رحمان ادبی جرگہ کے تعاون سے پشتو کے عظیم شاعر رحمان بابا کی یاد میں سیمینار

رحمان ادبی جرگہ کے تعاون سے پشتو کے عظیم شاعر رحمان بابا کی یاد میں سیمینار

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران پشاور نے رحمان ادبی جرگہ کے تعاون سے پشتو کے عظیم شاعر رحمان بابا کی یاد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ایرانی قونصل جنرل محمد باقر بیگی، رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی، ڈاکٹر فخرالاسلام اور ڈائریکٹر خانہ فرہنگ مہران اسکندریان نے شرکت کی۔ شرکانے نے رحمان بابا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ رحمان بابا پشتو زبان کے صوفی شاعر تھے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قرآن اور حدیث کی تعلیمات عام کیں۔ایرانی قونصل جنرل محمد باقر بیگی، فضل الٰہی اور مہران اسکندریان کا کہنا تھا کہ رحمان بابا کی الہامی شاعری میں انہوں حافظ شیرازی کو اپنا مرشدقرار دیا ہے۔ جو بات شیخ سعدی اور حافظ شیرازی کہتے ہیں وہی بات دوسرے الفاظ میں رحمان بابا کے ہاں بھی ملتی ہے اور بعینہ وہی چیز علامہ اقبال کی شاعری کا بھی اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ اس لئے کہ ان تمام کا نکتہ نظر اور منبع فکر ایک ہی ہے۔ مولانا روم، شیخ سعدی اور حافظ شیرازی شاہ عبداللطیف بھٹائی، سلطان باہو اور خواجہ غلام فرید بھی اسی راہ کے سالک ہیں۔ یہ روشن افکار سب میں مشترک ہیں۔ سب نوع انسانی کو عمومااور امت مسلمہ کو خصوصا اتفاق، اتحاد اور محبت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ سب کے درمیان صدیوں کے فاصلے ہیں مگر روحانی ربط نے نقطہ ہائے نظر میں بے حد مماثلت پیدا کر دی ہے اور یہی وہ مشترک قدریں ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قوموں کے درمیان ثقافتی تعلقات انہی مشترکات کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ان مشترکات کی بنیاد پر ہے رحمان بابا نے حافظ کو اپنا مرشد مانا اور ان کے افکار کی پیروی کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -