مشتعل ہجوم نے بچے کے اغواء کے ملزموں کو تھانے سے نکال کر زندہ جلا دیا ، لیکن یہ دونوں دراصل تھے کون؟ موت کے بعد ایسا انکشاف کہ آپ کا بھی دل افسردہ ہوجائے

مشتعل ہجوم نے بچے کے اغواء کے ملزموں کو تھانے سے نکال کر زندہ جلا دیا ، لیکن ...
مشتعل ہجوم نے بچے کے اغواء کے ملزموں کو تھانے سے نکال کر زندہ جلا دیا ، لیکن یہ دونوں دراصل تھے کون؟ موت کے بعد ایسا انکشاف کہ آپ کا بھی دل افسردہ ہوجائے

  

میکسیکو سٹی(نیوز ڈیسک) اسے پسماندہ ممالک میں پائی جانے عمومی جہالت، عدم برداشت کا نتیجہ کہہ لیجئے یا نظام انصاف کی کمزوری کہ لوگ اکثر اوقات قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور خود ہی ملزم کو مجرم قرار دے کر اسے سزا بھی اپنے ہاتھوں سے دے ڈالتے ہیں۔ لاقانونیت کے اس رویے کے باعث ایسے ایسے سانحے پیش آ چکے ہیں کہ جن کے بارے میں جان کر انسان لرز اٹھتا ہے۔ گزشتہ روز ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ میسکیکو میں پیش آیا جہاں مشتعل ہجوم نے دو افراد کو بچے اغواء کرنے والے سمجھ کر زندہ جلا کر مار ڈالا، لیکن بعد میں پتا چلا کہ دونوں بے گناہ تھے اور بیچارے محنت مزدوری کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے۔

میل آن لائن کے مطابق مشتعل ہجوم کے ظلم کا نشانہ بننے والے بے گناہ افراد 54 سالہ االبرٹو فلوریز اور اس کا 21 سالہ بھانجہ رکارڈو فلوریز تھے جنہیں مشتعل ہجوم نے میکسیکو کی ریاست پیوبلا میں تشدد کے بعد زندہ جلا کر مار ڈالا۔ پولیس کے مطابق اس علاقے میں بچوں کے اغواء کے متعدد واقعات پیش آ چکے تھے اور یہ افواہ عام تھی کہ دو افراد گاڑی یا ٹرک میں آتے ہیں اور بچوں کا اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ البرٹو اور اس کے بھانجے رکارڈو کی بدقسمتی تھی کہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں ایک ٹرک لے کر اسی نواحی علاقے سے گزر رہے تھے کہ کسی نے بات اُڑا دی کہ وہی بچے اغواء کرنے والے ہیں۔ اہل علاقہ نے انہیں روک لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑا ہجوم اُن کے گرد جمع ہو گیا۔اگرچہ وہ اپنی بے گناہی کی دہائی دیتے رہے مگر مشتعل ہجوم نے انہیں کھینچ کر ٹرک سے باہر نکالا جس کے بعد ہر جانب سے ان پر تشدد شروع ہوگیا۔

دریں اثناء یہ معاملہ پولیس تک بھی پہنچ چکا تھا۔ پولیس ایک بار تو انہیں مشتعل ہجوم سے بچا کر اپنے ساتھ لے گئی لیکن بعد ازاں سینکڑوں افراد نے اکٹھے ہو کر پولیس اسٹیشن پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے حوالات کو توڑ کر دونوں افراد کو نکالا اور مشتعل ہجوم نے پولیس سٹیشن کے سامنے اُن پر پٹرول چھڑک کر انہیں زندہ جلا ڈالا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے بارے میں کی گئی تفتیش میں یہ بات سامنے آ گئی تھی کہ اُن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور نا ہی وہ بچوں کے اغواء میں کسی بھی حوالے سے ملوث تھے، تاہم حفاظتی نقطہ نظر سے انہیں پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کو صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مزید نفری طلب کرنی چاہئیے تھی تا کہ پولیس سٹیشن کی مناسب حفاظت کا بندوبست ہو سکتا۔ قتل کے ذمہ داران کی شناخت کی جا رہی ہے جبکہ غفلت کے مرتکب ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -