ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس، کیا وزیر اعلیٰ پر براہ راست آرٹیکل 62 ون ایف لگ سکتا ہے ؟: چیف جسٹس

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس، کیا وزیر اعلیٰ پر براہ راست آرٹیکل 62 ون ایف لگ ...
ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس، کیا وزیر اعلیٰ پر براہ راست آرٹیکل 62 ون ایف لگ سکتا ہے ؟: چیف جسٹس

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلیں۔

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر رضوان گوندل کا تبادلہ کسی شخص کے کہنے پر ہوا ہے تو یہ غیر قانونی ہے، واقعات میں جو بھی شامل رہے انہیں بلا لیں گے، آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیسے اور کہاں کہاں ہوسکتا ہے؟کیا آرٹیکل 62 ون ایف کا اس کیس پر اطلاق ہوتا ہے ؟ کیا وزیر اعلیٰ پر براہ راست آرٹیکل 62 ون ایف لگ سکتا ہے ؟ اس معاملے پر مخدوم علی خان کو عدالتی معاون مقرر کریں گے۔

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عوامی نمائندوں کو تاحیات نا اہل کیا جاسکتا ہے ۔ آئین کے اس آرٹیکل کا اطلاق سابق وزیر اعظم نواز شریف، تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین سمیت متعدد ارکان اسمبلی پر ہوچکا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -