مگر مچھ کی کہانی

مگر مچھ کی کہانی

  

مگرمچھ رینگنے والے وہ جانور ہیں جو پانی کے اندر بھی رہتے ہیں اور پانی سے باہر یعنی خشکی پر بھی رہتے ہیں۔ انھیں جل تھلیے بھی کہتے ہیں۔ لیکن مگرمچھ اپنا زیادہ وقت پانی میں گزارتے ہیں۔ یہ افریقا، ایشیا، امریکا اور آسٹریلیا میں پائے جاتے ہیں اور دریاؤں، جھیلوں اور دلدلوں میں اپنی زندگی کا زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ ان کی اکثریت زیادہ تر میٹھے پانی میں رہتی ہے۔ مگر مچھوں کی عام خوراک مچھلیاں اور دیگر ممایے جانور ہیں۔ ان کے علاوہ یہ سیپییاں اور گھونگے بھی بڑے شوق اور رغبت سے کھا جاتے ہیں۔ مگرمچھ بہت قدیم جانور ہے۔ ان کی جسامت میں اچھا خاصا فرق دکھائی دیتا ہے۔ ان کی کچھ اقسام ایک میٹر لمبی اور کچھ پانچ میٹر تک لمبی ہوتی ہیں۔ نر، مگرمچھ مادہ کی نسبت زیادہ تیزی سے پروان چڑھتا ہے اور زیادہ وزنی اور لمبا بھی ہوتا ہے، البتہ پیدائش کے وقت ان کی لمبائی آٹھ انچ ہوتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق مگرمچھ کی عمر ستر سال کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ ان کی بیرونی ساخت انھیں آبی اور شکاری جانور ظاہر کرتی ہے۔ ان کے پاؤں کی انگلیوں میں ایک جھلی سی ہوتی ہے جس سے انہیں پانی کے اندر تیراکی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اس جھلی کی وجہ سے یہ تیزی سے آگے پیچھے نہایت آسانی سے مڑ بھی سکتے ہیں۔ مگرمچھ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ پانی میں جاتے ہی ان کے نتھنے بند ہو جاتے ہیں اور حلق میں ایک اضافی ڈھکن نما پٹھا یا عضلہ موجود ہوتا ہے جو پانی کو اندر جانے سے روکتا ہے۔ ان کی زبان ایک جھلی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی زبان منہ سے باہر نہیں نکل سکتی۔ مگرمچھ ہمیشہ گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں اور یہ لمبے عرصے تک خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ بڑے مگرمچھ تو پتھر تک بھی نگل جاتے ہیں اور پھر اس سے ان کا توازن بھی بہتر ہوجاتا ہے اور خوراک کے ہاضمے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مگرمچھ میں پیسنے کے غدود نہیں ہوتے اور یہ منہ سے اپنی زائد حرارت خارج کرتے ہیں۔ اکثر مگرمچھوں کی زبان پر اضافی نمکیات کو خارج کرنے کے لئے قدرتی سوراخ سے موجود ہوتے ہیں۔ ان کی قوت سماعت بہت تیز ہوتی ہے۔ ان کی پرورش تجارتی پیمانے پر کی جاتی ہے، اسی لئے ان کی کھال کو رنگ کر کے اس سے چمڑے کی مضوعات بھی بنائی جاتی ہیں جو بازار میں بہت مہنگے داموں ملتی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -