غزنوی میزائل کا تجربہ!

غزنوی میزائل کا تجربہ!

  

پاک بھارت کشیدہ ماحول کے دوران پاکستان کی طرف سے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ دفاعی صلاحیتوں کی بہتری کا مظہر ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تجربہ رات کی تاریکی میں کیا گیا،مقصد اندھیرے میں ہدف کی نشاندہی تھا، جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔یہ میزائل وار ہیڈ لے جا کر290 کلو میٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت کا حامل ہے اور اندھیرے میں ہدف کی نشاندہی درست ثابت ہوئی۔برصغیر میں بھارتی توسیع اور انتہا پسندی کے باعث پاک بھارت تعلقات کشیدگی کی حدوں کو چھو رہے ہیں اور دونوں طرف سے اشارے ملتے ہیں،پاکستان کی طرف سے واضح طور پر دفاع کے لئے ہر تیاری کا ذکر کیا جاتا اور کہا گیا ہے کہ دفاع سے غافل نہیں رہا جا سکتا،دشمن اگر وار کرے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا،جہاں تک دورِ جدید میں جنگ کا سوال ہے تو اس میں میزائل بہت اہمیت رکھتے ہیں اور آج کے دور میں لڑائی بھی میزائلوں کی لڑائی ہے، حتیٰ کہ جنگی ہوائی جہازوں میں بھی میزائل ہی فٹ ہیں،پاکستان اس ٹیکنالوجی میں بہتر ہے اور یہ محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے دور میں حاصل کی گئی،الزام لگایا جاتا ہے کہ پاکستان نے یہ شمالی کوریا سے حاصل کی، جو اس میں مہارت کا حامل ہے۔ بہرحال آج کے دور میں یہ ایک اور بڑی کامیابی ہے اور بجا طور پر صدر، وزیراعظم،آرمی چیف اور دیگر اکابرین نے اپنے سائنس دانوں کو کامیابی پر مبارک باد دی ہے، ہم بھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مبارک دیتے ہیں کہ اِس سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا،جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی یہ پسندیدہ ہے، تاہم اپنے دفاع کے لئے اسلحہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات و ہتھیار میں خود کفالت بڑی برکت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -