’میری بیٹی کو اس کے شوہر نے جہیز کی وجہ سے مار ڈالا‘ دلہن کے باپ کی پولیس کو شکایت، تفتیش کی تو لڑکی زندہ ہی مل گئی، سب سے جھوٹ کیوں بولا تھا؟ ایسی وجہ آپ نے کبھی نہ سنی ہوگی

’میری بیٹی کو اس کے شوہر نے جہیز کی وجہ سے مار ڈالا‘ دلہن کے باپ کی پولیس کو ...
’میری بیٹی کو اس کے شوہر نے جہیز کی وجہ سے مار ڈالا‘ دلہن کے باپ کی پولیس کو شکایت، تفتیش کی تو لڑکی زندہ ہی مل گئی، سب سے جھوٹ کیوں بولا تھا؟ ایسی وجہ آپ نے کبھی نہ سنی ہوگی

  

بارہ بنکی(نیوز ڈیسک) بھارت جیسے پسماندہ ملک میں جہیز کا بہانہ بنا کر بہو پر ظلم و ستم کرنا عام سی بات ہے۔ بس یہی وجہ تھی کہ جب بارہ بنکی شہر سے تعلق رکھنے والے ہری پرساد نے روتے پیٹتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ اس بیٹی کو اُس کے شوہر نے کم جہیز لانے کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو پولیس نے اس کی بات پر یقین کیا اور فوری کاروائی کا آغاز ہو گیا۔ ’سفاک‘ ملزم کو تو فوری گرفتار کر لیا گیا لیکن کئی ماہ کی تلاش کے باوجود ’مقتولہ‘ کی لاش کا سراغ نا مل سکا، مگر بالآخر وہ ملی ہی تو ایسے حال میں کہ دیکھ کر پولیس والے بھی چکر کھا گئے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق روبی نامی لڑکی کی شادی جنوری 2016 میں ہوئی تھی۔ رواں سال جنوری میں اُس کے والد نے صفدرجنگ تھانے میں رپورٹ درج کروائی کہ روبی کا شوہر جہیز کم لانے کی وجہ سے اس کے ساتھ جھگڑا کرتا تھا اور اب بالآخر اُسے قتل ہی کر ڈالا ہے۔ ہری پرساد کا اصرار تھا کہ اس کے داماد نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش غائب کر دی ہے اور پولیس نے بھی فوری کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔

ایک جانب تو پولیس لاش ڈھونڈنے کے لئے سرگرداں تھی لیکن دوسری جانب یہ حیرتناک انکشاف سامنے آگیا کہ ’مقتولہ ‘ کا فیس بک اکاؤنٹ اب بھی چل رہا تھا۔ اس فیس بک اکاؤنٹ کی نگرانی شروع کر دی گئی اور با لآخر اسی کی مدد سے پولیس روبی تک جا پہنچی۔ پتا یہ چلا کہ وہ قتل نہیں ہوئی تھی بلکہ گھر سے فرار ہو گئی تھی۔ شوہر کو بتائے بغیر وہ ایک دن چپکے سے غائب ہو گئی تھی اور اب ایک اور شخص کے ساتھ اُس کی بیوی بن کر رہ رہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ روبی نے رامو نامی شخص سے خفیہ تعلق استوار کر رکھا تھا لیکن کمال مکاری سے کام لیتے ہوئے کسی کو اس معاملے کی بھنک تک نہیں پڑنے دی۔ اس نے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کر کے ہنگامہ کھڑا کرنے کی بجائے خاموشی سے غائب ہو جانے کو ترجیح دی اور اپنے آشنا کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کر دی۔ اس تمام مکاری و عیاری کے باوجود نجانے کیوں اُس نے غائب ہونے کے کچھ عرصے بعد اپنے پرانے فیس بک اکاؤنٹ کا ہی استعمال شروع کر دیا اور یوں خود ہی وہ معمہ سلجھا دیا جسے پولیس کسی طور سلجھا نہیں پا رہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ روبی اور اس کا آشنا رامو زیر حراست ہیں جبکہ اُس کے شوہر کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا ہے۔ روبی کے والد ہری پرساد کی تفتیش جاری ہے کہ آیا وہ بیٹی کے اصل ’کارنامے‘ سے لاعلم تھا یا سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے اس ڈرامے کا حصہ بنا ہوا تھا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -