شبیر کاظمی کاظم کی کتاب ”قلم کے آنسو“ کی تقریب رونمائی

شبیر کاظمی کاظم کی کتاب ”قلم کے آنسو“ کی تقریب رونمائی

  

کراچی (پ ر)انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی شاخ کی جانب سے گذشتہ روز کراچی جیم خانہ میں مشہور و معروف شاعر شبیر کاظمی کاظم کی کتاب ”قلم کے آنسو“ کی تقریب رونمائی ہوئی، اردو کے ممتاز شاعر،ادیب،نقاد،انجمن ترقی اردوپاکستان کے اردو باغ کے تاحیات ایڈمنسٹریٹر کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر جاوید منظر نے اس تقریب کی صدارت کی، جبکہ مہما ن خصوصی صوبائی سیکریٹری ثقافت و سیاحت سندھ پرویز احمد سیہڑ تھے۔ اردو دنیا کے ممتاز شخصیات تعلیم و ثقافت سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے تقریب کو کامیاب بنایا۔تقریب رونمائی کی نظامت فرائض علم و ادب کی معروف شخصیت ڈاکٹر ایچ ایم زمان ضیغم نے ادا کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئی صوبائی سیکریٹری ثقافت وسیاحت پرویز احمد سیہڑ نے کہا کہ شبیر کاظمی کاظم جیسے صاحب کتاب ہمارے معاشرہ کی صحیح طور پر عکاسی کرکے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ہمیں بھی اس کام کوآگے بڑھاتے ہوئے انہیں ہرممکن مدد و تعادن فراہم کریں تاکہ وہ اپنا کردار مزید احسن طریقہ سے ادا کرکے معاشرہ کی صحیح خطوط پر آبیاری کریں اور نئی نسل اس سے مستفیض ہوسکے اس کیلیے ہماری ہر ممکن مدد اور تعاون جاری رہیگی ا ور ہر سطح پر حوصلہ افزائی بھی کرینگے۔ ہمیں اپنی ثقافت اورسیاحت کے ساتھ ساتھ ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینے کیلیے آگے آنا ہوگا اور اپنا بھرپورکردار ادا کرکے اپنے شعراء، ادبی شخصیات وغیرہ کو ساتھ لے کر چلنے سے معاشرہ میں ایک اچھا پیغام پھیلے گا۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کو ایک بروقت پروگرام اور ادبی نشست منعقد کرنے پر مبارکباد دی اور کہاکہ ایسی سرگرمیوں کومسلسل منعقد ہونا چاھیئے اور تما م ادبی و تعلیمی شخصیات کی پذیرائی اور مناسب خیال رکھنا ہمارا بنیادی فرض بنتا ہے۔ قبل ازیں شبیر کاظمی کاظم کی کتاب "قلم کے آنسو "کی باضابطہ رونمائی کی گئی اور صاحب کتاب شبیر کاظمی کاظم نے مہمان خصوصی ودیگر مہمانوں کو اپنی کتاب پیش کی۔ صاحب کتاب شبیرکاظمی کاظم نے اپنے خطاب میں کتاب کی چیدہ چیدہ شاعری و اپنے غزل نثر و شعر کے بارے میں مختصرا تعارف پیش کیا۔ انجمن ترقی اردو باغ کے تاحیات ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر جاوید منظر نے اپنے صدارتی خطبہ میں کتاب اور صاحب کتاب پر بھرپور اظہار خیال کیا اور انکے شعری مجمعوہ کے بارے میں کہا کہ شبیر کاظمی کاظم کی غزل دور حاضر کے شعر ی منظر نامہ میں ایک بہترین اور اہم اضافہ ہے۔ صدر محفل نے تقریب میں موجود معروف شخصیات کا تعارف کرایا اور علم و ادب سے انکی وابستگی پر اظہار خیال کیا۔زندگی مسلسل جدوجھد کا نام ہے اور صاحب کتاب شمیم کاظمی کاظم نے بھی جدوجھد کی ہے اور کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بیرون مک تھا لیکن انہوں نے میرا نام اپنی کتاب میں ڈالا یہ بات بہت بڑی ہے کی انہوں نے یا د رکھا اور بھولے نہیں۔ تقریب سے دیگر نامی شعراء بشمول فراست رضوی، ذیب ازکار، ڈاکٹر عالیہ امام، مبشر میر روزنامہ پاکستان کراچی کے ایڈیٹر، اور ارشاد جاوید رضوی جنر ل سیکریٹری انجمن ترقی پسند مصنفین اورصدر انجمن ترقی پسند مصنگین ڈاکٹر ایم ایچ زمان ضیغم نے صاحب کتا ب شبیر کاظمی کاظم کی غزل،شاعری و نثر کے حوالے سے خدمات اور کتاب پر تبصرہ کیا اور کہا کہ کچھ لوگ عملی سیاست اور جدو جھد کرتے ہیں لیکن شبیر کاظمی کاظم نے فکری جدوجھد کرکے معاشرہ کی نئی نسل کی رھنمائی بھی کی ہے انقلابی شاعری سے بھی آبیاری کرکے نئی جہت دی ہے۔ اہل قلم کے فردا فردا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اسٹیل مل کے مشاعروں میں اردو زبان اور ادب کی ترویج مین اہم کردار ادا کیا، اردو غزل کا ارتقا دبستان میں بھی کام کیا، انک یہ کتاب خدمت خلق کے جذبہ ا ور معاشرہ کی خدمت کا بھترین نمونہ ہے۔ جو ادب ہمیں پرکھوں نے بتایاا ا ور سنتے تھے وہ ادب شبیرکاظمی کاظم نے بتایا کہ ادب برائے ادب نہیں بلکہ ادب برا ¾ئے زندگی ہے، انہوں نے غزل میں نئے پیراہے بتائے اور اظہار کیا ہے۔ سیاسی فکر کو اشعار کے ذریعہ اجاگر کیا، امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ آنے والی کتاب میں نئے رجحانات کی آبیاری کرینگے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -