نیشنل بینک نے 30جون ء2019کے ششماہی مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا 

نیشنل بینک نے 30جون ء2019کے ششماہی مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا 

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)نیشنل بینک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز (BOD) کی میٹنگ 28 اگست 2019 کو بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں ہوئی جس میں BODنے 30جون 2019 کو ختم ہونے والی ششماہی کے مالیاتی گوشواروں کی منظوری دی۔قبل از ٹیکس منافع کی مالیت 20.4 ارب روپے رہی، اس طرح جون 2018 کے مقابلے میں 18.8 فیصد اضافہ ہوا۔ بعداز ٹیکس منافع 11.1 ارب روپے رہا جو کہ جون 2018 میں ہونے والے 12.5 ارب روپے کے مقابلے میں 11.1 فیصد کم ہے۔ بعداز ٹیکس منافع میں یہ کمی ٹیکس کی اونچی شرح کی و جہ سے ہے جو کہ 46 فیصد ہے جبکہ جون 2018 میں ٹیکس کی شرح 27 فیصد تھی۔ بینک کی مجموعی آمدنی 53.8 ارب روپے رہی جو کہ بینکنگ انڈسٹری میں سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے سال اسی عرصہ میں بینک کو ہونے والی مجموعی آمدنی سے بھی اس سال ہونے والی آمدنی 18.4 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی و جہ زیادہ آمدنی دینے والے اثاثوں کے حجم میں اضافہ ا ور اس عرصہ میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں ہونے والا اضافہ ہے۔اس عرصہ میں بینک نے اپنے ڈپازیٹرز کو 47.1 ارب روپے منافع ادا کیا۔ ڈیپازٹس میں اضافے ا ور ان پر منافع کی اونچی شرح کی و جہ سے ادا کیا گیا منافع 81.9 فیصد زیادہ ہے جبکہ 30 جون 2018 کو ختم ہونے والی ششماہی میں ادا کیا گیا منافع 25.9 ارب روپے تھا۔ بینک کی خالص سودی آمدنی میں 18.0 فیصد اضافے کے بعد یہ آمدنی بڑھ کر 35.6 ارب روپے ہو گئی۔ بینک کی نان فنڈ آمدنی میں بھی 19.3 فیصد اضافہ ہوا ا ور یہ 18.2 ارب روپے ہو گئی جبکہ پچھلے سال اسی عرصہ کے دوران یہ آمدنی 15.3 ارب روپے تھی۔ حکومت ا ور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہدف کے حصول میں مدد دینے کے لیے بینک بیرون ملک سے ترسیلات زر کو بینکنگ چینلز کے ذریعے بھیجنے کی جارجانہ مہم حلا رہا ہے۔ جس کی و جہ سے بیرون ملک سے ترسیلات زر میں بینک کے شیئر میں اضافہ ہوا ہے ا ور 8 جون 2018 کے مقابلے میں ترسیلات زر کے لین دین کے حجم ا ور ترسیلات زر میں بالترتیب 29 فیصد ا ور 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔بینک کے کل اثاثوں کی مالیت 2,864.0 ارب روپے رہی جو کہ 31 دسمبر 2018 کو کل اثاثوں کی مالیت 2,798.6 ارب روپے سے 2.3 فیصد زیادہ ہے۔ بینک کے اثاثوں کی مالیت بینکنگ انڈسٹری کے کل اثاثوں کا 13.8 فیصد ہے۔بینک کی بیلنس شیٹ کو طاقت اس کی وسیع پہنچ ا ور برانچ نیٹ ورک سے ملتی ہے جہاں توجہ کم لاگت کے ڈیپازٹس جمع کرنے پر مرکوز ہے۔بینک کے دیئے گئے کل قرضوں کی مالیت بینکنگ انڈسٹری کے کل قرضوں کی مالیت کا 12.3 فیصد بنتے ہیں، اس وقت بینک کے دیئے گئے کل قرضوں کی مالیت 1,091.9 ارب روپے ہے جو کہ 31 دسمبر 2018 تک دیئے گئے قرضوں کی مالیت 1,059.5 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہے۔ البتہ جون 2018تک دیئے گئے قرضوں کی مالیت 912.6 ارب روپے کے مقابلے میں دیئے گئے قرضوں کی مالیت میں 179.2 ارب روپے یا 19.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بینک میں ڈیپازٹس کی مالیت 2,093.4 ارب روپے ہے جو کہ 31 دسمبر 2018کو ڈیپازٹس کی مالیت 2,011.4 ارب روپے سے 82.0 ارب روپے یا 4.1 فیصد زیادہ ہے۔ ڈیپازٹس کی یہ مالیت بینک کے کل واجبات کا 79.0 فیصد ہیں ا ور یہ ڈیپازٹس بینکنگ انڈسٹر کے کل ڈیپازٹس کا 13.7 فیصد بنتے ہیں۔ کسٹمر ڈیپازٹس جو کہ بینک کے فنڈنگ پول کا 84.0 فیصد ہیں اس عرصہ میں مستحکم رہے ا ور ان کی مالیت میں 5 فیصد اضافہ ہو کہ 1,758.0 ارب روپے ہو گئی ہے جبکہ دسمبر 2018 میں یہ مالیت 1,674.1 ارب روپے تھی۔قوم کی خدمت کے 70 ویں سال میں بینک اچھے نتائج دینے کے لیے پرعزم ہے۔ بینک کی کاروباری حکمت عملی اس کے ”قومی کردار“ کو یقینی بنانے کے لیے ارتقا پذیر ہے ا ور وہ اپنی خدمات ان شعبوں تک پہنچانے ا ور ان کی مدد کرنے پر مرکوز کیے ہوئے جن کو بینکنگ کی خدمات تک پوری طرح رسائی نہیں تھی ان شعبوں میں SMEs، مائیکرو فنانس (چھوٹے قرضوں کی فراہمی)، زرعی قرضے ا ور چھوٹے گھروں کی تعمیر کے لیے قرضوں کی فراہمی شامل ہیں جن کو اعلی معیار کے ساتھ بڑھایا جا رہا۔ بینک کایہ کردار اس مرکزی کردار سے الگ اور اضافی ہے جو اس کو حکومتی شعبوں ا ور حکومتی ملازمین کے لیے حاصل ہے۔ ڈیجیٹل بینکنگ کی صلاحیت کو بڑھانا ا ور ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کو استعمال کرنا بینک کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہوں گے جن کے ساتھ ادارے میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کے کلچر کو فروغ دیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -