ماڈل کورٹس نے سستے اور تیز ترین انصاف کا آئینی نظر یہ پورا کر دیا: چیف جسٹس

  ماڈل کورٹس نے سستے اور تیز ترین انصاف کا آئینی نظر یہ پورا کر دیا: چیف جسٹس

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاہے کہ مقدمات کے التواء کے باعث پریشان حال اور کمزور عدالتی نظام میں دوبارہ جان ڈالنے کا اعزاز ماڈل کورٹس کے ججز کو جاتا ہے، ماڈل کورٹس نے سستے اور تیز ترین انصاف کا آئینی نظریہ پورا کر دیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں ماڈل کورٹ کے پوزیشن ہولڈر ججز میں ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماڈل کورٹس کے قیام سے پہلے سستا اور تیز ترین انصاف محض ایک خواب تھا ماڈل کورٹس کے ججز نے کوشش اور دیانتداری سے یہ خواب پورا کردیا اب سائلین کو سستا اور جلد انصاف مہیا کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ماڈل کورٹس نے سستے اور تیز ترین انصاف کا آئینی نظریہ پورا کر دیا پریشان حال عدالتی نظام میں دوبارہ جان ڈالنے کا اعزاز ماڈل کورٹس کے ججز کو جاتا ہے۔ چیف جسٹس کو آگاہ کیا گیا کہ 167 ماڈل کورٹس نے پانچ ماہ میں قتل اور منشیات کے 12584 مقدمات نمٹائے چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس ججز کی خدمات کو سراہا۔ چیف جسٹس نے پوزیشن ہولڈر ججز میں ایوارڈ تقسیم کیے سیشن جج اسلام آباد سہیل ناصر نے قتل مقدمات نمٹانے میں پہلی مشترکہ قتل اور منشیات میں تیسری پوزیشن حاصل کی،دیگر پوزیشن ہولڈر ججز میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ماتحت چودہ پشاور ہائی کورٹ سے پانچ، لاہور ہائی سے پانچ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے چھ ججز شامل ہیں۔ تقریب کے بعد سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ پوزیشن ہولڈر ججز کی یادگاری تصاویر بھی بنائی گئیں۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ آخر -