یکجہتی کشمیر، معروضی حالات، غریب عوام!

یکجہتی کشمیر، معروضی حالات، غریب عوام!
یکجہتی کشمیر، معروضی حالات، غریب عوام!

  

پاکستانیوں نے پھر ثابت کر دیا کہ وہ دِل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ ہیں، عوام نے کسی سیاسی تعصب کے بغیر وزیراعظم عمران خان کی اپیل اور تجویز پر عمل کیا جو اس سے متفق بھی نہیں اور زیادہ پُرزور عمل کے حق میں ہیں،تاہم جو کمی محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف مشترکہ احتجاج نہ کر سکیں، یوں کشمیر پر موقف اور حمایت میں اتفاق کے باوجود قومی اتفاق رائے کا مظاہرہ نہ ہوا۔بہرحال پاکستانیوں کی طرف سے نہ صرف کشمیریوں،بلکہ دُنیا بھر کو ایک متحدہ موقف اور حمایت کا پیغام ضرور چلا گیا۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ہم نے گزشتہ دو کالموں میں اپنا نقطہ نظر بیان کر دیا اور اب امریکہ کی طرف سے تشویش کے اظہار نے اسے درست بھی ثابت کیا کہ دُنیا تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کے حقوق اور انسانی حقوق کی تلفی کے حوالے سے دیکھتی ہے اور یہی بات سنی بھی جا سکتی ہے،اِس لئے اگر ہم نے وفود بھیج اور خود جا کر لابنگ کی ہوتی تو نتائج زیادہ بہتر ہوتے۔بھارتی وزیر دفاع راجناتھ کا یہ طعنہ نہ سننا پڑتا کہ دُنیا بھارت کے موقف کو تسلیم کرتی ہے اور جیساہم نے عرض کیا تھا وہ یہی کہ جو بھی بولتا یہی کہتا ہے کہ آپس میں بات کر لو، بھارت کی اس سے مراد یہ ہے کہ دُنیا اسے دو ممالک کے درمیان دو طرفہ معاملہ جانتی اور مانتی ہے اور یہ دو طرفہ مذاکرات بھارت کی ہٹ دھرمی سے ہو نہیں رہے۔

بات تو آج ذرا ایک اور معاملہ پر کرنا تھی، لیکن کشمیریوں کے لئے یوم یکجہتی کے باعث پہلی گزارش یہی کی۔بہرحال ہمارے اپنے ملک میں جو حالات ہیں وہ بھی کوئی خوشگوار نہیں،نئے انتخابات اور تحریک انصاف کے اقتدار کو ایک سال ہوا، آئینی طور پر نظام پارلیمانی ہے،لیکن یہاں اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں جو بعد ہے وہ کسی طرح کم نہیں ہو رہا، حتیٰ کہ یکجہتی کشمیر پر بھی یہاں تعلقات کار نظر نہیں آئے۔اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت جیل میں ہے اور احتساب کا سامنا کر رہی ہے،مزید حضرات کے نام بھی لئے جا رہے ہیں،برسر اقتدار حضرات کا سارا زور احتساب اور کرپشن کے علاوہ ذمہ داریوں کا بوجھ سابقہ حکمرانوں کے خلاف عائد کرنے پر لگتا ہے، جبکہ ان کی طرف سے انتقام کی آواز آتی رہتی ہے۔

اب عوام کی سننے والا کوئی نہیں،حکومت کے پاس الزام اور صبر کی تلقین ہے اور اندر والوں کے مطابق احتساب امتیازی ہے،جبکہ عام لوگ دونوں کے لئے مشترک ہیں اور بھلا کسی کا نہیں ہو رہا،معاشی حالت سنبھل نہیں رہی،مہنگائی اور بیروزگاری اتنی بڑھ گئی ہے کہ جلد ہی بھوکے تڑپ کر باہر نکلنے پر مجبور ہوں گے، حاکموں کو خبر نہیں،ان کے لئے 140روپے کلو ٹنڈے ہو جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔کبھی بات کی جاتی تھی کہ دال روٹی سے گذارہ ہو جائے گا اب دال بھی اتنی مہنگی ہے کہ اس سے بھی گزارہ نہیں ہوتا۔ یہ داتا کی نگری ہے یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا، دو آنے کی دو روٹیاں اور دال مفت مل جاتی تھی،مزدور چار پانچ روپے کی دیہاڑی لگا کر بچت کرتا اور بچے بھی پال لیتا تھا، اس حقیقت کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا، چھوڑیں یہ یادِ ماضی ابھی سوا سال قبل پٹرول اور بجلی اور آج کے نرخ کا فرق دیکھ لیں تو اندازہ ہو گا تحریک انصاف نے ایک کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا، یہاں ہر روز ملازمتیں چھن رہی ہیں اور سرکاری طور پر تحریک انصاف کے حضرات عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں یہ سب پُرخلوص لوگ ہیں،لیکن وزارتوں کے لئے بے چین ہیں اور پسند کی وزارت کے لئے پاپڑ بھی بیلتے ہیں،مہنگائی کا بوجھ تو ان عوام پر ہے جن کے نام سے یہ حضرات حکومت کر رہے ہیں،نچلے متوسط طبقہ کے حضرات اب پھل کھا اور دودھ پی نہیں سکتے،بچوں کی تعلیم مشکل تر ہو گئی ہے۔

دوسری طرف نجی شعبہ بھی کساد بازاری کا شکار ہے اور نزلہ غریب کارکنوں پر گرتا ہے۔میڈیا پر بہت بُرا وقت ہے، سینکڑوں کے حساب سے کارکن بے روز گار کئے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور جو حضرات برسر کار ہیں وہ مراعات تو دور کی بات کئی کئی ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔وزرا اور ترجمانوں کے لئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حکومت قرض بڑھا رہی ہے، سابقہ حکومتوں کے قرض پر تنقید کرتی ہے اور ان کے مشیر خزانہ کہتے ہیں، بات قرض کی نہیں اعتماد کی ہے۔

سوپیارے قارئین! ان حالات میں آپ خود انصاف کریں کہ ہم کیا لکھیں اور کیا بات کریں، جب پیٹ روٹی مانگے گا تو دو جمع دو پانچ روٹیاں ہی جواب ہو گا،ہماری گزارش یہ ہے کہ جو کام جس کا ہے اُسے کرنے دیں جو کام آپ کے سپرد ہوا اسے آپ کریں،آپ نے ملک سنوارنا ہے تو اسی کے مطابق عمل کریں،اداروں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں،مداخلت نہ کریں،قوم کو مایوس نہ کریں کہ اب تو خود چیف جسٹس محترم کی گفتگو سے لوگ انصاف کے در سے بھی مایوسی کا اظہار کرنے لگے ہیں،ہم پہلے بھی عرض کر چکے اور اب پھر گزارش کرتے ہیں کہ ہم بہت بُری طرح انارکی، کی طرف بڑھ رہے ہیں،اور یہ کوئی اچھے مستقبل کی نشانی نہیں،براہِ کرم اب بھی سنبھل جائیں،قومی اتفاق رائے پیدا کریں،پارلیمانی نظام کو چلنے دیں کہ1973ء کا آئین ہوتے ہوئے صدارتی نظام نہیں آ سکتا۔

بات ایک خاص حالت کے ذکر پر ختم کرتے ہیں،سیاست دانوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ باہر ہوں تو چنگے بھلے ہوتے ہیں،جیل جاتے ہی بیمار ہو جاتے ہیں۔یہ درست ہے، نواز شریف کے لئے خصوصی طبی توجہ کی ضرورت ہے تو زرداری صاحب بھی پمز پہنچ گئے۔یوں یہ بات درست ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ سب حضرات پہلے ہی سے بیمار ہیں،باہر علاج اور دیکھ بھال مکمل تھی تو چلتے پھرتے تھے،اندر آ کر فکر فردا والی بات ہوئی تو ہمیں بھی بیماریوں کا علم ہو گیا۔البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ”بیمار حضرات“ ریٹائر کیوں نہیں ہو جاتے؟

مزید :

رائے -کالم -