گجرات میں صحافی کا قتل،پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

گجرات میں صحافی کا قتل،پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
گجرات میں صحافی کا قتل،پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

  


ملک کا دوسرا بڑا سیاسی ضلع گجرات جو ملک کے قد آور سیاستدانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے وہاں گجرات کے خطرناک اشتہاری بھی کسی سے کم نہیں ،جغرافیائی لحاظ سے گجرات اشتہاریوں کی محفوظ ترین پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک چند ایک پولیس سربراہان نے اشتہاریوں کے خلاف کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 90 کے قریب پولیس ملازمین بھی شہید ہوئے جن کی تصاویر آج بھی پولیس لائن کی دیوار کے باہر آویزاں ہیں مگر بعد میں تعینات ہونیوالے پولیس افسران کی اکثریت نے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار  کئے رکھی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد گجرات میں ایک ایسا پولیس آفیسرتعینات ہوا جس نے 10ماہ کی تعیناتی کے دوران چن چن کر اشتہاری مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم اشتہاری ملزمان کے لیے ایمنسٹی سکیم کا اجرا بھی کیا ،جس سے درجنوں اشتہاری ملزمان نے واپس آ کر اپنی بیگناہی کا ثبوت دیکر اپنی جان خلاصی کی۔

پروفیسر سید علی محسن کاظمی جو اب ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی پا چکے ہیں کے دور میں کسی کو یہ جرات نہ تھی کہ کسی کی جان و مال کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے ،انکی ترقی کے بعد گجرات میں سید توصیف حیدر کو ڈی پی او گجرات مقرر کیا گیا جن کی یہ پہلی ڈی پی او شپ ہے، ابھی تعیناتی کے چند روز ہی گزرے ہیں کہ سرائے عالمگیر کے علاقہ میں ایک سینئر صحافی جو ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ منسلک تھا کو نامعلوم مسلح اشتہاری ملزمان نے گھر سے باہر بلا کر اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔مذکورہ سینئر صحافی مرزا وسیم بیگ نے سابق ڈی پی او سید علی محسن کاظمی کے دور میں ایک ماہ قبل کھوہار اور پوران میں اشتہاری مجرمان کی محفوظ ترین پناہ گاہوں پر پولیس کارروائی کی براہ راست رپورٹنگ کی تھی، اس سے قبل بھی مذکورہ سینئر صحافی کو ڈاکوؤں نے رکھ پبی سرکار کے قریب لوٹ لیا تھا ۔انہوں نے ملزمان کی عدم گرفتاری پرگاؤں پوران میں ڈی ایس پی سرکل کی کھلی کچہری کے موقع پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا اور ان کے اس احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی مگر نہ تو ان کی ڈکیتی برآمد ہوئی اور نہ ہی انہیں کوئی انصاف ملا ،حقیقی معنوں میں گجرات ضلع میں جوچوہدری برادران کا آبائی ضلع ہے اور وہ اس وقت چوہدری شجاعت حسین کی علالت کے باعث بیرون ملک ہیں، صحافی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں ۔اس سے قبل گجرات شہر کے رہائشی نعیم بٹ کے بیٹے کو نامعلوم افراد نے اسکے والد کو سبق سکھانے کے لیےموت کے گھاٹ اتار دیا تھا،گجرات میں یہ قتل ہونیوالا پہلا صحافی نہیں ہے اس سے قبل بھی متعدد صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے مگر کسی ایک کا بھی قاتل گرفتار نہیں ہوا ۔وقتی طور پر طفل تسلیاں دیکر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کی جاتی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

بیرون ملک ضلع گجرات کے رہائشیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور سرائے عالمگیر کے اس سینئر صحافی کے بیہمانہ قتل پر نیشنل پریس کلب مانچسٹر، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے ممبر بیرسٹر امجد ملک،برطانیہ میں ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر ایاز ودیگر نے اس قتل پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ آئی جی پنجاب، آر پی اوگوجرانوالہ، ڈی پی او گجرات کو فوری طور پر اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تدفین کے موقع پر سینئر صحافی عثمان طیب اور وحید مراد مرزا نے بجا طو رپر یہ کہا ہے کہ گجرات کو پولیس افسران اور انتظامیہ کے لیے تجربہ گاہ نہ بنایا جائے بلکہ یہاں پر کسی انسان دوست اور فرض شناس کو تعینات کیا جائے ۔چوہدری برادران گجرات میں یکدم سے بگڑی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔اب صحافیوں نے ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر کی طرف سے جاری شدہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر بھر پور احتجاج کی دھمکی دیدی ہے، اگر پنجاب پولیس کے اعلی افسران نماز جنازہ میں شرکت کرتے تو نہ صرف ان کے قد کاٹھ میں اضافہ کا باعث بنتا بلکہ علاقہ کے لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہو جاتے ۔صحافی برادری نے ورلڈ جرنلسٹ فورم سمیت صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...