شیریں مزاری نے سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا ، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

شیریں مزاری نے سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا ، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کی ...
شیریں مزاری نے سب سے بڑا یو ٹرن لے لیا ، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں شکار کے لئے کسی ملک کے باشندوں کے ساتھ مبینہ معاہدے کی تحقیقات کرائے گی، اس طرح کا کوئی بھی معاہدہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ شکار کے معاملے میں خارجہ پالیسی کے مفاد کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صوبوں سے شکارسے متعلق مشاورت کریں گے،نایاب جانوروں کے شکارکی اجازت صوبوں سے لینا لازمی ہے،ہم صوبوں کے حقوق اور اختیارات کااحترام کرتے ہیں،ہم صوبوں کے اختیارات پر قدغن نہیں لگا سکتے ، ہم عرب شہزادوں کے تلورکے شکارکیلئے صوبوں کوگائیڈلائنزد ے سکتے ہیں،پچھلے دورمیں موسیٰ خیل میں تلورکے شکارکی اجازت دی گئی تھی توتحقیقات کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں نایاب پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کی تھی اور باقی صوبوں کے حوالے سے بھی یہ پالیسی ہم واضح کریں گے، 18 ویں ترمیم کے بعد شکار کے اجازت نامے صوبائی حکومت کی طرف سے مقامی جنگلی حیات کے قوانین کے مطابق جاری کئے جاتے ہیں، وزارت خارجہ صرف تلور کے شکار کے لئے موزوں علاقوں کی سفارش کرتی ہے، 2017-18ءمیں مجموعی طور پر شکار کے لئے 41 اجازت نامے مختلف ممالک کے شہریوں کو جاری کئے گئے۔ اس حوالے سے عدالتی احکامات کی روشنی میں حکومت اقدامات کرے گی۔

واضح رہے اس سے قبل شیریں مزاری نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمارے خلیج ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد صرف ان کونایاب پرندوں کے شکار کی اجازت دینے پر ہے تو ان تعلقات میں ہمارا کوئی قومی مفاد نہیں ہے،مایسی والی بات ہے کہ دنیا نایاب پرندوں کی حفاظت کرنے کے لئے بڑھ رہی ہے اور ہم ان کے شکار کی طرف جا رہے ہیں۔

مزید :

قومی -ڈیلی بائیٹس -علاقائی -اسلام آباد -