” میں نے دفتر سنبھالا تو پتا لگا یہاں سے حمزہ شہباز ۔۔۔ “ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایسا انکشاف کردیا کہ پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے

” میں نے دفتر سنبھالا تو پتا لگا یہاں سے حمزہ شہباز ۔۔۔ “ وزیر اطلاعات فیاض ...
” میں نے دفتر سنبھالا تو پتا لگا یہاں سے حمزہ شہباز ۔۔۔ “ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایسا انکشاف کردیا کہ پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ ان پر وزارت کا چارج سنبھالنے کے بعد منکشف ہوا کہ حمزہ شہباز کے ساتھ مستقل بنیادوں پر ایک پی آر او موجود رہتا تھا اور یہ سلسلہ 7 سال تک چلتا رہا ہے۔خیال رہے کہ پبلک ریلیشنز آفیسر (پی آر او) گریڈ 16 یا اس سے اوپر کا افسر ہوتا ہے جو محکمہ تعلقات عامہ کو رپورٹ کرتا ہے، ان کی مختلف سرکاری عہدیداروں ، وزرا یا محکموں میں ان کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں تحریک انصاف حکومت کی سادگی مہم، ہیلی کاپٹر کے سفر اور پروٹوکول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ امریکی صدور سرکاری طیاروں پر اپنے اہلخانہ کے ہمراہ جاتے ہیں ، اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ چیف ایگزیکٹو اپنی فیملی کے ساتھ طیارے میں جارہا ہے تو یہ کرپشن یا نا اہلی کے زمرے میں نہیں آتا۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت اطلاعات کی ذمہ داری سنبھالی تو ان پر انکشاف ہوا کہ حمزہ شہباز کی کوئی سرکاری ذمہ داری نہیں تھی لیکن ایک پی آر او مستقل بنیادوں پر گزشتہ سات سال سے حمزہ شہباز کے ساتھ تھا۔مریم نواز کو 100 ارب روپے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام پر وزیر اعظم کی بیٹی ہونے کی بنا پر دے دیا گیا، ناشتے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا طیارہ استعمال ہوتا تھا، وہ طیارہ لاہور سے مری اور پھر اسلام آباد جاتا تھا اور اگر کوئی ڈش رہ جاتی تھی تو اسے دوبارہ طیارے میں لے جایا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شریف خاندان کے عزیز و اقارب پولیس کو استعمال کرتے رہے، ایک لاکھ 88 ہزار پولیس اہلکاروں میں سے 44 ہزار اہلکار آل شریف اور ان کے حواریوں کی وی وی آئی پی موومنٹ پر لگے ہوئے تھے جبکہ 11 ہزار کے قریب پولیس والے رائیونڈ محل سمیت وزیر اعظم کیمپ اور وزیر اعلیٰ کیمپ پر لگے ہوئے تھے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ تحریک انصاف نے مذکورہ بالا قسم کی لگژری اور عیاشیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور وہ آواز بالکل ٹھیک بلند کی تھی۔

مزید :

سیاست -علاقائی -پنجاب -لاہور -