استاد کا احترام

استاد کا احترام

  

فرواناز طارق رحمے شاہ تاند لیانوالہ

ہمارے ہاں استاد کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اسے اسلام نے دیا ہے؟ ایک بار اقبال اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ سامنے سے مولوی میر حسن گزرے، علامہ ایک دم اُٹھے اور اپنے استاد محترم کے ساتھ ہو لیے اور انہیں گھر تک چھوڑ کر آئے۔ اس دوران ان کے دوستوں نے دیکھا کہ اقبالؒ کے ایک پاوں میں جوتا تھا اور دوسرا جوتا وہ پہن ہی نہ سکے۔ بلاشبہ علامہ اقبالؒ استاد کی قدر جانتے تھے، لیکن مولوی میر حسن نے یہ منوایا کہ وہ استاد ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آپ نے کبھی نہیں یہ سنا یا دیکھا ہوگا کہ والدین اپنے بچوں سے کہیں کہ بڑے ہو کر استاد بننا۔ پیدا ہوتے ہی بچے سے کہا جاتا ہے کہ بڑے ہو کر یا انجینئر بننا۔ دوسری طرف آج کلاس میں اکثر استاد اپنے طلبہ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم بڑے ہو کر کی کیا بنوں گے تو شاید ہی بچہ یہ کہے کہ وہ استاد بننا چاہتا ہے۔

ہمارے ہاں تو حالات یہ ہیں کہ جو کوئی کچھ نہیں بن سکتا، اس سے کہتے ہیں کہ استاد بن جاو، تو ایسے استاد کو کوئی کیا احترام کرے گا؟ استاد کو ایسا ہونا چاہیے کہ بچے دل سے اس کا ادب اور احترام کریں اور اس کی عزت کرتے ہوئے خود بھی اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -