نازک کلی

نازک کلی
 نازک کلی

  

وہ جیسے ہی پل پار کرنے کے بعد گیٹ سے اندر داخل ہوئی ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسکا استقبال کیا تھا_ 

ناک جو پچھلے دس منٹ کے سفر میں سرخ ہوگئی تھی وہ مزید سرخ ہوئی_ سبز آنکھوں میں کرب مسلسل تھا۔ دائیں بائیں اور سامنے جاتی لمبی شاہرائیں شدید دھند میں گم سی ہوگٸی تھیں۔ لڑکے اور لڑکیوں کا ہجوم_اونی کپڑے پہنے قہقہے لگاتے لوگ_ سب بہت حسین تھا۔ اس نے گھر جانے کی بجائے باغ کی طرف قدم بڑھائے__!! 

باغ کے باٸیں جانب لگے۔درختوں کی جھنڈ کے نیچے بیٹھ کے گہری سوچ میں ڈوب گئی_ان سوچوں کے تسلسل سے اس کی اختلاط بہت پکی تھی۔ ساری رات اوس پڑنے کی وجہ سے سڑکیں اور فٹ پاتھ گیلے نظر آرہے تھے_ اس نے سر اٹھا کر اپنے اوپر لگے گھنے درختوں کو دیکھا جن سے اوس کے قطرے ٹپک رہے تھے__ 

پھر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں__ آنکھوں میں چمک ابھری، لبوں پر مسکراہٹ  بکھری اور اس نے اپنے آپ کو شدید دھند غائب ہوتے محسوس کیا تھا_کیونک وہ نازک کلی لڑکی کو لوگوں کے رویوں نے کرچی کرچی کیا تھا۔اس کی سوچوں کا تسلسل آب رواں کی طرح تھا۔اور ہر نئی سوچ اذیت کا باعث تھی۔ 

مضبوط تخیل کے لوگوں کے ساتھ بھی عجیب و غریب مسائل ہوتے ہیں، وہ ایک جگہ پر موجود ہو کر بھی اپنے آپ کو کہیں اور پاتے ہیں___، 

کبھی صدیوں پیچھے تو کبھی برسوں آگے_!! 

خوبصورت ماحول کو دیکھ کر اسکے ذہن میں ایک دھن ابھری جو اس نے سر جھٹک کر ذہن سے نکالی_ پرندوں کی چہچہاہٹ سے وہ قیاس کی دنیا سے باہر آئیں۔ اچانک باغ کے بائیں جانب سے سحر طاری کرتی آواز ابھری__

”سنو_!!“ 

زمین کی گردش جیسے ساکت ہوٸی تھی۔مرجھائے پھول پھڑ پھڑانا شروع ہوئے۔ اسکے ساتھ ہی اسکے دھڑکتا دل اور وہ خود ٹھٹک گئی۔ آس پاس نظریں دوڑائیں اور پھر خود کو ویران باغ' مرجھائے پھولوں'اور گھنے درختوں کے جھنڈ میں پایا۔ اسکے چاروں طرف دھواں اٹھ رہا تھا_ اسکا حلق خشک ہو چکا تھا_ وہ کہیں بھی آجاتا تھا_ وقت اور زمانوں کی قید سے آزاد وہ پراسرار شخص_اس نازک کلی کی زندگی میں اور ہر بار اس کی شدت تشنگی کو بڑھاتا تھا۔ 

”تمہيں دھند _“اور اس اجڑے باغ میں بیٹھ کے پرندوں کی چہچہاہٹ کو سننا'مرجھائے پھولوں کو دیکھناپسند ہے۔۔۔ 

وہ بس اسکی آواز سن سکتی تھی_ سرسراتی سرگوشیاں کرتی آواز__ 

جانے وہ پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا۔ 

”ہاں بہت__“ 

دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا گیا تھا_ وہ اسے کھلی آنکھوں سے اپنے آس پاس تلاش کر رہی تھی__ آواز اسکے بہت قریب سے ابھر رہی تھی لیکن کہیں بھی اسکا وجود نہیں تھا۔ 

”لیکن کیوں__؟؟“ 

دلسوز آواز_ سحر انگیز لہجہ اور طلسماتی نظر نہ آنے والا وجود_اپنے طلسم کی لپیٹ میں لینے والا شخص اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اسے کیا نام دے؟؟ 

”مجھے دھند میں چلنا اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت میں خود کو غاٸب ہوتے محسوس کرتی ہوں__“ مجھے اجڑا باغ پسند ہے ۔ کیونکہ اجڑی چزوں میں بہت سے راض رفن ہوتے ہیں۔مجھے مرجھائے پھول پسند ہے کیونکہ یہ میری ذات کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا گیا تھا۔ 

”تمہیں reykjavik پسند ہے نا؟؟ کیوں؟؟“ 

”وہاں بہت برف پڑتی ہے_اور وہاں ہر چیز ویران اور اجڑی ہوتی ہے۔ سرد پن اور تنہائی مجھے اچھی لگتی ہے__!!“میری روح کو سکون ملتا ہے ۔""بے شک روح کا سکون دل کی خوشی سے بڑھ کے ہوتا ہے"" 

”کیونکہ یہ سرد پن اور تنہائی تمہاری شخصیت کا خاصہ ہے اس لیے_ یاد رکھنا یہ سرد مہری نقصان دہ ہوتی ہے_ انسان کا سب کچھ چھین کر لے جاتی ہے_“اور پھر سوائے اذیت کے کچھ نہیں ملتا ہے۔ انسان کو دیمک لگ جاتی ہے۔اور آہستہ آہستہ انسان کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ 

”نہیں تو_ ایسی کوئی بات نہیں ہے__“ 

مدھم لہجے میں جیسے احتجاج کیا گیا تھا، اور اپنی صفائی دی گئی تھی۔ 

”جب تم سے چھین لیا جائے گا تب تمہیں احساس ہوگا_!!“کیونکہ احساس تب ہوتا ہے جب چھین لیا جاتا ہے__ لفظوں میں عجیب سی آنچ تھی_ اسکا دل زور سے دھڑکا تھا__ 

اچانک اسکے چاروں طرف گہرا دھواں پھیلنا شروع ہوا تھا_ وہ جیسے جا رہا تھا یا جا چکا تھا_ کیونکہ اسکے دل کی دھڑکن معمول پر آگئی تھی اور ایسا غیر معمولی چیز کے چلے جانے سے ہوا تھا_!! 

”بات سنو ابھی جانا مت__“ 

وہ جیسے چلائی تھی۔ مگر سب کچھ دھندلا ہوگیا تھا_ وہ واقعی جاچکا تھا__ 

اسے ایک جھٹکا لگا تھا_ اور وہ جیسے ہوش میں آئی تھی_ 

”کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ اس اجڑی اجاڑے دار دھند میں تنہا کیوں بیٹھی ہیں۔ آپ بیمار ہو جائیں گی__!! 

وہ کیوں ہمیشہ آدھی ادھوری باتیں کرتا ہے کیوں مجھے بے چین کرتا ہے __ اور اس ویران باغ میں وہ کیسے پہنچی۔ کیسے؟؟ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ 

سامنے ایک عورت کھڑی تھی۔ _ اسے وہ عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی_ 

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ جیسے دم توڑ گئے تھے_ لب بس پھڑپھڑا کر رہ گئے تھے__ 

”شکریہ“ 

وہ کانپتی آواز سے کہتی اپنی گھر کی طرف بڑھ گٸی تھی__

شاید وہ محسوس ہی نہیں کر پائی تھی اسکی سبز آنکھوں میں نمی ابھری تھی_پھولوں کی طرح یہ نازک کلی مرجھا گئی تھی۔ وہ لڑکی ٹوٹ گئی تھی۔ 

اور جب انسان سے چھین لیا جاتا ہے اسے احساس واقعی تب ہوتا ہے_ اور جب کوٸی آپکے ناچاہنے کے باوجود چھوڑ کر چلا جاتا ہے تب حالت ایسی ہی ہوتی ہے_ 

وہ پراسرار اجنبی اس مرجھائی ہوئی نازک کلی کو ہر جذبے سے روشناس کروا رہا تھا_!! 

اور وہ اپنی جھیل جیسی سبز آنکھوں میں نمی لے کے نیلے آسمان کو دیکھ کے نا جانے کیا سوچتی ہے۔لب خاموش ہیں۔اور بے شک خاموشی بہترین زبان ہے رب سے گفتگو کرنے کی!! اور پھر اس کے دل سے دعا نکلتی ہے۔

جو میری روح کو تو سکون دے 

مجھے ایسا تو خیال دے 

میرا کرب مسلسل ہے عروج پر 

تو ہی کوئی رستہ نکال دے 

میری شدت تشنگی کو مٹا دے 

تو میری وحشتوں کو زوال دے 

تیرا نور مجھے پارسا کرے 

مجھ کو تو ویسا ڈھال دے 

تجھ سے میری اختلاط ہو پکی 

مجھ کو تو ایسی مثال دے 

میں لکھ سکوں تیری ذات پہ 

میرے قلم کو تو ویسا کمال دے 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -