وزیر اعظم عمران خان نے جی ایچ کیوپہنچ کر ایک ایسا کام بھی کردکھایاہے کہ۔۔۔۔

وزیر اعظم عمران خان نے جی ایچ کیوپہنچ کر ایک ایسا کام بھی کردکھایاہے کہ۔۔۔۔
وزیر اعظم عمران خان نے جی ایچ کیوپہنچ کر ایک ایسا کام بھی کردکھایاہے کہ۔۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 وزیر اعظم عمران خان نے حقیقت میں نئے پاکستان کی بنیاد رکھتے ہوئے چند دنوں میں ہی ایک بڑا سنگ میل عبور کرلیا ہے اور ایسی انہونی کو ”ہونی“ کردکھایا ہے کہ بڑے سے بڑا سیاستدان بھی انکی ذہانت اور قومی جذبے کو سراہنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔انہوں نے پہلے جمہوری وزیر اعظم کے طور پر اپنے چند اہم وزرا کے ساتھ جی ایچ کیو کا دورہ کیااور فوج کی ہائی کمانڈ کے ساتھ میٹنگ کو ہیڈکرکے پاکستان کی اکہترسالہ تاریخ بدل ڈالی ہے  ۔اس دورے میں دیکھا گیا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ سمیت دوسرے اعلٰی فوجی افسران  نے ان کا استقبال کیا، کرسیوں کی ایک  ہی قطار لگائی گئی ، عمران خان اور انکے وزرا  نے اعلی فوجی قیادت کے ساتھ  فوٹو سیشن کیا ۔خوش آئیند بات یہ ہے کہ اعلٰی فوجی افسران کے ساتھ میٹنگ کے دوران عمران خان نے اس کرسی پر بیٹھ کربات چیت کی جس پر چیف آف آرمی سٹاف خود بیٹھ کر اعلٰی فوجی قیادت سے مخاطب ہوا کرتے ہیں ۔یہ اعزاز صرف عمران خان کو ہی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے جی ایچ کیو میں اپنی سول قیادت کے ساتھ میٹنگ کرکے سول ملٹری تعلقات کو حسین موڑ دے دیا ہے ۔ اور ملک میں اقتدار کی ان دو کرسیوں کے تصور کا خاتمہ کردیا ہے جن میں سے ایک جی ایچ کیو اور دوسری وزیر اعظم ہاوس میں جداگانہ  اختیارات اور انا وہٹ دھرمی کی علامت بن کر رہ گئی تھیں  ،ملک کی اکہتر سالہ زندگی انہیں کرسیوں کے پایوں تلے روند ڈالی گئی  تھی۔وزیر اعظم عمران خان کے اس طرز عمل کو جمہوریت کی جیت قراردیا گیا ہے جبکہ فوج نے سول قیادت کو یہ باور کرادیا ہے کہ وہ آئین کے تحت سول حکومت کے ماتحت ہیں ۔فوج سیاسی اور جمہوری ادارے کو استحکام دینے کے لئے اپنا فرض ادا کرے گی ۔

بلاشبہ سول ملٹری تعلقات کی اس بڑی ”تبدیلی “کاکریڈٹ اب عمران خان کو دینا چاہئے کیونکہ انہوں نے فوج کو بھی باور کرادیا ہے کہ وہ ایک صادق اور امین حکمران ہیں اور جی ایچ کیو میں بھی ان کا اپنا ” دفتر “ موجود ہے ۔اب ضروری نہیں کہ فوجی قیادت سے بات چیت کے لئے اسکو وزیر اعظم ہاوس یا پارلیمنٹ میں بلا کر بات چیت کی جائے ۔جب وزیر اعظم خود جی ایچ کیو پہنچ جانے کی قوت رکھتا ہوگا تو امید ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں تناو پیدا نہیں ہوگا ۔ 

بہترین سول ملٹری ریلیشن شپ مضبوط پاکستان کی ناگزیر ضرورت ہیں ۔اس تعلق کے پیمانے سے پاکستان میں جمہوریت اور ہر دور حکومت کو پرکھا جاسکتا ہے ۔جس ملک کے چالیس بیالیس سال فوجی قیادت کے تحت بسر ہوئے ہوں وہاں سول حکومت کے اٹھائیس تیس سال کوئی زیادہ بہتر کارکردگی  نہیں دکھا سکتے نہ وہاں سیاسی و جمہوری نرسریوں کی بہتر انداز میں کاشت کرکے ان سے پھل لیا جاسکتا ہے ۔دیکھا جائے تو یہ نرسریاں بھی انہیں آمروں کے ہاتھوں میں پروان چڑھتی رہی ہیں ،اسکی سب سے بڑی مثال بھٹو اور نوازشریف ہیں ۔کہا جاتا ہے عمران خان بھی اسی نرسری کا سیاسی پودا ہیں ،چودھری برادران کو بھی اسی کھاتے میں شمار کیا جاتا ہے ۔ایم کیو ایم بھی آمروں کی گود میں پلی بڑھی ہے ۔ آمرانہ نرسریوں سے آڑھتی سیاستدان ہی پیدا ہوتے آئے ہیں جنہوں نے جمہوریت کو بیچنے میں ہر اوچھا ہتھ کنڈا استعمال کیاہے ۔آمرانہ نرسریوں کی پیداوار سیاستدانوں سے توقع یہی کی جاتی رہی ہے کہ وہ سسٹم کو جانتے ہوئے جب اقتدار پر براجماں ہوں گے تو وہ سول ملٹری تعلقات کو بہتر طریقہ سے پروان چڑھاسکیں گے تاکہ فوج اور سیاسی اداروں کے درمیان جو خلیج حائل ہے اسکو پاٹا جاسکے لیکن اس خلیج کے دونوں کنارے ہمیشہ دور رہے اور پھر فوج کے ہی ہاتھوں انجام کو بھی پہنچے ۔معروف سیاسی قائدین کا انجام تو یہی بتاتا ہے کہ فوج نے انہیں کرپٹ اور کریمنل ثابت کیا اور پھر کوئی جیل گیا ،کوئی ملک بدر ہوا کوئی تخت پر چڑھ گیا ۔لہذا اب ایسی سیاسی نرسری کاشت کرنے کی ضرورت ہے جسے خود سیاسی ادارے کاشت کریں اور انہیں سیاست کے منصب اور اسکے حقیقی فرائض سے کماحقہ آگاہی ہے۔ 

ملک میں سول ملٹری تعلقات کو بہترین اور مثالی بنانے کے لئے مستقل پالیسوں کی ضرورت ہوگی ،طالع آزما اگر سیاسی قیادت کے مجرم ہیں تو کئی سیاسی جماعتوں اور قائدین نے بھی فوج کی مٹی پلید کرنے اور فوج کو کمزور کرنے میں کسر نہیں چھوڑی،فوج اگران کی سازشوں سے بچتی رہی ہے تو یہ اسکا مضبوط سسٹم ہے ورنہ سول حکمرانوں نے فوج کو تقسیم و بدعنوان  بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔گزشتہ چند سال کے دوران سوشل میڈیا پر فوج کی کردار کشی جس انداز میں کی گئی ،اس نے سول ملٹری تعلقات میں دراڑیں پیدا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ اگر سول حکمران خود کرپشن سے پاک ا ور مضبوط اعصاب کا مالک ہوتو یقینی طور پر سول ملٹری تعلقات بہتر بنا کر سیاسی اداروں کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے ۔ایک مضبوط سول حکمران بجا طور پر سیاسی جماعتوں میں افہام و تفہیم پیدا کرکے صوبوں کے حقوق انہیں دیکر سیاسی اداروں کواعتماد دے سکتا ہے ۔جس کے نتیجہ میں فوج کو سول اداروں اور سیاسی جماعتوں سے پیدا ہونے والے خدشات کے تحت شب خون مارنے یا پھر ان اداروں کو کمزور کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ جیسا کہ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد ون یونٹ ،پھر بلوچستان کی شوریدگی،سندھو دیش ،مہاجرستان ،پشتونستان اور کالا باغ ڈیم ایسے متعدد صوبائی اختلافات اور سازشوں کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات پر گہر ی زد پڑتی رہی ہے تو اس میں کمزور سیاسی قیادت اور کمزور سیاسی جماعتوں کا کردار بھی موجود تھا ،ان دگرگوں حالات کی وجہ سے فوج کو مداخلت کرنے یا سول اداروں سے چومکھی لڑنے کا موقع ملتا رہا ہے ۔فوج کے ساتھ انڈرسٹیڈنگ خود پاکستان کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس بنیادی نقطعہ پر پہلا بڑا قدم اٹھا کریہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور سیاسی اداروں کو پروان چڑھانے ،بیرونی اور اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کا جی ایچ کیو میں جانا سود ثابت ہوگا ۔

۔۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ