نیب 50کروڑ سے زائد کی کرپشن پر کارروائی کر سکے گا، آرڈیننس میں ترمیم کا مسودہ تیار

     نیب 50کروڑ سے زائد کی کرپشن پر کارروائی کر سکے گا، آرڈیننس میں ترمیم کا ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی حکومت نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کو حتمی شکل دیتے ہوئے ایک مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں نیب سے سرکاری محکموں میں بد انتظامی،سٹاک مارکیٹ اور ٹیکس سے متعلق کیسز پرکارروائی کرنے اور سرکاری ملازمین کے اثاثے منجمدکرنے کے ختیارات واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ نیب کیلئے کارروائی کا دائرہ اختیار10 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن تک کردیا گیا ہے،ملزمان کا جسمانی ریمانڈ90کی بجائے 45روزتک کرنے کی تجویز دی گئی،احتساب عدالتوں کو ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلے کا اختیار دینے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔وفاقی وزارت قانون کی طرف سے نیب آرڈیننس میں ترمیم کیلئے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے مطابق نیب50کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن پر مجوزہ کارروائی کرے گا،ملزم سے رقم کی رضا کارانہ واپسی کی منظوری وزیراعظم کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی دے گی،کرپشن کی رقم واپس کرنے والا ملزم 10سال کیلئے کسی بھی عوام عہدے کیلئے نااہل ہوگا،نیب تین ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا پابند ہوگا، تین ماہ میں تحقیقات مکمل نہ ہونے پر ملزم کو ضمانت کا حق حاصل ہوگا،ایک کیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کیس کو دورباہ نہیں کھولا جا سکے گا۔مسودے کے مطابق سرکاری ملازم کا ریمانڈ 90روز کی بجائے 45کا ہوگا،سٹاک مارکیٹ کو ٹیکس سے متعلق کیسز نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے،سرکاری ملازمین کی جائیدادیں منجمد ہونے کے اختیارات بھی نیب سے واپس لئے جائیں گے،ملزم کو عدالت سے سزا ہونے کی صورت میں اس کے اثاثے منجمد کیے جاسکے گے،احتساب عدالتوں کو ضمانت کی درخواستوں پر اختیار دینے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے،محکمانہ بدنظمی پر نیب سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گی۔

نیب آرڈیننس

مزید :

صفحہ اول -