اپنا تشخص خراب نہ کریں!! 

اپنا تشخص خراب نہ کریں!! 
اپنا تشخص خراب نہ کریں!! 

  

عام تاثر یہی ہے کہ عمرانی حکومت کا کلہ مضبوط ہے سرکار مخالف جلسے جلوسوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ورنہ ظاہری صورتحال تو یہ ہے کہ عوامی سطح پر گھیرا تنگ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ وکلاء احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ شروع ہو چکی ہے۔پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) پھر متحرک ہو گئی ہے۔ کراچی کا جلسہ عام پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر بھی بھرپور دکھائی دیا۔ وکلاء نے اپنی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں ملتان میں ملک گیر کنونشن کیا۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وسیع ہال میں ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء رہنما موجود تھے۔ جنوبی پنجاب کی تقریباً سبھی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کی نمائندگی موجود تھی۔ مقررین کا لب و لہجہ تندو تیز تھا۔ توپوں کا رخ اعلیٰ عدلیہ میں خلاف میرٹ تعیناتیوں کی طرف تھا اس لئے وکلاء تحریک سے سردست حکومت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں البتہ اگر حکومت نے اپنی کسی بیوقوفی سے وکلاء کے ساتھ متھا لگا لیا تو بپھرے ہوئے وکلاء حکومت کو ہی نشانے پر لے لیں گے اور کالا کوٹ اور کالی ٹائی حکمرانوں کے لئے شامت بن سکتے ہیں۔ اس وقت تو ان کا پورا احتجاج سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں خلاف میرٹ تعیناتیوں کے حوالے سے ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ تعیناتیوں کے نظام سے متعلق آئینی ترمیم ختم کر کے پرانا نظام بحال کیا جائے۔ ملتان کے کنونشن سے سندھ بار کی طرف سے گزشتہ کنونشن میں منظور کردہ تمام قراردادوں کی توثیق کی گئی اور مزید قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں جن میں کہا گیا کہ (1) کسی بھی غیر آئینی اقدام پر بارز اپنا آئینی فریضہ پورا کرتے ہوئے آواز بلند کریں گی  (2) اعلیٰ عدلیہ میں خلاف میرٹ تعیناتیوں کی مذمت کرتے ہیں (3) مطالبہ کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتیاں الجہاد ٹرسٹ کے فیصلے کے مطابق میرٹ پر کی جائیں (4) اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتیوں کے لئے شفاف طریقہ اپنایا جائے۔ (5) طویل عدالتی تعطیلات کا سلسلہ ختم کیا جائے (6) عدالتوں کے دروازے ہمہ وقت سائلین پر کھلے رکھے جائیں۔ (7) زیر التوا کیسز نمٹانے کے لئے مؤثر مکینزم تیار کیا جائے (8) عدلیہ سمیت ہر کسی کے احتساب کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ (9) ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کی دوسرے شعبہ جات میں تعیناتی کو روکا جائے۔ یہ جج کے وقار کے منافی اور شفاف انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ (10) 9 ستمبر کو اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کو کامیاب کرایا جائے گا۔ 

ان تمام مطالباتی نکات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلاء کی مخاطب صرف حکومت نہیں بلکہ ہر وہ شخصیت اور جماعت ہے جس کی نمائندگی پارلیمان میں ہے عدالتی تعیناتیوں کے نظام میں جو تبدیلی وکلاء چاہتے ہیں وہ آئینی ترمیم سے ہو سکتی ہے۔اس طرح وکلاء کا مطالبہ جوڈیشل کمیشن سے ہو سکتا ہے۔ یوں فی الحال وکلاء کی لڑائی براہِ راست حکومت سے نہیں ہے۔ البتہ اگر وکلاء سڑکوں پر نکل آئے تو انتظامی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔ اس میں دوسری سیاسی و غیر سیاسی قوتیں کود کر حکومت کے لئے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو کراچی کا جلسہ اس کا حوصلہ تو بڑھا دے گا مگر پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی میں شروع ہونے والی لفظی چھیڑ چھاڑ سے  کسی حکومت مخالف متحدہ تحریک کے آگے بڑھنے کے امکانات کم  ہو جائیں گے۔ کراچی میں ایک طویل وقفے کے بعد اپوزیشن اچھا پاور شو کرنے میں کامیاب تو رہی ہے مگر اس میں دو باتیں عوامی حلقوں میں دلچسپی سے دیکھی جا رہی ہیں۔ ایک تو جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ انس نورانی کی دھواں دھار تقریر تھی اس سے پہلے کبھی ان کو اس پر زور عوامی انداز میں تقریر کرتے نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے بظاہر تو میلہ لوٹ لیا لیکن ایک مسئلہ بھی پیدا کر دیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا ہے اب اس کا جواب جیالوں کی طرف سے آئے گا جو جارحانہ ہوگا۔

پھر اس کا جواب الجواب ہوگا یوں اگر پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کا کوئی امکان تھا تو وہ انس نورانی کی تقریر نے معدوم کر دیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم اور پی ایس پی (پاک سر زمین پارٹی) کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا وہ تو کراچی میں سیاست کرنے کے لئے شائد ضروری ہو مگر باقی مصالحہ ذرا تیز ہو گیا ہے۔ نتیجہ تو بھگتنا پڑے گا دوسرے قائد مسلم لیگ (ن) میاں نوازشریف کا ویڈیو لنک پر خطاب تھا۔ گزشتہ جلسوں میں میاں صاحب نے اپنی تقاریر میں جس آتش فشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمرانوں اور اداروں کو نشانے پر لیا اس سے ان کی جماعت کا ٹمپو کہیں سے کہیں پہنچ گیا اور ایک روائتی طور پر مرنجاں مرنج پارٹی مجاہدانہ انقلابی روپ دھارتی نظر آئی۔ کراچی میں مگر ”بدلے بدلے میری سرکار نظر آئے“ بعض مہربانوں نے تو ان پر وہی پھبتی کس دی جو دوسروں کے لئے مخصوص تھی کہ ”سافٹ ویئر تبدیل کر دیا گیا ہے“ اس کا ناتہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پارٹی کے نائب قائد میاں شہباز شریف کی مختلف اہم شخصیات سے خفیہ ملاقاتوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے جب پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے راہیں جدا کی تھیں تو اس کے بارے میں کہا جانے لگا کہ اس کی بات بن گئی ہے اور اگلی باری اس کی ہے خود پیپلزپارٹی کے حلقوں نے بھی یہ تاثر زائل کرنے کی بجائے اس کو پکا کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور پنجاب کی بعض شخصیات کی شمولیت سے یہی سمجھا گیا کہ ہوا کا رخ پہچاننے والے ”سیاسی مرغانِ باد نما“ کو اشارہ مل گیا ہے اب بلاول بھٹو زرداری کی لاٹری لگ گئی ہے۔

اب نیب بھی ڈھیلی پڑ جائے گی اور مقدمات بھی لٹک جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تاثر کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) بھی اپنی بات بن گئی ہے۔ کے پوسٹر لگانا چاہتی ہو اس کے لئے ملاقاتوں کی خبریں پھیلائی اور لہجوں میں نرمی دکھائی جا رہی ہو مسلم لیگ (ن) یوں بھی پنجاب کی پارٹی سمجھی جاتی ہے اور پنجاب پر بڑا پکا الزام ہے کہ اس کے انتخابی پرندے حالات کے مطابق پرواز بھرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ حالات پراپیگنڈہ سے بھی پیدا کئے جاتے ہیں اور ماضی میں مسلم لیگ (ن) اس کا استعمال کامیابی سے کرنے کی مہارت دکھا چکی ہے۔ تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اب پالیسی میں فرمانبرداری لانے سے مسلم لیگ کو سیاسی محاذ پر فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ناراض نامعلوم تو راضی نہ ہوں اور عوام کی ہمدردیاں جاتی رہیں۔ ”خدا ہی ملا نہ وصال صنم“ والا معاملہ ہوا تو میاں صاحبان کہاں کے رہیں گے؟ ڈاکٹروں اور وکیلوں کے احتجاج کا رخ دیکھ لیں۔ ہو سکتا ہے کہ احتجاجی تحریک کی قیادت کا موقع مل جائے اور عوام کی پرجوش حمایت بند دروازے کھول دے۔ سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اپنا تشخص خراب نہ کریں۔

مزید :

رائے -کالم -