اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 27

31 اگست 2018 (15:00)

اے حمید

مجھے معلوم تھا کہ وحشی قبائل کی فوجیں بے گناہ شہریوں کے بے دریغ قتل کر کے ان کے گھروں کو آگے لگا رہی ہیں۔ مگر میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتاتھا۔

فوج گھوڑوں کو ایڑ لگاتی شہر کی ٹوٹی ہوئی فصیل میں سے اندر گھس رہی تھی۔ اندر گھمسان کا رن پڑ رہا تھا مگر موہنجودڑو کی فوج کے حوصلے اس طوفان کے آگے پست پوچکے تھے۔ میں نے ان سب کو طرف سے منہ موڑا اور توران کی طرف جانے والی صحرائی شاہراہ پر روانہ ہوگیا۔

تھوڑی دیر جلنے کے بعد اندھیری رات میں مجھے کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ پھر میں نے ایک گھوڑے کو دیکھا جو میدان جنگ سے نکل کر وہاں ایک گول دائرے میں چکر لگا رہا تھا۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ گھوڑے پر زین کسی ہوئی ہے اور اس میں ایک سپاہی کی ٹانگ پھنسی ہے جو مر چکا ہے اور جس کے سینے میں چھ سات تیر کھبے ہوئے ہیں۔ میں نے بڑی مشکل سے گھوڑے کو قابو میں کیا۔

مردہ سپاہی کی لاش کو زین کے شکنجے سے آزاد کر کے وہیں پھنکا اور خود گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے نامعلوم سفر اور ان جانی منزل کی طرف چل دیا۔ میرے منزل دجلہ و فرات کی وادی میں اس عہد ک اسب سے متمدن اور تہذیب یافتہ شہر باہل تھا جس پر تاریخ قدیم کے مثالی بادشاہ حموربی کی حکومت تھی۔ حموربی ایک وسیع مشرب، عالی نظر اور روشن خیال حکمران تھا۔ اس نے دو سو بیاسی ابواب پر مشتمل ایک ضابطہ قوانین جاری کیا جو سخت پتھر کے ایک آٹھ فٹ اونچے ستون پر پیکانی رسم الخط میں کندہ تھا۔ حموربی کا قانون ایک ایسے معاشرے کے لئے تھا جو طبقاتی معاشرہ تھا۔ اعلیٰ طبقے کو نقصان پہچانے کی سزا عام آدمیوں کو نقصان پہنچانے سے زیادہ تھی۔ ایسا ہی امتیاز عام آدمیوں اور غلاموں کے درمیان رکھا گیا تھا۔ بہر حال اس میں کوئی بھی طبقہ بھی قانون کی نگاہ میں کم تر نہ تھا اور اسے پورے پورے معاشرتی حقوق حاصل تھے۔ غلاموں کا تحفظ قانوناً واجب تھا اور بعض شرائط پوری کرنے کے بعد وہ آزادی حاصل کر سکتے تھے۔ عائلی قوانین کی کئی ایک دفعات تھیں۔ میں نے حموربی کے قانون کی دفعات کو خود اس ستون پر کندہ پڑھا ہے۔ ایک دفعہ یوں تھی۔ ’’ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کوپسند نہ کرتی ہو اوراس سے نفرت کرتی ہواور کہہ دے کہ میں تیری بیوی نہیں رہ سکتی تو اس کے گذشتہ حالات کی تحقیقات کی جائے۔ اگروہ احتیاط کرنے والی بیوی ثابت ہو اور اس میں کوئی خراب نہ پائی جائے نیز اس کا شوہر غیر ذمے دار آوارہ منش ہو تو عورت پر الزام نہیں۔ اسے اس کا جہیز دے دیا جائے اور وہ اپنے باپ کے گھر چلے جائے ‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 26پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دجلہ اور فرات کی وادی میں رہنے والے لوگ مختلف کاموں کے لئے مختلف دیوتاؤں کے پوجتے تھے۔ جنگ کے لئے الگ ‘ کاروبار کے لئے الگ اور جنسیات کے لئے الگ دیوتا تھا۔ ایک دیوتا ان سب دیوتاؤں کا سردار تھا۔ بابل میں یہ حیثیت دیوتا مرروخ کو حاصل تھی۔ حموربی شاہ بابل نے اپنے ضابطہ قوانین کو ان تمام دیوتاؤں کے احکامات کے تحت کردیا تھا۔ یہ قوانین عائلی تعلقات ، حقوق ملکیت، قرض ، اجرت اور کمزوروں ، بیواؤں اور غریبوں کی نگہداشت کے لئے وضع کئے گئے تھے۔

جب پانچ سو برس بعد یروشلم کی یہودی سلطنت قائم ہوئی تو ان کا نظام اخلاق حموریبی کے ضابطہ قوانین کی روشنی میں مرتب کیا گیا۔ اہل بابل اور ابتدائی سمیریوں کے مذہب اور ثقافت کے بارے میں آپ کی تاریخ محض قیاس آرائیوں اور آثار قدیمہ کے بیلچوں تک ہی محدود ہے۔ مگر میں خود چونکہ اس تاریخ کا عین شاہد ہوں اس لئے آپ کو حقیقت حال بیان کروں گا۔ اس تہذیب کی ابتداء اور انتہا کے بارے میں کوئی دوسرا زندہ انسان مجھ سے بڑھ کر نہیں جانتا۔ کیونکہ میں اس تہذیب کے دور میں سے گزرا ہوں اور میں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایک تفصیل کا مشاہدہ کیاہے۔

سمیری قوم آج سے کوئی پانچ ہزار سال قبل جنوب مغربی عربستان کی ایک پہاڑی بستی سے نکل کر بابل کے قرب و جوار میں آکر آباد ہوگئی۔ اس قوم نے یہاں زراعت کو اپنا پیش بنایا۔ اس نے مکانوں اور معبدوں کی پکی ہوئی اینٹوں سے تعمیر کیا۔ یہ لوگ پتھر کے سلوں پر تصویریں، مورتیاں اور مجسمے بناتی تھی۔ تحریر کافن سب سے پہلے انہوں نے ہی ایجا دکیا۔ یہ لوگ اہم واقعات کو الواح یعنی مٹی کی تختیوں پر لکھ دی کرتے تھے۔ یہ قوم موسیقی سے بھی شناسا تھی اور میں نے بابل میں بڑے بوڑھوں سے اپنے کانوں انکے قدیم گیت سنے ہیں۔ انہوں نے دریائے دجلہ اور فرات سے نہریں نکال کر بنجر زمینوں کو کاشت کے قابل بنایا۔ اگر میںآپ کو بتاؤں تو آپ یقین نہیں کریں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہل ، چار پہیوں والی گاڑی اور کمہار کا چاک اسی سمیری قوم کی ایجاد ہے۔ چمڑا رنگنے ، اشیاء کی پیمائش کے آلات بنانے ، عطر تیار کرنے اور طب و جراحت میں یہ قوم بڑی ماہرتھی۔ ان کی زندگیوں کا مقصد معبد ہوتا تھا۔ ہر شہر میں ایک بلند مینار اور ایک معبد ہوتا تھا۔ مینار کی چوٹی پر اس ملک کے سردار دیوتا کا عظیم الشان معبد ہوتا۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس قوم نے آج سے پانچ ہزار سال قبل دجلہ و فرات کی وادی میں کوئی پچاس لاکھ کے قریب شہری آباد کئے۔ اگرچہ ان شہروں کی آبادی کراچی شہر جتنی نہیں تھی مگر یہ بڑے کشادہ بارونق اور زندگی کے ہنگاموں سے جگمگاتے شہر تھے۔

شمال میں ان کی سلطنت کا پائے تخت نینوا تھا۔ سمیری قوم نے ایک ہزار برس تک وادی دجلہ وفرات میں حکومت کی۔ 1800ء ق م میں قبیلہ اموری کے سردار حموربی نے اہل سومر کا تختہ الٹ کر بابلی حکومت کی بنیاد رکھی۔ بابلیوں کے بعد اشوریوں نے اس وادی کو اپنی تہذیب اور صنعت و حرفت کا گہوارہ بنایا۔ جب یہ دونوں قومیں اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگئیں تو ایران نے حملہ کرکے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ یہ سارے انقلابات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ آپ کی تاریخ کو اشوریوں کے بارے میں یقینی معلومات حاصل نہیں ہیں لیکن میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے۔ میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ وہ بڑے سخت جان اور عسکریت پسند تھے لیکن سنگ تراشی اور دیگر فنون لطیفہ میں بھی ماہر تھے۔ وہ شیروں کا شکار کرتے اور اپنے اسیروں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرتے۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں ان کا ایک نامور بادشاہ اشور ہنی بال گذرا ہے۔ وہ اپنے کارناموں کو خشتی تخلیتوں پر لکھوا کر محفوظ کر لیتا تھا۔ ان کارناموں کی چند ایک تختیوں کو میں نے خود اپنی آنکھوں سے پڑھا ہے۔ ان میں لکھا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں