عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر59

31 اگست 2018 (15:03)

ادریس آزاد

خواجہ مفتی اور قاضی بھی طبقہء علماء سے لیے گئے۔ سلطان نے حکومت کی مجلسِ حل و عقد کا نام ’’دیوان‘‘ ہی رہنے دیا۔ جبکہ دیوان میں نشستوں کی تعداد بڑھادی۔ سلطان نے نئے دستور میں ’’خارجی آغا‘‘ اور ’’داخلی آغا‘‘ کے عہدے مقرر کیے۔ ’’خارجی آغا‘‘ وہ فوجی حکام تھے جن کے سپرد صوبوں کی حکومت تھی۔ جبکہ ’’داخلی آغا‘‘ درباری عہدوں پر معمور تھے۔سلطان نے آغاؤں کے مزید عہدے بھی تجویز کیے ۔ مثلاً ’’کاپو آغا‘‘ (گورے خواجہ سراؤں کا افسر)،’’قیز لر آغا‘‘ (حبشی خواجہ سراؤں کا افسر) ، ’’بوستانجی ماشی‘‘(باغبانوں کا افسر) ’’چاؤش باشی‘‘ (حکومت کے قاصدوں کا افسر) ، وغیرہ۔ مقرر کیے۔ سلطان محمد خان نے سب سے زیادہ توجہ اپنے آئینِ سلطنت میں تعلیمی اور تدریسی امور پردی........’’پچھلے عہد میں تمام مدرسے مذہبی ہوتے تھے۔ اگرچہ ان میں اور علوم بھی بڑھائے جاتے تھے۔لیکن ترکوں کا سرشتہ تعلیم پولیٹیکل حیثیت کا حامل تھا ۔ اور وہ سلطنت کے لائق لائق عہدہ دار پیدا کرتا تھا ۔ (مولانا شبلی)‘‘

سلطان کا اجلاس تین روز تک جاری رہا۔ تیسرے روز سلطان نے اختتامی تقریر کرتے ہوئے کہا:۔

’’معزز اراکینِ سلطنت ! الحمد اللہ ! اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے سلطنت کے نظام کو علماءِ ملت اور عمائدین سلطنت کے مشورے سے پہلے کی نسبت بہت بہتر بنادیا ہے۔ اب ہم پورے اطمینان کے ساتھ اس فاتح لشکر کا حصہ بن سکتے ہیں۔ جس میں شامل مسلمان مجاہدوں کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا میں مغفرت کی خبر سنائی ہے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر58پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطنتِ عثمانیہ کے جانباز سپہ سالارو!

جب سے رومی بادشاہ ’’قسطنطین ‘‘ نے تیسری صدی عیسوی میں عیسائی مذہب قبول کرکے اس شہر کو اپنا پایہء تخت بنایا تھا ۔ اسی روز سے اس کانام قسطنطنیہ ہوگیا تھا ۔ یہ شہر عرصہ دراز تک بازنطینی سلطنت اور عیسائی مذہب دونوں کا اہم ترین مرکز رہا ہے۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ‘‘ کی خالہ ’’امِ حرام بنتِ ملحان رضی اللہ عنہا‘‘ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضائے رشتہ دار تھیں۔ ایک روز آپؐ ان کے گھر سوئے ہوئے تھے کہ اچانک بیدار ہوئے تو آپؐ کے چہرے مبارک پر تبسم تھا ۔ حضرت اُمِ حرام رضی اللہ عنہا نے تبسم کی وجہ پوچھی۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ .........مجھے خواب میں اپنی امت کے وہ لوگ دکھائے گئے ۔ جو جہاد کے لیے سمندر کی فوجوں پر اس طرح سفر کریں گے جیسے تخت پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔ حضرت اُمِ حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ.........یارسول اللہ ؐ ! دعا فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرمالیں ۔ آپ ؐ نے دعا فرمادی۔ اور دوبارہ محوِ خواب ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد پھر بیدار ہوئے ۔ اور دوبارہ چہرہ مبارک تبسم سے کھلا ہوا تھا۔حضرت اُمِ حرامؓ نے دوبارہ وجہ پوچھی ۔ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ .........’’میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر (روم) کے شہر (قسطنطنیہ) پر جہاد کرے گا ۔ اس کی مغفرت کی بشارت دی گئی ہے۔ ’’حضرت اُمِ حرامؓ ‘‘ نے دوبارہ دعا کی درخواست کی .......لیکن آپ ؐ نے فرمایا ........’’نہیں ! تم پہلے لشکر میں شامل ہو۔ (بخاری شریف)

معزز اراکینِ سلطنت ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دونوں بشارتیں اس طرح پوری ہوئیں کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں ’’حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘‘ نے ’’قبرص‘‘ پر حملہ کیا۔ یہ تاریخِ اسلام کی پہلی بحری مہم تھی۔ اور اس میں ’’حضرت اُمِ حرامؓ ‘‘ اپنے شوہر ’’حضرت عبادہ بن صامتؓ ‘‘ کے ساتھ لشکر میں شامل ہوئیں۔ یہ جنگی مہم اس لحاظ سے کامیاب رہی کہ اہلِ قبرص میں مسلمانوں سے صلح کرلی۔ اور جب مسلمان واپس ہونے لگے تو ’’حضرت اُمِ حرامؓ ‘‘ ایک گھوڑے پر سے گر کر جامِ شہادت نوش فرماگئیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بشارت کی تکمیل تھی۔بشارت کا دوسرا حصہ مجاہدینِ قسطنطنیہ سے متعلق تھا ۔ چنانچہ قسطنطنیہ پر جہاد کرنے کے لیے ’’حضرت معاویہؓ ‘‘ کا بیٹا یزید بھی شامل تھا ۔ اور جید صحابی ء رسول’’حضرت ابو ایوب انصاریؓ ‘‘ بھی شامل تھے۔ یہ مسلمانوں کی طرف سے قسطنطنیہ کا پہلا محاصرہ تھا ۔ جو کافی مدت تک جاری رہا۔ اور ’’حضرت ابو ایوب انصاریؓ ‘‘ اس محاصرے کے دوران بیمار ہوکر شہید ہوئے۔ اور اس عظیم شہر کی فصیل کے نیچے مدفون ہوئے۔لیکن یہ لشکر قسطنطنیہ کو فتح نہ کرسکا۔ البتہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا دوسرا حصہ بھی مکمل ہوا۔

محترم اراکینِ سلطنت !یاد رکھیے کہ صرف یہ بشارت ہی نہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث بھی ہے۔ جس میں صرف قسطنطنیہ پر جہاد کرنے والوں کی بات آپ ؐ نے نہیں فرمائی بلکہ اس شہر کو فتح کرنے والوں کو آپ ؐ نے خوشخبری سنائی ہے۔

’’حضرت بشر بن سحیمؓ ‘‘ ایک حدیث کی روایت ہے۔لتفتحن القسطنطنیہ ، فلنعم الا میراً و لنعم الجیش ذلک الجیش......

ترجمہ:۔ تم ضرور قسطنطنیہ فتح کر لوگے۔ پس بہتر امیر اس کا امیر ہوگا ، اور بہتر لشکر وہ لشکر ہوگا (مسند امام احمدؒ )

چنانچہ اس حدیث میں بیان کردہ سعادت کے حصول کے لیے بہت سے مسلمان حکمرانوں نے ’’قسطنطنیہ ‘‘ پر حملہ کیا۔ جن میں ’’حضرت عمر بن عبدالعزیر ؒ ‘‘ ، ’’ہشام بن عبدالملک ‘‘، ’’مہدی عباسی‘‘ اور خلیفہ ہارون الرشید‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس شہر کو فتح نہ کرسکا۔

سلطنتِ عثمانیہ غالباً دستِ قدرت نے قائم ہی اس لیے کی تھی کہ وہ بابرکت لشکر وجود میں آسکے جسے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر لشکر کہہ کر پکارا ہے۔ ہمارے دادا سلطان بایزید یلدرم نے 1402ء میں قسطنطنیہ کا پوری قوت کے ساتھ محاصرہ کیا ۔ قریب تھا کہ وہ اس شہر کو فتح کر لیتے کہ تیمور لنگ نے ’’ایشیائے کوچک‘‘ پر حملہ کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں انہیں محاصرہ اٹھانا پڑا یہ آج سے پچاس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اور اہلیانِ دربار میں بعض بزرگانِ سلطنت کو یاد بھی ہوگا۔ اس کے بعد ہمارے آباء میں سے ہمارے والدِ محترم تک سب نے اس شہر کا محاصرہ کیا لیکن سب ناکام رہے۔

معزز عمائدینِ سلطنت !

آج ہم بھی اسی لشکر میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ جس کا قیام ہمارے ارادوں پر منحصر ہے۔ ’’قسطنطنیہ‘‘ ایسے مقام پر واقع ہے ۔ جب تک یہ شہر فتح نہیں ہوجاتا اسلامی سلطنت کو مکمل نہیں کیا جاسکتا ۔ اور مجھے یقین ہے کہ جس دن یہ قدیم شہر تسخیر کر لیا گیا اس کے بعد کوئی بھی قیصر دوبارہ پیدا نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے ............

اذا ہلک قیصر، فلا قیصر بعدہٗ

ترجمہ:۔’’ جب قیصر ہلاک ہوگیا تو پھر کوئی قیصر پیدا نہیں ہوگا‘‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ ‘‘

یہ دربارِ سلطنت میں ’’سلطان محمد خان‘‘ کی اختتامی تقریر تھی۔ اہلیانِ دربار اپنے سلطان کی اسلامی معلومات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں توقع نہ تھی کہ کل تک دو مرتبہ ناکام ہونے والا نوعمر سلطان اب یوں عالم فاضل اور صاحبِ دانش ہوچکا تھا ۔

یہ تھا’’سلطان محمد خان‘‘ جو اب دنیا کے عظیم شہر ’’قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لیے رختِ سفر باندھنے والا تھا ۔ دنیا کی تاریخ ایک نئی کروٹ لینے والی تھی۔ اور مسلم فتوحات کی تکمیل کے ساتھ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کانیا دور شروع ہونے والا تھا ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں