مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے، ارکان کے پی کے اسمبلی

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہو رہی ہے، ارکان کے پی کے ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت میں شروع ہوا وقفہ سوالات میں ارکان اسمبلی حاجی بہادر خان،نگہت اورکزئی،میاں نثار گل،عنایت اللہ خان اور ثمر ہارون بلور کے سوالات تھے جو محکمہ آبنوشی،محکمہ ٹرانسپورٹ اور محکمہ قانون کی کارکردگی سے متعلق تھے تاہم یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ارکان اسمبلی کے واک کے باعث سپیکر مشتاق احمد غنی نے اپوزیشن کے مشورے س وقفہ سوالات معطل کرتے ہوئے تمام سوالات اگلے سیشن تک کیلئے موخر کردیں نوٹس پر موقف اختیار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے ظلم اور بربریت کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے اندر گذشتہ تین ہفتو ں سے مسلسل کرفیو کی وجہ سے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں بلکہ بھارتی افواج کی اشتعال انگیزی مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول ایل او سی تک پہنچ چکی ہیں اور بارڈر پر آئے روز گولہ باری اور شدید شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے اس کشیدہ اور نازک صورت حال کے تناظر میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر کیبل نیٹ ورک پر بھارتی فلموں کی نمائش اور بھارتی مصنوعات کی تشہیر کا سلسلہ فی الفور بند کرنے کے احکامات جاری کریں صوبائی وزیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش نے وزیر قانون کی جانب سے خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی ترمیمی بل 2019ء فوری طور پر ایوان میں زیر غور لانے اور پاس کرنے کیلئے تحاریک پیش کیں ایوان نے بل کی منظوری دے دی پی پی پی کی خاتون رکن نگہت اورکزئی نے صوبائی حکومت کی جانب سے بننے والی کشمیر کمیٹی میں پی پی پی کو نمائندگی نہ دینے پر احتجاج کیا اور کہا کہ کشمیر کے حوالے سے یکجہتی کیلئے اس قسم کی کمیٹیوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دینا لازمی ہے سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ایسا قصداً نہیں کیا ہوگا وہ وزیر اعلیٰ سے بات کریں گے اور متعلقہ کمیٹی میں پی پی پی کو نمائندگی دے دی جائے گی اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے آدھے گھنٹے کا یکجہتی سٹینڈ کے فیصلے میں اپوزیشن لیڈر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کے حوالے سے پوری طرح ایک پیج پر اور متحد ہیں لیکن وزیر اعظم کے اعلان کردہ احتجاج میں شریک نہیں ہوں سپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ کشمیر کا ایشو پور ی قوم کا اور حساس ایشو ہے اس میں یکجہتی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہمیں ایک ہونا چاہئے انہوں نے اپوزیشن کو استدعا کی وہ احتجاج میں شریک ہوں اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اکٹھے اظہار کریں سردار حسین بابک نے سپیکر سے اپنی جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورے کیلئے دس منٹ مانگ لئے سپیکر نے اجلاس 6 ستمبر دس 10 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -