قبائلی اضلاع میں لیویز ایکٹ مسترد، تحریک کی تیاریاں، 3ستمبر کی ڈیڈلائن

  قبائلی اضلاع میں لیویز ایکٹ مسترد، تحریک کی تیاریاں، 3ستمبر کی ڈیڈلائن

  

خیبر (بیورورپورٹ)قبائلی اضلاع پولیس نے لیویز ایکٹ مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر تحریک شروع کرنے کیلئے تیا ر،باغ ناران اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے حکومت کو تین ستمبر تک ڈیڈ لائن دی ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے توایک بار پھر شدید احتجاجی مظاہرے اور تحریک شروع کرینگے حکومت نے خاصہ دار فورس کو خیبر پختونخوا پولیس میں تو ضم کیا گیا لیکن خیبر پختو نخوا ہ پولیس کی طرح مراعات اور تنخواہیں تا حال نہیں دی گئی اب بھی قبائلی اضلاع میں زیا دہ تر اہلکاروں نے خاصہ دار بیجز ز لگا دئیے ہیں لیکن زیا دہ تر خاصہ دار اہلکاروں نے خاصہ دار بیجز اتار کر پولیس فورس کے بیجز ز لگا دئیے گئے ہیں اس وقت قبائلی اضلاع کے پولیس اہلکاروں میں اختلا فات سامنے آرہے ہیں کیونکہ پولیس کو ضم ہونے کے بعد ترقیوں یعنی پروموشن میں میرٹ کو مکمل طور نظر انداز کر دیاتھا اور ڈی پی او کی غلط اور میر ٹ کے برعکس فیصلوں سے ضلع پولیس گو مگھوں کا شکار ہیں خیبر پختو نخواہ حکومت نے خاصہ داروں کو پولیس میں ضم ہونے کے بعد ان سے وعدے کئے تھے لیکن حکومت ابھی تک ان میں ناکام نظر آرہے ہیں اس لئے اضلاع پولیس میں بے چینی پیدا ہو رہی ہیں اور دوسری طرف حکومت نے لیویز ایکٹ 2019لانے کا فیصلہ کیا گیا ہیں جو خاصہ دار فورس جو اب پولیس بن گئے ہیں نے یکسر مسترد کیا ہے اور اضلاع کے ڈی ایس پیز نے بتا یا کہ حکومت اب جو لیویز ایکٹ 2019لا رہے ہیں تو پھر کیوں انکو پولیس میں ضم کیا اور انہیں پولیس سٹار اور بیجزز لگا دئیے صوبیداروں سے ڈی ایس پیز بنا دئیے گئے اور نائب صوبیدار کو ایس ا یچ او اور ایس آئی میں تبدیل کیا گیا باغ ناران اجلا س میں قبائلی اضلاع ڈی ایس پیز سید جلال،جہانگیر آفریدی اور دیگر نے بتا یا کہ لیو یز اور خاصہ دار پر 2017ایکٹ نافذ کیا جائے ا س کے علاوہ کوئی دوسرا ایکٹ منظورنہیں جبکہ خیبر پختو نخواہ پولیس میں تقریبا 28000اسامیاں پیدا کرکے لیویز اور خاصہ دار کو بھرتی کیا جائے اور سپریم کورٹ کے آرڈر کو نافذ کیا جائے انہوں نے کہا کہ اعلی حکام نے جو وعدے ان سے کئے گئے ہیں انکو پورا کیا جائے قبائلی اضلاع کے لیو یز اور خاصہ دار فورس اس بات پر متفق ہیں کہ 22نکات پر عمل کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تین ستمبر تک انکے مطالبات تسلیم نہیں کی گئی تو وہ شدیداحتجاج پر مجبور ہو جائینگے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -