مودی حکومت نے بھارتی مسلمانوں پر ایک اور سنگین ترین الزام عائد کردیا

مودی حکومت نے بھارتی مسلمانوں پر ایک اور سنگین ترین الزام عائد کردیا
مودی حکومت نے بھارتی مسلمانوں پر ایک اور سنگین ترین الزام عائد کردیا

  

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی حکومت نے اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں پر کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی حمایت کا الزام عائد کر دیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق وزیر ترقی انسانی وسائل پرکاش جاوادیکر نے سابق صدر کانگریس راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا انہوں نے حکومتی پالیسی پر تنقید اسلئے کی تاکہ پاکستان اقوامِ متحدہ میں جواز فراہم کرسکے اور اسلئے بھی تاکہ اپنے مسلمان اکثریت والے حلقے کو راضی کرسکیں، راہول گاندھی نے کہا کشمیر میں معاملات ٹھیک نہیں اور اطلاعات ہیں لوگ مررہے ہیں، آپ غلط ہیں راہول گاندھی کشمیر میں سب صحیح ہے نہ وہاں تشدد ہے نہ لوگ مررہے ہیں۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو لکھی گئی درخواست میں ان کا بیان شامل کیا اور کہا کشمیر میں تشدد کے واقعات کو بھارتی اپوزیشن رہنما نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے راہول گاندھی کے لوک سبھا کے حلقے وایاند کا استعمال کرتے ہو ئے بھارتی مسلمانوں پر فرقہ وارانہ تبصرہ بھی کیااورکہا راہول گاندھی نے کشمیر کے حوالے سے تنقیدی ریمارکس اپنے ووٹ بینک سیاست کی وجہ سے دیئے اور حیرانی کا اظہار کیا کہ کیا ان کی ذہنیت نئے حلقے سے الیکشن لڑنے کی وجہ سے ہے۔بھارتی وزیر نے کہا وایاند سے جیتے تو سوچ بدلی جس پر رپورٹر نے سوال کیا اس کا کیا مطلب ہے تو پرکاش جاوادیکر کا کہنا تھا ان کا تبصرہ حلقے کیلئے نہیں اس کے نمائندے کیلئے تھا۔ تاہم وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وایاند کا نمائندہ بننے نے راہول گاندھی کو کس طرح بھارت کیخلاف پاکستان کوجواز فراہم کرنے پر مجبور کیا۔ صحافی نے پوچھا کیا بی جی پی یہ کہنا چاہی ہے کشمیر کے معاملے پر امیٹھی(راہول گاندھی کا پہلا حلقہ) اور وایاند میں پائی جانیوالی رائے مختلف ہے؟ یا ان کا مطلب یہ تھا شمالی بھارت کے حلقے امیٹھی کے عوام جنوبی بھارت کے حلقے وایاند سے زیادہ محب وطن ہیں،اس کے باجود بھارتی وزیر نے اس حوالے سے جنم لینے والے شکوک شبہات کو دور کرنے سے انکار کیااور کہا انہوں نے کھلے لفظوں میں مذہب کی بنیاد پر ووٹ کا مطالبہ کیا جس میں کانگریس کو ہندو دہشت گردی کے بیان پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وایاند سے راہول گاندھی کے الیکشن میں حصہ لینے پر کہا تھا ہندو کمیونٹی کو اب پتا چل چکا ہے اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے،راہول گاندھی کو اس جگہ سے الیکشن لڑنا پڑا جہاں اقلیت اکثریت ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -