مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف سینیٹ میں قرار داد متقفہ منظور

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف سینیٹ میں قرار داد متقفہ منظور

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ اقدامات اور نہتے کشمیریوں پر مظالم کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور پر منظور کر لی۔ سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے اجلاس کے دوران قرار داد پیش کی۔ قرارداد میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کی مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نریندر مودی کے کشمیرمیں اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی منافی ہے۔ کشمیر میں غیر قانونی طور پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔ قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ہر فورم کا استعمال کیا جائے۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان رضا ربانی، مشاہد حسین سید، مولانا عبد الغفور حیدری، رحمن ملک، عثمان کاکٹر و دیگر نے کہا ہے کہ مودی ہندوستان کو ہندوتوا بنانا چاہتا ہے،مودی کی اس قدم سے انڈیا کشمیر ایشو پر دنیا بھر میں بدنام ہوا ہے، اب جو صورتحال کشمیر میں ہے اس پر ہمالیہ رو رہا ہے، پاکستان مسلم امہ کیلئے ہمیشہ کھڑا ہوا ہے، جب پاکستان  پر مشکل آئی تو مسلم امہ خاموش رہتی ہیں، معاشی مفاد کی خاطر ان ممالک نے انسانی حقوق کا سودا کرلیا،او آئی سی کا بھارت کے خلاف ایک بیان تک نہیں آیا کہ بھارت کشمیر کے اندر جارح ہے،مسلم امہ کا غبارہ پھٹ چکا ہے،  پاکستان کو اب او آ ئی سی سے نکل جانا چاہیے، کشمیر آسان اور جلد حل ممکن نہیں، اب کشمیر میں فلسطین کی صورتحال بن گئی،پاکستان کی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے کوریڈور میں کوئی اثر نہیں ہے، ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا حصہ بنا کر ثالثی کی تھی، ایسی ثالثی ہم نہیں چاہتے،کشمیر کو معاہدے کے تحت مودی کے حوالے کیا گیا ورنہ مودی میں ہمت نہیں ہے،وزیراعظم نے کہا تھا کہ مودی آئے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا،ہم مگر مچھ  کے آنسو رو رہے ہیں کہ شاید بھارت نے غیر قانونی طریقے سے کشمیر کا آئین بدلا،وزیراعظم کو امریکہ بلایا گیا تھا کہ کشمیر پر فیصلہ ہو گیا ہے آکر سن لو،بہتر ہے کہ ٹیپو سلطان کی مثال دینے والے جرات کریں،عملی طور پر کشمیر کے لیے اقدامات اٹھانے ہونگے،آصف زرداری اور نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو رہا کرکے اتحاد کا پیغام جانا چاہیے،کشمیر پر کشمیریوں کیلئے حق ملکیت اور حاکمیت ہونا چاہیے، کشمیریوں کا خود مختار کشمیر ہونا چاہیے، مودی انسان نہیں ہے جانور ہے، سب سے بڑا دہشت گرد ہے، تقریروں کاوقت ختم ہو گیا ہے اب عمل کا وقت ہے، مودی کا سیاسی سر کچلنا چاہیے، اگر اقوام متحدہ کشمیر میں قتل عام بند نہیں کرا سکتا تو اس کو بند کردینا چاہیے، مودی کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی عدالت انصاف میں چارج شیٹ کیا جائے۔حکومتی رکن سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی تین جنگیں ہوئیں، سارے وسائل جنگوں میں لگے، ظلم کے باوجود کشمیریوں نے تحریک جاری رکھی ہے، 25 دن سے کشمیر میں کرفیو ہے، پاکستان کی  فضائی حدود  بھارت کیلئے بند کیا جائے اور افغانستان کیلئے ٹرانزٹ  ٹریڈ روٹ بند کیا جائے۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس سوموار کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ/قرارداد

مزید :

صفحہ اول -