وہ ولی اللہ جنہوں نے وفات سے پہلے وصیّت کی کہ انہیں دیوار کے نیچے دفن کیا جائے کیونکہ .... یہ جلیل القدر ہستی کون تھی ،انکے واقعات جان کر آپ کا دل عقیدت سے لبریز ہوجائے گا

31 اگست 2018 (16:49)

حضرت داود طائی ؒ کو اولیائے عظام میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔حضرت داتا علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ حضرت داو¿د طائیؒ اہل تصوف میں سید السادات تھے۔اپنے زمانے کے بے مثل صوفی اور امام اعظمؒ کے شاگردتھے۔ علوم فقہ میں فقیہ الفقہاء مشہورتھے۔حکومت و ریاست چھوڑ کر آپؒ نے گوشہ نشینی اختیار فرمائی۔حضرت معروف کرخیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت داو¿د طائیؒ جیسا مستغنی عن الدنیا نہیں دیکھا۔ان کی نظر میں تمام دنیا اور اہل دنیا کی کچھ حیثیت ہی نہیں تھی۔کھانے میں بے حد سادہ تھے۔ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے،اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے کہ جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے،اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں،ایک دن ایک شخص آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپؒ کی چھت میں ایک شہتیر ٹوٹا ہوا ہے توفرمایاکہ اے بھتیجے! میں نے بیس سال سے مکان کی چھت کی طرف نہیں دیکھا۔

محقیقین سلوک بیان کرتے ہیں کہ آپ کو حالتِ بیماری میں دیکھاگیا کہ سخت دھوپ میں دہلیز کے اندر اینٹ کا تکیہ سر کے نیچے رکھے لیٹے ہیں اور حالت جان کنی کی سی ہے۔ قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔ عرض کیاگیا کہ اگر آپؒ فرمادیں تو آپ کو کسی فضا میں لے جایا جائے، فرمایا” مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے نفس کے واسطے کوئی درخواست کروں، آج تک نفس نے مجھ پر غلبہ نہیں پایا، اس حال میں بہتر ہے کہ میں اس کا مغلوب نہ بنوں“ اسی شب کو آپؒ نے وفات پائی۔ وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ مجھے زیر دیوار دفن کرنا تاکہ کوئی میرے منہ کے سامنے سے نہ گذرے، چنانچہ حسبِ وصیّت زیر دیوار مدفون ہوئے۔ حضرت داتا گنج بخش ؒ کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ آپؒ کے ایام مرض میں وفات سے تین روز پہلے لوگ آپ کے دولت خانہ پر حاضر تھے کہ نماز جنازہ فوت نہ ہو۔ آپؒ کے جنازہ کے ساتھ اِس قدر خلقت کثیر تھی کہ وفات سے دوسرے روز شام کو قبرستان تک بمشکل پہنچا جا سکا تھاحالانکہ قبرستان قریب تھا ۔

مزیدخبریں