ہاتھ صاف کرنے کے لیے سینیٹائزر کے زیادہ استعمال کا انتہائی خطرناک نتیجہ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے بتادیا، خبردار کردیا

ہاتھ صاف کرنے کے لیے سینیٹائزر کے زیادہ استعمال کا انتہائی خطرناک نتیجہ تازہ ...
ہاتھ صاف کرنے کے لیے سینیٹائزر کے زیادہ استعمال کا انتہائی خطرناک نتیجہ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے بتادیا، خبردار کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے ہینڈ سینی ٹائزرز اور ہینڈ جیلز کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے لیکن اب ایک برطانوی ماہر نے اس کے متعلق انتہائی تشویشناک انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف لنکن کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریو کیمپ کا کہنا ہے کہ ہینڈ سینٹی ٹائزرز اور الکوحل ہینڈ جیلز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ایک تباہ کن ’سپربگ‘ (Superbug)پیدا ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سپربگ کو ’ارمجدون‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ سپربگ پیدا ہو گیا تو دنیا ایک قیامت صغریٰ سے دوچار ہو جائے گی۔

برٹش انسٹیٹیوٹ آف کلیننگ سائنس کے سائنٹیفک ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی فی الحال کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ ہینڈ سینی ٹائزرز اور ہینڈ جیلز کورونا وائرس کو ختم کر دیتے ہیں مگر ہماری تحقیق میں ان کا یہ نقصان سامنے آیا ہے کہ ان کے زیادہ استعمال کی وجہ سے باقی وائرسز اور بیکٹیریا طاقتور ہو رہے ہیں۔ ان میں ان جراثیم اور وائرس کش ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ یہ ہینڈ سینی ٹائزرز اور ہینڈ جیلز ان پر بے اثر ہو جائیں گی۔ ڈاکٹر اینڈریو نے لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہینڈ سینی ٹائزرز وغیرہ صرف اسی صورت میں استعمال کرنے چاہئیں جب انہیں صابن اور پانی میسر نہ ہوں۔ ہینڈ سینی ٹائزرز آپ کا آخری آپشن ہونے چاہئیں۔ اگر ہینڈ سینی ٹائزرز اور ہینڈ جیلز کا زیادہ استعمال جاری رہا تو دنیا کے ایک اور خوفناک سپربگ سے دوچار ہونے کا خطرہ بڑھتا چلا جائے گا۔

مزید :

تعلیم و صحت -