مقتول صحافی مرزا وسیم بیگ کی نماز جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں تدفین ،سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت

مقتول صحافی مرزا وسیم بیگ کی نماز جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں تدفین ...
مقتول صحافی مرزا وسیم بیگ کی نماز جنازہ کے بعد آبائی قبرستان میں تدفین ،سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت

  

گجرات (ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ رات سرائے عالمگیر ضلع گجرات کے سینئر صحافی اور نجی ٹی وی چینل سے منسلک مرز اوسیم بیگ کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ،نماز جنازہ میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری عابد رضا، سابق ایم پی اے ملک حنیف اعوان، ایم پی اے چوہدری ارشد کے علاوہ ملک کے مختلف نجی ٹی وی چینلز اور پنجاب کے مختلف پریس کلب کے صدور و عہدیداران نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں  شرکت کرنیوالوں میں عثمان طیب،وحید مرزا، چوہدری عمر گجر، چوہدری شمشاد جاگل، چوہدری شاہد ،زمان احسن، چوہدری عبد ل عزیز، چوہدری فیصل گجر، چوہدری ظفر اقبال،امین فاروقی سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شامل تھے۔ اس موقع پر پورا گاؤں امڈ آیا ،خواتین اپنے گھروں کی چھتوں پر ماتم کرتی ہوئی نظر آئیں جبکہ ہر آنکھ اشکبار تھی، پولیس کی طرف سے کسی اعلی آفیسر نے جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقتول کو گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے گھر سے باہر بلا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور انہیں 6گولیاں لگیں۔ بعد ازاں اس وقوعہ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے مقتول کے ورثا اور اہل علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ تین یوم کے دوران ملزمان کو گرفتار کر لیا جائیگا ۔

نماز جنازہ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرائے عالمگیر کے صحافیوں کے علاوہ سینئر صحافی عثمان طیب،وحید مراد مرزا نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ گجرات کو پولیس اور انتظامیہ کے افسران کیلئے تجربہ گاہ بنانے کا سلسلہ فوری طو رپر ختم کر نے کے علاوہ ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر، آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی اور دیگر اعلی پولیس حکام کو فوری طو رپر اسکی ذ مہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تین یوم کے اندر پولیس نے کسی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا تو اصل ملزمان گرفتار کر لیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ نہیں بڑھایا جائے گا اور اگر پولیس اس میں ناکام ہوئی تو پورے پاکستان سے صحافیوں کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیلئے کال دی جائے گی ،اس کے لیے پنجاب پولیس اور انتظامیہ تیار رہے، قاتلوں کی گرفتاری تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ علاقہ کے معززین اور ممبران اسمبلی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی پی او سید علی محسن کاظمی کے دور میں کھوہار اور پوران کے علاقہ میں اشتہاری مجرمان کی پچاس سالہ پرانی کمین گاہیں ایس ایچ او غلام ڈوگر نے جرات اور بہادری کے ساتھ ختم کر دیں، لاتعداد اسلحہ قبضہ میں لیا اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا باقی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے مگر ڈی پی او کے تبادلہ کے بعد مذکورہ اشتہاری مجرمان جن کے خوف اور دہشت سے عوامی نمائندے بھی خوفزدہ ہیں، واپس آ کر اپنی کمین گاہیں آباد کر لی ہیں،موجودہ ڈی پی او سید توصیف حیدر کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ خطرناک اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کے لیے کوئی فیصلہ کرتے ہیں یا پھر زبانی دعوی کر کے صحافیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -گجرات -