افغان امن معاہدہ اور کشمیریوں کی تحریک آزادی

افغان امن معاہدہ اور کشمیریوں کی تحریک آزادی
افغان امن معاہدہ اور کشمیریوں کی تحریک آزادی

  

22اگست 2019ء دوحا میں امریکہ، طالبان مذاکرات کا نواں دور پانچ روز تک جاری رہا۔ فریقین نے اسے نہ صرف حوصلہ افزا قرار دیا، بلکہ کہا کہ ”معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں“۔ گویا ستمبر میں حتمی معاہدہ ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی اپنی افواج کے انخلاء کے لئے 2/3 سال کا وقت مانگ رہے ہیں۔ طالبان فوری اور مکمل فوجی انخلا کی بات کر رہے ہیں۔ امریکی فوجی انخلا کے باوجود افغانستان میں 8600 امریکی فوجی تعینات رکھنا چاہتے ہیں۔ طالبان کو یہ قبول نہیں ہے۔ امریکی چاہتے ہیں کہ جنگ بندی فوری طور پر ہو جائے۔ طالبان اسے معاہدے اور فوجی انخلا سے مشروط کر رہے ہیں، ایک بات طے ہو چکی ہے کہ طالبان امریکی فوجیوں پر حملے نہیں کریں گے، لیکن افغان حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

امریکی یہ بھی چاہتے ہیں کہ طالبان، افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کریں۔ شراکتِ اقتدار کی بات کریں، لیکن طالبان افغان حکومت کو کٹھ پتلی اور جارح افواج کی نمائندہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے ابھی تک انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کئے اور شائد کریں گے بھی نہیں۔اس بارے میں شاید شک کی گنجائش نہیں کہ امریکی افغانستان کی دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے امریکی افواج طالبان پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہیں اور طالبان نے گوریلا جنگ کے ذریعے امریکیوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ طالبان کے عزم و استقلال میں کمی نہیں آئی۔ وہ اب بھی تازہ دم اور جواں ہمت ہیں، وہ لامحدود مدت تک لڑنے، مرنے اور مارنے کے لئے تیار ہیں، لیکن امریکی اب ہمت ہار چکے ہیں۔ اب وہ واپسی کے بہانے تلاش کر رہے ہیں،لیکن وہ خطے میں اپنی موجودگی کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

جنوبی ایشیا ایک عرصے سے عدم استحکام کا شکار چلا آ رہا ہے۔ اس کی بنیاد تو تقسیم ہند کے وقت ہی رکھی جا چکی تھی جب مسئلہ کشمیر پیدا ہوا۔ آج اسی مسئلے پر ہندوستان اور پاکستان جو دو ایٹمی طاقتیں ہیں، آمنے سامنے کھڑی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ حساب چکتا کرنے کے لئے جنگ کے نقارے بج رہے ہیں۔ امریکہ،برطانیہ اور چین و روس ہی نہیں عیسائی اقوام و صہیونی ریاست بھی اس جنگ کا جہنم دھکانے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

مسئلہ کشمیر عملاً سیکیورٹی کونسل کی دبیز فائلوں میں کہیں کھو گیا تھا اس پر ایک عرصے سے گرد پڑی ہوئی تھی۔ چین کے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اثرات نے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کو پریشان کر رکھا ہےOBOR کے ذریعے عالمی معیشت اور سفارت کاری پر چینی اثرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ سی پیک نے خطے میں توازن طاقت کے نئے پیمانے تشکیل دینے شروع کر دیئے ہیں جو امریکہ کے حق میں نہیں ہیں بہت سے عرب ممالک بھی خطے میں نئے حالات کے حوالے سے پریشان ہیں۔ ہندوستان، امریکہ کا قابلِ بھروسہ ساتھی ہے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کو آگے لایا جا رہا ہے۔ امریکہ کے کارپوریٹ سیکٹر میں بھارتی کاروباری حضرات اور ماہرین بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں یہ لوگ امریکہ کے فیصلہ ساز اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ بھارتی نقطہء نظر اپنی راہ بنا رہا ہے۔ امریکیوں نے ہندوستان میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی بھرپور کاوشیں کیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی منظم کاوشیں کیں، اس میں اسے کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی، لیکن بالآخر امریکیوں کو احساس ہو گیا کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان کا ایشو حل نہیں ہو سکے گا اور پاکستان کی اولین شرط یہ تھی کہ ہندوستان کو افغانستان سے پہلے رخصت کیا جائے پہلے پہل تو امریکی اس پر مزاحم رہے، لیکن بالآخر انہیں پاکستان کی بات ماننا پڑی اور ہندوستان افغانستان سے رخصت ہو گیا۔

امن مذاکرات کے حوالے سے طالبان اور امریکیوں کے ساتھ پاکستان مرکزی سٹیک ہولڈر ہے پاکستان ہی طالبان کو مذاکرات کی میز تک لے کر آیا ہے۔ امریکی افواج کی مدد کے بغیر، افغان حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ 2015ء میں امریکیوں نے افغان نیشنل آرمی (ANA) تشکیل دی تھی تقریباً 3 لاکھ افراد کو فوجی ٹریننگ بھی دی گئی توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد یہ فوج سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لے گی، لیکن یہ پلاننگ بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ افغانستان کی لسانی و قومی تقسیم و ترتیب ایسی ہے کہ اسے گہری نظر سے سمجھے بغیر یہاں کسی قسم کی پلاننگ کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ افغان نیشنل آرمی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ بہرحال آنا فورس والا باب تو بند ہو چکا ہے، اس لئے امریکیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فوجی انخلاء کے باوجود یہاں اپنے 8600فوجی تعینات رکھیں گے، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ چین، روس اور ایران پر نظر رکھی جا سکے طالبان کے فاتح کے طورپر کابل میں داخلے کو روکا جا سکے۔ جاری صورت حال یہ پیغام دے رہی ہے کہ امن معاہدے کے بعد طالبان ہی فاتح قرار پائیں گے۔ طالبان عسکری طور پر اتنے موثر ہیں کہ وہ افغان حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتے ہیں۔ افغان حکومت شاید امریکیوں کی اتنی بڑی ضرورت نہ ہو،لیکن طالبان کی فتح انہیں قبول نہیں ہے۔

دوسری طرف مودی امریکیوں کو یہ باور کرانے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ طالبان کامیابی کی صورت میں مقبوضہ کشمیرمیں، کشمیریوں کی مدد کے لئے آ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی قبائلی لشکر نے ہی ہمیں کشمیر آزاد کرا کے دیا تھا۔ ہمارے پاس جو آزادکشمیر ہے یہ انہی قبائلیوں کی جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ امریکی اس بات پر قائل بھی نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارتی ہمنوائی میں اور بڑے منظم انداز میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے فعال اور متحرک جنگجو گروپوں کو دہشت گرد قرار دے کر ختم کرایا۔ آزادی کی تحریک اور دہشت گردی میں فرق ختم کرکے ہر منظم گروہ جو حقیقی جہاد میں مصروف تھا، اسے ختم کرایا اور پھر طالبان کی فتح کے اعلان سے پہلے بھارتی کشمیر کا معاملہ بیک جنبشِ قلم ختم کرایا۔ مودی سرکار نے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور 9لاکھ افواج کے زیر سایہ اسے یونین میں گم کرنے کی سازش کی۔ ہمیں بالکل واضح نظر آ رہا ہے کہ اس سازش میں امریکہ اور دیگر عیسائی اقوام اور اسرائیل بھی شامل ہے۔ مسلم امہ کی خاموشی بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ کشمیر کا مقدمہ لڑنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔

پاکستان، جو اس مقدمے کا مرکزی فریق ہے۔ اس وقت مشکلات کا شکار ہے۔ یہاں سیاسی ابتری پھیلی ہوئی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ افراتفری کا عالم ہے۔ قوم نظری و فکری انتشار کا شکار ہے۔ معاشی عدم استحکام ہے، بے روزگاری عام ہے۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر ناچ رہا ہے۔ کاروبار ٹھپ ہیں۔ ملکی سرمایہ کاری صفر ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی مایوس کن ہے۔ برآمدات رکی ہوئی ہیں۔ معیشت پر ناامیدی اور مایوسی کے بادل سایہ فگن ہیں، قدر زر میں پستی نے معاملات دگرگوں کر رکھے ہیں۔ سرکاری مشینری بھی گومگو کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ہندوستان نے کشمیر کا معاملہ یک طرفہ طور پر ہمیشہ کے لئے حل کرنے یا ختم کرنے کی جو جسارت کی ہے اس سے یہ مسئلہ ابھر کر زیادہ شدت سے سامنے آ گیا ہے۔

5اگست سے وہاں کرفیو نافذ ہے، فوج بندوقیں تانے کھڑی ہے، وادی میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ کو دبانا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 9لاکھ ہندو فوج اور کرفیو نافذ العمل ہے، لیکن یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ ایسے حالات میں افغان امن معاہدہ طالبان کی فتح کے اعلان کا باعث بنے گا اور اس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی طاقت پائے گی۔ نفسیاتی طور پر انہیں طاقت ملے گی۔ ظاہر ہے ہندوستان بھی ایسا نہیں چاہتا اور امریکہ بھی اس کا ہمنوا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ امن معاہدہ شاید اتنی جلدی ممکن نہیں ہو گا۔ ویسے تو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کہہ چکے ہیں کہ ہم ستمبر تک ہر صورت میں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے تو مسئلہ افغانستان حل کرنے کے حوالے سے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ 1کروڑ انسانوں کو ہلاک کرکے یہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے امریکیوں کی نفسیاتی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں امریکہ، طالبان مذاکرات کا حتمی راؤنڈ کیا نتائج ظاہر کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -