موت کے منہ میں جاتے کشمیریوں کا المیہ

موت کے منہ میں جاتے کشمیریوں کا المیہ

  

مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، چاروں صوبائی دارالحکومتوں، مظفرآباد، گلگت بلتستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں دوپہر بارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک ”کشمیر آور“ منایا گیا، اس دوران پانچ منٹ کے لئے ٹریفک اور ایک منٹ کے لئے ریل گاڑیاں رک گئیں، یہ دن منانے کا مقصد کشمیریوں تک یہ پیغام پہچانا تھا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور آزادی کشمیر کے لئے ان کی جدوجہد کے شانہ بشانہ ہے۔ دنیا پر بھی کشمیر کی حقیقت واشگاف کرنا تھا۔ آئندہ بھی ہر جمعہ کو یہ دن اسی طرح منایا جاتا رہے گا۔ 5اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے، ہسپتالوں میں ادویات نہیں، مریضوں کا علاج معالجہ موقوف ہوکر رہ گیا ہے، ضروری آپریشن بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں، زندہ درگور انسانوں کے لئے خوراک کا حصول مشکل ہوگیا ہے، ظاہر ہے ایسے طویل کرفیومیں خوراک اور دوسری انسانی ضروریات کا ذخیرہ تو نہیں کیا جاسکتا تھا، ان حالات میں بھارتی فوجیوں نے ریاست میں دہشت کا سماں پیدا کر رکھا ہے جو کشمیری گرفتار کئے جاتے ہیں انہیں ملک کے دوسرے حصوں کی جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے، گرفتار ہونے والوں کے متعلق یہ بھی علم نہیں کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بھر پور اظہار تو پاکستان نے کردیا اور دنیا پر واضح ہوگیا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کو پاکستان کی ہر طرح کی حمایت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ”کشمیر آور“ منا کر کیا کشمیریوں کے لئے کسی ریلیف کا انتظام کرنے میں بھی کوئی کامیابی حاصل ہوئی کہ نہیں، اس کا جواب تو نفی میں ہے کیونکہ ریاست میں کرفیو بدستور نافذ ہے اور اس میں معمولی سی نرمی بھی نہیں کی جا رہی، 90لاکھ کشمیری مسلمان اس میں گھرے ہوئے ہیں کشمیر کے صرف وہ علاقے کرفیو سے باہر ہیں جہاں مال دار ہندو پنڈتوں اور ہندوؤں کی اکثریت ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی ایک دانستہ کوشش بھی ہے جس کی دنیا کا کوئی ضابطہ اجازت نہیں دیتا، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر باقی دنیا میں بھی احتجاج ہو رہا ہے، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج کی اس لہر سے بھی بھارت کے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کیونکہ انہیں بعض ”مضبوط“ یقین دہانیاں حاصل ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے غیر جانبدار مبصرین ریاست میں بھیجے جائیں، لیکن بھارت نے تو اپنے سیاستدانوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ دنیا سے مبصرین کو وہ کیونکر اجازت دے گا، البتہ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے سرگرم کارکن جو کسی نہ کسی طرح کشمیر پہنچ گئے تھے انہوں نے حالات کی جو تصویر کشی کی ہے وہ رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے۔ ان کے بقول پوری ریاست میں قبرستان کا سا سناٹا ہے اور جیتی جاگتی انسانی بستیاں موت کے منہ میں جارہی ہیں ان حالات کا خود بھارتی سیکیورٹی فورسز کے بعض زندہ ضمیر ارکان پر بھی اثر ہو رہا ہے اور وہ ملازمت سے استعفا دے کر کورٹ مارشل کا سامنا تک کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ یہ حالات اگر دیکھنے والے انسانوں کو متاثر کر رہے ہیں تو جن کے جسموں پر یہ اذتیں بیت رہی ہیں وہ کس حال میں ہوں گے؟ پاکستان کے احتجاج اور اظہار یکجہتی کے نتیجے میں اگر مبصرین کی ٹیمیں کشمیر جانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں یا کرفیو کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو اسے احتجاج ہی نتیجہ قرار دیا جائے گا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے 5اگست سے پہلے ہی ریاست میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کا سلسلہ ختم کردیا تھا، کرفیو کے دوران اخبارات شائع نہیں ہو رہے اور صحافی اور اخبارات میں کام کرنے والے ورکر بھی کام کی جگہوں پر نہیں پہنچ رہے، ایک مہینہ گزرنے کے باوجود انٹرنیٹ سروسز بحال نہیں ہوئیں جو پہلے بھی وقتاً فوقتاً بند کی جاتی رہتی تھیں، لیکن اب یہ سلسلہ زیادہ وسیع کر دیا گیا ہے، مخصوص علاقوں میں بہت تھوڑی تعداد میں لینڈ لائن ٹیلی فون کام کر رہے ہیں جن پر بات کرنے والوں کا ہجوم جمع رہتا ہے، لیکن طویل انتظار کے بعد بھی لوگ مایوس واپس جاتے ہیں اور اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں کرپاتے۔ طویل کرفیو سے بچے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور خوراک نہ ملنے سے ان کی اموات واقعہ ہو رہی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی تنظیمیں اشیائے خوراک اور ادویات لے کر کشمیر پہنچیں اور بھارت کے دوسرے علاقوں سے بھی لوگ امدادی اشیا وہاں پہنچائیں، اب تک جو لوگ لاپتہ ہوئے ہیں ان کی فہرست مرتب کرکے ان کے لواحقین کو بتایا جائے کہ انہیں کس جیل میں رکھا گیا ہے، یہ وہ چند ریلیف ہیں جو کشمیریوں کو فوری طورپر درکار ہیں اور ان پر توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بے شک فیصلہ کن موڑ پر آگئی ہے اور دنیا بھر میں لوگوں کو اس بات سے آگاہی ہو رہی ہے کہ کشمیری کس حال میں ہیں لیکن کشمیریوں کا فوری مسئلہ اب اس طویل جدوجہد کی کامیابی نہیں جو وہ عشروں سے کر رہے ہیں۔ ان کی فوری اور اصل ضرورت اس وقت اس موت کو ٹالنا ہے جو ان کے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے کیا ہم اس سلسلے میں کشمیریوں کے لئے کسی قسم کی معاونت فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں؟ جن کشمیریوں کے ساتھ کوئی انسانی المیہ رونما ہوگیا، ان کے لئے تو آزادی اور غلامی بے معنی ہو جائے گی، اس لئے انسانوں کی ندگیوں کو بچانا اولیت کا حامل ہونا چاہئے۔

پاکستان کے عوام نے ایک بار پھر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ان کی جائز، منصفانہ اور مبنی برحق جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی ہر جمعہ کو اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہیں گے، لیکن اس موقع پر حکومت پاکستان کو اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز تر کرنے کی ضرورت ہے ان حالات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ آج تھرمیں جلسہ عام کرنے جارہے ہیں، حالانکہ انہیں جلسے کرنے کی بجائے سفارتی طور پر زیادہ سرگرم ہونا چاہئے اور ان ملکوں کے دارالحکومتوں میں ہونا چاہئے جو بھارت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، کشمیر پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سید فخر امام کو بھی بیرونی دوروں پر ہونا چاہئے۔ پاکستان میں اخباری بیانات جاری کرکے وہ ان سفارتی سرگرمیوں کا متبادل نہیں ہوسکتے، جن کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جاسکے۔ سلامتی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس میں اگرچہ کشمیر کو ایک بار پھر متنازع معاملہ قرار دے دیا تھا لیکن اس پر مطمئن ہوکر بیٹھ رہنا قرین انصاف نہیں ہے، ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر ان اقدامات پر غور کیا جائے جو پہلے تو کشمیریوں کی زندگیوں کو بچائیں اور پھر ایسی حکمت عملی اپنائیں کہ یہ خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں نہ آجائے، جو لوگ ایٹمی جنگ کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے رہتے ہیں وہ بھی اپنی اداؤں پر غور کریں تو اچھا ہوگا، جنگ کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور ایٹمی جنگ تو اربوں انسانوں کو پل بھر میں نگل جائے گی، اس لئے اس پر منہ کھولتے ہوئے پہلے سوچ بچار کرلینی چاہئے۔ ایک انسان کا قتل اگر پوری انسانیت کا قتل ہے تو اربوں انسانوں کی موت کا ذکر کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اگر راہوار فکر کو لگام دے دی جائے تو کیا حرج ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -