھریا اسٹاپ،قاضی احمد تا دوڑ،ڈوکری تا رادھن براہ بڈنظیر آباد لنک کے ساتھ ٹنڈومحمد خان تا سجاول براہ بلڑی شاہ کریم سڑک،حیدرآباد تا ٹنڈو غلام علی براہ شیخ بھرکوسڑک،گلاب لغاری چمبڑ سے لنک،ڈاڈلوئی تاعادل پوربراہ چھاچھرو پنوعاقل براہ روجھاؤلنک کے ساتھ،ٹھل تابھاؤ کھوسو الہ آباد(بلوچستان کی سرحد) کے ساتھ لنک روڈ،N-5تا خیر پور ۔ لاڑکانہ روڈبراہ احمد پور اور ریپری تک سڑک،شکارپور تا چک جہان خان خان پور اور لکھی کے ساتھ لنک روڈ، شہداد کوٹ تا رتوڈیرو براہ میرو خان۔قمبرلنک روڈ،شکارپور تا سکھر ۔ لاڑکانہ بدو براہ ڈرکھن لنک روڈ،میرپور ماتھیلو تا خان پور حیات پتافی سے جرواڑ تک لنک روڈ ،مٹیاری تا اوڈیرو لعل براہ نصر پورسڑک،ٹھٹھہ تا جمپیر براہ ستایوں برادآباد روڈ ٹھٹھہ ۔ حیدرآباد تک سڑک،مٹھی تا ڈیپلو،تلہار تا ڈگری براہ ٹنڈو باگو،انڈس ہائی وے تا رنی کوٹ اور میری کوٹ گیٹ فاؤنٹین تک ، ٹھل تا جیکب آباد براہ سنہری سرکار شامل ہیں۔ سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ جوکہ 150ملین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس میں وفاقی حکومت کا حصہ 15 ملین ڈالرز ہے اس کے 3 حصے ہیں ایک معیار تک رسائی دوسرا تعلیم ،ٹیچنگ اورسیکھنے کی گنجائش اور تعلیمی نظام میں بہتری شامل ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے اپنے گذشتہ دور میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی تھی اور مجموعی تعلیمی نظام کو دیکھنے کے بعد 3 چیزیں ان کے مشاہدے میں آئی تھیں،انھیں معیار ی تعلیم ،ٹیچنگ اور سیکھنے کی استعداد کار میں اضافہ اور تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی نے کہا کہ اس منصوبے کی سی ڈی ڈبلیو پی نے منظوری دے دی ہے اور اسے منظوری کے لیے ایکینک بھیجا گیاہے۔ اے ڈی بی کے ڈی جی نے کہا کہ اے ڈی بی منصوبے میں تعاون کرے گا۔ ان ہانسنگ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبہ کا مقصد صوبائی حکومت کا پی پی پی منصوبوں کے انتخاب اور ڈیولپ کرنے کی استعداد کار میں اضافہ اور موثر طریقے سے پی پی پی منصوبوں کی دیکھ بھال کرناہے۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے کہا کہ اس منصوبے پر 184.13ملین ڈالرز لاگت آئے گی جس میں صوبائی حکومت کا حصہ 64.9ملین ڈالرز ہوگا۔اس منصوبے کو سی ڈی ڈبلیو پی پہلے ہی کلیئر کر چکا ہے اور یہ اب زیر عمل ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ تجویز کیا گیاتھا۔بی آر ٹی ریڈ لائن کا منصوبہ ماڈل کالونی تانمائش ہوگا۔صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ اے ڈی بی صوبائی حکومت کا اس کے انفرااسٹرکچر اور بسوں کی خریداری کے حوالے سے مالی تعاون کرے۔ اے ڈی بی ڈائریکٹر جنرل نے ملک میں موجود اپنی ٹیم کے اراکین کو یہ ٹاسک دیا کہ وہ صوبائی حکومت سے تمام متعلقہ کاغذات جمع کریں تاکہ انہیں منظوری کے لیے آگے بڑھایا جاسکے۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اخبارات میں تھرپارکر میں امدادی گندم تقسیم میں خوردبرد کی شائع خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تھر کے عوام کے لیے فراہم کی گئی گندم کی مفت تقسیم سے متعلق گزشتہ روز ایک اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو تقسیم کے شفاف عمل کو موثر اور یقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر مجھے رپورٹ کرتی ہے جس میں ساری تفصیلات ہوتی ہیں۔ مختلف اخبارات میں سندھ حکومت کے خلاف بے بنیاد خبریں شائع ہونا قابل افسوس عمل ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کی سب مشینری ان قحط سالی صورتحال کو نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے اور جب تک تھر کیلوگوں کے دکھ ختم نہیں ہو جاتے تب تک ہماری خدمات میسر رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوامی پارٹی ہے اورعوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہیں یہ پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور ایسی طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے عوام کے لیے قربانی دے کر امرہو گے۔ انہوں نے کہا سندھ حکومت تھرپارکر سمیت اچھڑے تھر کے لیے ایک جمۂ منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے نہ صرف یہاں پر خوشحالی آئے گی بلکہ قحط سالی کی صورتحال کو مکمل طور پر خاتمے کرے گے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ گندم کے ساتھ ایشا خوردنوش اور جانوروں کے لیے چارہ بھی وافر مقدار میں فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اچھڑے تھر کے لوگوں کیلئے کہا کہ آپ لوگ ہمارے دل اور جگر ہیں اور ہم اس قحط سالی کی صورتحال کو بھادری کے ساتھ نپٹنا ہوگا اس پر آپ لوگوں کے جذبے کو سلام ہے۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاھ نے صحافیوں کی جانب سے شایع کی گئی اخباری خبروں پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں سخت بھوک اور قحط سالی والی صورتحال تھی اور مجھے امید ہے انشا اللہ ہماری حکومت اس قحط سالی کو دور کرکے تھر کیلوگوں میں خوشیاں لوٹائے گی۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے اپنی ٹیم کو اجلاسوں میں ہدایت کی ہے صوبے میں منیٹرینٹی ہوم ، روڈ، پینے کا صاف پانی، سولر انرجی، لائیٹ کی فراہمی کے مسائل جلد از جلد حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کا ساتھ ہمشہ نبھایا ہے اور ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم اس دکھ کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیں اور مالی مدد بھی کریں اور گندم اور جانوروں کے لیے چارہ بھی دیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -