بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا، دوایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آئیں تو نتائج پوری دنیا بھگتے گی: عمران خان 

بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا، دوایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آئیں تو نتائج ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کے آزاد ہونے تک ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا،  نازی پارٹی کی  طرح آر ایس ایس نے بھارت پر قبضہ کیا ہوا ہے، بی جے پی اور آرایس ایس ہندوستان کے قوانین کو نہیں مانتے،بھارت کو سبق سیکھانے کا وقت آگیاہے، مسلمانوں پر ظلم ہونے پر بین الاقوامی انصاف دینے والے ادارے خاموش رہتے ہیں، دنیا اگر مودی کی فاشٹ حکومت کے سامنے کھڑی نہیں ہوگی تو اس کا اثرسب پر ہوگا، جنرل اسمبلی میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کروں گا،کشمیری بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، کشمیر کی آزادی تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، 80 لاکھ کشمیری 4 ہفتے سے کرفیو کے باعث بند ہیں، کشمیریوں کے دکھ میں پوری طرح شامل ہیں، بھارتی حکومت انسانوں پر ظلم کر رہی ہے۔اسلام آباد میں کشمیر آور کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی بہن اس وقت بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، ہم کشمیریوں کے دکھ درد میں شامل ہیں، آج یہاں سے پیغام جائے گا کہ جب تک انہیں آزادی نہیں ملتی پاکستان ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، آخری دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بھارت میں کس طرح کی حکومت ہے جو کشمیر میں ظلم کر رہی ہے، آر ایس ایس کا نظریہ سمجھنا ضروری ہے جس نے بھارت پر قبضہ کر لیا ہے، آر ایس ایس جماعت مسلمانوں کی نفرت میں بنائی گئی اور اس کی پیدائش میں مسلمانوں کی نفرت شامل ہے، جبکہ آر ایس ایس کا نظریہ بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کے بھی خلاف ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی صرف ہندوتوا کو مانتے ہیں، آر ایس ایس کے ممبر نے ہی گاندھی کو قتل کیا تھا جبکہ موجودہ بھارت نے نہرو اور گاندھی کی سیکولرزم کو نظر انداز کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے، اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو پوری دنیا کھڑی ہوجاتی، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو عالمی برادری خاموش رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وعدہ ہے کشمیر کی آزادی تک ہر فورم پر کشمیر کی جنگ لڑوں گا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھاں گا، مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو دنیا بھر میں اس کا اثر جائے گا اور آج اگر دنیا مودی حکومت کے سامنے کھڑی نہیں ہوئی تو بہت برے اثرات ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں کچھ نہ کچھ کرے گی لیکن ہماری مسلح افواج تیار ہے اور بھارت کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، جبکہ ایٹمی طاقتوں کی جنگ سے صرف خطے کو نہیں پوری دنیا کو نقصان ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مہم اور شروع کر رہے ہیں جو کشمیر میں کرفیو اٹھانے سے متعلق ہوگی، دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو جگائیں گے، اس مہم کے لیے دنیا بھر میں اہم شخصیات کو بھی آگاہ کریں گے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار میں لکھے گئے مضمون میں کہا ہے  کہ بھارت کو ظلم سے نہ روکا گیا تو 2 ایٹمی ممالک آمنے سامنے ہوں گے، 2 ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آئیں تو نتائج پوری دنیا کوبھگتنا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کشمیر کو نظرانداز نہیں کرسکتی، ہم سب خطرے میں ہیں، دوسری جنگ عظیم جیسا خطرہ پوری دنیا میں پھیل گیا، اس بار جنگ کا خطرہ جوہری سائے میں ہے، عالمی برادری کو کاروباری فوائد سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا مودی اور اس کے وزرا آر ایس ایس کے ممبر ہیں، وزیراعظم بننے کے بعد جنوبی ایشیا میں امن لانا ترجیح تھی، بھارت کیساتھ تجارت کے ذریعے حالات نارمل کرنا چاہتا تھا، بھارت نے امن مذاکرات کیلئے ہماری کوششوں کو رد کر دیا۔ اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے جس انداز میں لوگ نکلے مجھے اس پر فخر ہے۔  اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ عوام نے کشمیری بھائیوں کو پیغام دے دیا کہ پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی منصوبہ ساز ظالم اور سفاک مودی سرکار کیخلاف برسرپیکار اہل کشمیر کیساتھ ڈٹ کرکھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم نے دنیا کو بھارت پر ہندو بالادستی کے آر ایس ایس  اور بی جے پی کے نظریے کے (نازی انداز میں) غلبے سے جنم لینے والے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اس سے محض خطے ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو خطرہ ہے۔بعد ازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ملک میں خاطر خواہ صلاحیت کے باوجود بھی ماضی میں ان ذرائع کو عوام الناس کی بہتری کے لئے برے کار لانے کو یکسر نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ نہ صرف مہنگی بجلی  کی پیداوار بلکہ ماحول کی آلودگی میں ظاہر ہوا ہے،نئی پالیسی کے تحت قابل تجدید توانائی کے فروغ کے اہداف قابل تحسین ہیں۔ جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  اجلاس ہوا جس میں قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی تشکیل دی جانے والی پالیسی پر اعلی سطحی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وزیرِ اقتصادی امور محمد حماد اظہر، وزیرِ توانائی عمر ایوب خان،  وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر، معاون خصوصی شہزاد قاسم، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سیکرٹری پاور ڈویژن عرفان علی و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔   معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر نے قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی پالیسی کا مسودہ وزیراعظم کو پیش کیا اور مجوزہ نئی پالیسی کے خدوخال سے آگاہ کیا  کہ اس وقت  ملک میں توانائی کے موجود وسائل (انرجی مکس)میں قابل تجدید توانائی کا حصہ محض چھ فیصد ہے،مجوزہ نئی پالیسی کا مقصد  انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 2025تک  20%جبکہ 2030تک 30%تک بڑھانا ہے تاکہ ملکی توانائی وسائل  کا زیادہ حصہ کلین توانائی پر مشتمل ہو،  نئی پالیسی کا مقصد ان قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار ہے  جس سے عوام کو سستی ترین بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔   وزیرِ اعظم کو مجوزہ پالیسی کے خدو خال پر بریف کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت ان تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے جو قابل تجدید توانائی کے فروغ میں حائل تھیں۔   تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے سرمایہ کو تحفظ دینے اور انکے اعتماد کو یقینی بنانے کے لئے نئی پالیسی کے تحت توانائی کی استعداد کو مد نظر رکھ کر سالانہ بنیادوں پر نیلامی کی جائے گی تاکہ استعداد اور ضروریات کو  سامنے رکھ کر سرمایہ کارنیلامی کے عمل میں شریک ہو سکیں۔   ٹرانسمیشن (ترسیل) کے ضمن میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے نہ صرف گرڈ کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ قابل تجدید توانائی کے پلانٹ لگانے والوں کو یہ سہولت میسر کی جا رہی ہے کہ و ہ پہلے سے شناخت شدہ بلاکس میں اپنی سہولت کے مطابق جگہ کا تعین کرکے کارخانے لگائیں تاکہ ترسیل کے ضمن میں انکو کسی قسم کی دقت نہ ہو۔  

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -