آصف زردار ی پمز سے واپس اڈیالہ جیل منتقل، آصفہ بھٹو کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر پیپلز پارٹی کا شدید ردعمل 

آصف زردار ی پمز سے واپس اڈیالہ جیل منتقل، آصفہ بھٹو کو ملاقات کی اجازت نہ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کو پمزہسپتال سے ڈسچارج کر کے واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصفہ بھٹوکو بیمار والد سے نہ ملنے دینے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ آصفہ بھٹو کا کہنا ہے کہ جمعہ کو عدالت کی اجازت کیساتھ اپنے والد سے ملنا چاہتی تھیں مگر پمز انتظامیہ نے مجھے دیکھ کر ہسپتال کے دروازے بند کردئیے، کسی طرح ہسپتال کے اندر پہنچنے پر سیڑھیوں اور لفٹ پر پولیس اہل کاروں نے مجھے والد کے پاس جانے سے روکنے کیلئے انسانی زنجیر بنالی، مجھے روکا اوردھکا دیا گیا، پولیس کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا۔ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والد سے ملاقات کیلئے ہسپتال پہنچیں تو انہوں نے دیکھا کہ اسپتال انتظامیہ نے اس دوران کسی مریض کو نہ اندر آنے دیا اور نہ باہر جانے دیا۔آصفہ بھٹو نے سوال اٹھایا کہ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو پورا ہسپتال بند کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو مریضوں اور شہریوں کے ہسپتال داخلے پر پابندی لگاتی ہے؟۔ملاقات سے متعلق تحریری طور پر درخواست ہمارے پاس تھی، انتظامیہ درخواست وصول کرنے کیلئے تیار ہی نہیں تھی، ہم ڈھونڈتے رہے کہ کوئی عدالتی احکامات کے مطابق موجود تحریری درخواست وصول کرے،جیل انتظامیہ ہمیں نظر ہی نہیں آئی۔پولیس، اسپتال انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت کوئی درخواست وصول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ ہماری درخواست پر عملدرآمد ہو۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پمز اسپتال کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ آصف زرداری سے انکی بیٹی سے ملاقات کی اجازت نا ملنا توہین عدالت ہے۔ آپ کسی کو ہسپتال کے اندر جانے سے نہیں روک سکتے۔انہوں نے کہا کہ ایک کمرہ سب جیل ہے تو پورا ہسپتال بند نہیں کر سکتے۔ میں وکیل ہوں میرے پاس اجازت نامہ بھی تھا اور میں سینیٹر بھی ہوں،کسی بھی سینیٹر کا حق ہے کہ وہ ہسپتال میں جاکے چیک کر سکتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مریض کو بیٹی سے نا ملانا اس سے بڑی لاقانونیت نہیں ہوسکتی۔بعدازاں آصف زرداری کو اسپتال سے ڈسچارج کرکے دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی جیل منتقلی کے موقع پر سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ آصف زرداری کو دو دن قبل مختلف ٹیسٹس کیلئے جیل سے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔شیری رحمن اور فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ بھٹو کو ان کے والد سے ملنے نہیں دیا گیا، آصف زرداری کو ڈاکٹر کی تجویز کے برعکس جیل بھیج دیا گیا، یہ حکومت انتقام پر اتر آئی ہے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر مولابخش چانڈیو  نے آصف علی زرداری کو جیل منتقل کرنے کی مذمت  کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف علی زرداری صاحب شدید علیل ہیں،انہیں علاج کے بنا جیل منتقل کرنا قابل مذمت ہے،  عمران خان سیاسی مخالفین کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، زرداری سے ان کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو بھی ملنے سے روکا گیا،عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ وہی رویہ ہے جو مودی کا مقبوضہ کشمیر میں ہے۔

زرداری،پیپلزپارٹی

مزید :

صفحہ اول -