ٹرمپ ثالثی کی بات مقبوضہ نہیں آزاد کشمیر کیلئے کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمن

  ٹرمپ ثالثی کی بات مقبوضہ نہیں آزاد کشمیر کیلئے کر رہے ہیں، مولانا فضل ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی سے موجودہ حکومت باخبر تھی،ٹرمپ جس ثالثی کی بات کر رہاہے وہ مقبوضہ کشمیر کی نہیں آزاد کشمیر کی بات ہے۔امیر جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمن نے یہ بات جے یو آئی آزاد کشمیر کے علمائے کرام کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس جے یو آئی کے سب آفس آئی نائن اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں میں کشمیر کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام کی بڑی تعداد میں شریک ہوئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف 19 ستمبر کو مظفرآباد میں آزادی مارچ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک جے یو آئی اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کا فیصلہ اندھیرے میں نہ کیا جائے۔ کشمیریوں کو خبر میڈیا سے ملتی ہے جبکہ وہ اس معاملہ میں فریق ہیں۔ کشمیریوں کو اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنا پڑے گی۔مزید براں مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے (آج)ہفتہ تک کا وقت دے دیا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی پارٹی نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عمران خان کے پاس اگست 2019 تک کا وقت ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایک دن میں وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا اور پورا ملک بھی بند سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ون ملین مارچ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اور اب ہم ان کا اعتماد توڑنا نہیں چاہتے۔فضل الرحمان بتایا کہ ہم نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں اور حکومتی کارکردگی بھی سامنے ہے۔جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ملک کا ہرشعبہ زندگی مشکلات کا شکار ہے اور اس کا حل حکومت کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومتی خاتمے کے لیے، معاشی بحران، ختم نبوت، توہین رسالت، مہنگائی، غلط پالیساں، مدارس اور بے روزگاری کا سوال بھی آئے گا۔اپوزیشن کے ساتھ اختلاف سے متعلق انہوں نے کہاکہ ہماری ترجیحات مختلف ہیں لیکن اسے اختلاف کا نام نہیں دیا جاسکتا۔قومی حکومت کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری تجاویز کا متبادل ہے تو اور پیش کرے لیکن ہم حکومت سے بات نہیں کریں گے۔

فضل الرحمان

مزید :

صفحہ اول -