زرداری کی ایف آئی اے پیشی، اس دوران مسلسل پریشان ہو کر وہ تفتیشیوں کے سامنے بیٹھے کیا کرتے رہے؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ دن بھی آنا تھا

زرداری کی ایف آئی اے پیشی، اس دوران مسلسل پریشان ہو کر وہ تفتیشیوں کے سامنے ...
زرداری کی ایف آئی اے پیشی، اس دوران مسلسل پریشان ہو کر وہ تفتیشیوں کے سامنے بیٹھے کیا کرتے رہے؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ دن بھی آنا تھا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور 35ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے میں ٹال مٹول سے کام لیتے رہے تاہم پیر کے روز وہ بالآخر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو گئے۔ تفتیش کے دوران آصف علی زرداری کی ذہنی حالت کیسی تھی اور وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے بیٹھ کرمسلسل کیا کام کرتے رہے؟ اس حوالے سے ایسا انکشاف سامنے آگیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ آصف علی زرداری ٹیم کے سامنے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ایک کے بعد ایک سگریٹ سلگاتے اور پیتے رہے۔ اس دوران ان کی ہمشیرہ فریال تالپور مسلسل انہیں پرسکون رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔

رپورٹ کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور سے ایف آئی اے کی تفتیش 25منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور اپنے وکلاء اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایف آئی اے پہنچے تھے تاہم انہیں بتایا گیا کہ تفتیش میں ان کے وکلاء موجود نہیں ہوں گے بلکہ دونوں سے اکیلے میں تفتیش کی جائے گی۔ اس کے بعد ان کے وکلاء کو دوسرے کمرے میں بھیج دیا گیا اور آصف زرداری اور فریال تالپور تفتیشی ٹیم کے سامنے اکیلے رہ گئے۔ ایف آئی اے کے آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پوری تفتیش کے دوران آصف زرداری کی بے چینی نمایاں تھی۔ اس کے برعکس فریال تالپور کافی پرسکون رہیں اور کئی مواقع پر انہوں نے اپنے بھائی کو تفتیش کاروں سے بات نہ کرنے کا اشارہ بھی کیا۔ فریال تالپور نے جے آئی ٹی کے اراکین سے ان کے نام اور عہدے بھی پوچھے اور یہ بھی دریافت کیا کہ ان میں سے کتنوں کا تعلق سندھ سے ہے اور کتنوں کا پنجاب سے۔

ایک موقع پر تفتیشی ٹیم نے فریال تالپور کو کمرے سے باہر جانے کو کہا تاکہ آصف زرداری سے اکیلے میں تفتیش کی جا سکے لیکن فریال تالپور نے باہرجانے اور بھائی کو اکیلا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اس بات پر تفتیشی ٹیم کو جواب دیا کہ ہمیں تفتیش کے لیے مشترکہ نوٹس بھیجے گئے ہیں چنانچہ تفتیش بھی دونوں سے ایک ساتھ ہی ہو گی اور وہ کمرے میں موجود رہنے کا حق رکھتی ہیں۔تفتیش کے دوران آصف زرداری سے کیے جانے والے بیشترسوالات کے جوابات بھی فریال تالپور نے دیئے۔ ایک سوال کے جواب میں فریال تالپور نے ٹیم کو بتایا کہ آصف زرداری نے 2008ء میں زرداری گروپ کی ڈائریکٹرشپ چھوڑ دی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد ان کا زرداری گروپ کے اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔‘‘فریال تالپور تفتیش کے دوران بار بار اس بات پر بھی اصرار کرتی رہیں کہ ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو کمرے میں آنے کی اجازت دی جائے۔

مزید :

سیاست -علاقائی -اسلام آباد -